Book Name:Ramazan Kesy Guzarain
دامن تھامے رکھنا ہے ، ذکر و اَذکار اور کثرت سے اِسْتِغْفار کرنا ہے بالخصوص دیگر نیکیوں کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کی بھی کثرت کرنی ہے ، اے کاش! ہم ماہِ رَمَضان کے اکثر اوقات تلاوتِ قرآن میں مصروف رہ کر گزارنے میں کامیاب ہوجائیں ، ہمارے پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بارہا تلاوتِ قرآن کی ترغیب بھی دلائی اور اس کے فضائل بھی ارشاد فرمائے۔ آئیے دو (2) فرامینِ مصطفےٰ سنتے ہیں :
.1ارشادفرمایا : قرآن پڑھنے والا قِیامت کے دن آئے گا تو قرآن کہے گا : “ اے ربِّ کریم!اِسے جنّت کا لباس پہنا “ تو اُسے بُزرگی کا جنّتی لباس پہنایا جائے گا۔ قرآن عرض کرے گا : “ اے رَبِّ کریم!اِس میں اضافہ فرما “ تو اِسے کرامت کا تاج پہنایا جائے گا ، قرآن عرض کرے گا : “ اے رَبِّ کریم!اس سے راضی ہو جا “ تو اللہ پاک اس سے راضی ہو جائے گا۔ پھر قرآن پڑھنےوالے سے کہاجائے گا : “ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے دَرَجات طے کرتاجا اور ہرآیت پراسےایک نعمت عطاکی جائےگی۔ ([1])
.2ارشادفرمایا : اللہ پاک قرآن سُننے والے سے دُنیا کی مصیبتیں اور قرآن پڑھنے والے سے آخرت کی مصیبتیں دُور کر دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی ایک آیت سُننا سونے کے خزانے سے بہتر ہے ، اس کی ایک آیت پڑھنا عرش کے نیچے موجود