Book Name:Ramazan Kesy Guzarain
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
ہفتہ واراجتماع کے حلقوں کا شیڈول(بیرون ملک) ، 8اپریل2021ء
(1) : سنتیں اورآداب سیکھنا : 5منٹ ، (2) : دعایاد کرنا : 5 منٹ ، (3) : جائزہ : 5منٹ ، کُل دورانیہ15منٹ
*بہتر یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں دو ، دو کر کے دس (10) سلام کے ساتھ ادا کریں۔ (دُرِّ مُختار ، ۲ / ۵۹۹ )*تراویح کی بیس(20) رکعتیں ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کی جا سکتی ہیں ، مگر ایسا کرنا مکروہِ( تَنْزِیْہِی)ہے۔ ( دُرِّمُختار ، ۲ / ۵۹۹)ہر دو رَکعت پر قَعْدَہ کرنا فرض ہے ، ہرقعدے میں اَلتَّحِیَّات کے بعد دُرُود شریف بھی پڑھے اور طاق رکعت( یعنی پہلی ، تیسری ، پانچویں وغیرہ )میں ثنا پڑھے اور امام تَعَوُّذ (یعنی اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ) وتَسْمِیہ(یعنی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ)بھی پڑھے۔ * جب دو دو رکعت کر کے پڑھ رہا ہے تو ہر دو رکعت پر الگ الگ نِیَّت کرے اور اگر بیس(20) رکعت کی ایک ساتھ نِیَّت کرلی تب بھی جائز ہے۔ (رَدُّالْمُحتار ، ۲ / ۵۹۷) *بِلا عُذر تراویح بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فقہائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نزدیک تو ہوتی ہی نہیں۔ (دُرِّمُختار ، ۲ / ۶۰۳)*تراویح مسجد میں جماعت سے ادا کرنا افضل ہے ، اگر گھر میں جماعت سے ادا کی تو جماعت چھوڑے کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔ (فتاویٰ ہندیۃ ، ۱ / ۱۱۶)عشا کے فرض