Book Name:Ramazan Kesy Guzarain
مرتبہ قرآنِ مجیدختم کیا کرتے جبکہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں ہر تین راتوں میں ایک ختم کِیا کرتے اور آخری عشرہ کی ہررات ایک قرآنِ پاک ختم کرتےتھے۔ ([1]) (5) حضرت سعد بن ابراہیم زُہری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں اکیسویں ، تیئسویں ، پچیسویں ، ستائیسویں اور اُنتیسویں کواس وقت تک افطارنہ کرتے ، جب تک قرآنِ کریم ختم نہ کرلیتے ، مغرب و عشا کے درمیان اُخْروی معاملات میں غور و فکر کرتے رہتے اور اکثر افطار کے وقت مساکین کو بُلاتے تاکہ وہ بھی ان کےساتھ کھائیں۔ ([2])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہم نے ماہِ رَمَضان میں تلاوتِ قرآنِ پاک سے مُتَعلِّق بزرگانِ دِین کے معمولات سُنے اب ذرا ماہِ رَمَضان میں اِن مُبارَک ہستیوں کی عبادت کا حال بھی سُنئے ، چُنانچہ
ایک بزرگ حضرت ابو بکر رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہفرماتےہیں : ہم رَمَضان کی راتوں میں عبادت کرکے واپس آتے تو خُدّام( ملازموں)سےجلدکھانا لانےکو کہتےاس خوف سےکہ کہیں فجرطلوع نہ ہوجائے۔ ([3])
حضرت ابراہیم بن اَدہم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکے بارے میں منقول ہے : آپ رَمَضان