Book Name:Ramazan Kesy Guzarain
مسجد میں جماعت سے ادا کر کے پھر گھر یا ہال وغیرہ میں تراویح ادا کیجئے۔ اگر بِلا عُذرِشَرعی مسجد کے بجائے گھر یا ہال وغیرہ میں عشاکے فرض کی جماعت قائم کر لی تو واجب چھوڑنے کے گناہ گار ہوں گے۔ (اس کا تفصیلی مسئلہ رسالہ “ تراویح کے مسائل و فضائل “ کے صفحہ 49 تا 51 سے پڑھ لیجئے۔ )*نابالغ امام کے پیچھے صرف نابالغان ہی تراویح پڑھ سکتے ہیں۔ *بالغ کی تراویح(بلکہ کوئی بھی نماز حتّٰی کہ نفل بھی )نابالغ کے پیچھے نہیں ہوتی۔ *تراویح میں پورا قرآنِ کریم پڑھنا اور سُننا سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ عَلَی الْکِفَایَہ ہے ، لہٰذا اگر چند لوگوں نے مل کر تراویح میں ختمِ قرآن کا اِہتمام کرلیا تو بقیہ علاقے والوں کے لئے کفایت کرے گا۔ “ فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ نمبر 334 پر لکھا ہے جس کا خُلاصہ ہے : تراویح میں قرآنِ کریم ختم کرنا نہ فرض نہ سُنَّتِ عین ہے۔ “ اورصفحہ نمبر335 پرہےجس کا خُلاصہ ہے : تراویح میں ختمِ قرآن سنَّتِ کِفایہ ہے۔ * اگر شرائط والاحافِظ نہ مل سکے یا کسی وجہ سے ختم نہ ہو سکے تو تراویح میں کوئی سی بھی سورتیں پڑھ لیجئے۔ اگر چاہیں تو اَلَمْ تَرَ سے وَالنَّاس دو بار پڑھ لیجئے ، اِس طرح بیس (20) رکعتیں یاد رکھنا آسان رہے گا۔ (فتاویٰ ہندیۃ ، ۱ / ۱۱۸ ماخوذاً ) *ایک بار “ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ جَہر کے ساتھ( یعنی اُونچی آواز سے)پڑھنا سُنَّت ہے اور ہرسورت کی اِبتدا میں آہستہ پڑھنا مُستَحَبہے۔ مُتَأَخِّرِیْن ( یعنی بعد میں آنے والے فقہائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن) نے ختمِ تراویح میں تین(3) بار قُل ھُوَ اللّٰہ شریف پڑھنا مُسْتَحَب کہا۔ بہتریہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رکعت میں الٓمّٓ سے مُفْلِحُوْن تک پڑھے۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۶۹۴-۶۹۵)*اگر کسی وجہ سے تراویح کی