Ramazan Kesy Guzarain

Book Name:Ramazan Kesy Guzarain

تراویح کےمسائل و آداب

پیارے پیارےاسلامی بھائیو!آئیے! تراویح کے چند مسائل سنتے ہیں :

*تَراویح ہر عاقِل و بالغ اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کیلئے سُنَّت ِمُؤَکَّدہ ہے۔ (دُرِّمختار ، ۲ / ۵۹۶)اس کا تَرک(چھوڑنا)جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۲۸۸)* تَراویح کی بیس(20)رَکعتیں ہیں۔ امیرُ المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کے زمانےمیں بیس (20) رَکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں۔ (سنن کبریٰ للبیھقی ، ۲ / ۶۹۹ ، حدیث : ۴۶۱۷) *تَراویح کی جماعت سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ عَلَی الْکِفَایَہ ہے ، اگر مسجد کے سارے لوگوں نے چھوڑ دی تو سب نے  بُرا کیا اور اگرچند اَفراد نے جماعت سے پڑھ لی تو اکیلے پڑھنے والا جماعت کی فضیلت سے محروم رہا۔ ( ھدایه ، ۱ / ۷۰)*تَراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادِق تک ہے۔ عشا کے فرض ادا کرنے سے پہلے اگر پڑھ لی تو نہ ہو گی۔ (فتاویٰ ہندیۃ ، ۱ / ۱۱۵) *وترکے بعد بھی تَراویح پڑھی جا سکتی ہے ۔ ( دُرِّمُختار ، ۲ / ۵۹۷)جیساکہ بعض اوقات 29 کو چاند نظر آنے کی گواہی ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ہے۔ *مُستَحَب یہ ہے کہ تَراویح میں تہائی رات تک تاخیر کریں ، اگر آدھی رات کے بعد پڑھیں تب بھی کراہت(مکروہ) نہیں۔ ( دُرِّمُختار ، ۲ / ۵۹۸ )( لیکن عشا کے فرض اتنے مُؤَخَّر(Late ) نہ کئے جائیں )* تَراویح اگر فوت ہوئی تو اس کی قضا نہیں۔ ( دُرِّمُختار ، ۲ / ۵۹۸ )

( اعلان )

تراویح کے بقیہ مسائل وآداب تربیتی حلقوں میں بیان کیے جائیں گے لہٰذا ان کو