Dil Joi Kay Fazail

Book Name:Dil Joi Kay Fazail

کردارِ فاروقی پر عمل کیجئے!

سُبْحٰنَ اللہ!اتنی بلند وبالا شان و شوکت کے باوجود اَمِیْرُالمؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ دوسروں کی کیسی دل جوئی اور خیر خواہی کرتے تھے۔ اس واقعے میں ہمارے لیے بھی درس ہے کہ اگر ہمارا کوئی مسلمان بھائی  کسی تکلیف میں ہو یا کسی بھی معاملے میں اسے ہماری ضرورت ہو اور ہم اس کی پریشانی دور کرنےکی قدرت رکھتے ہوں تو ہمیں بھی حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی سیرت پرعمل کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کی دل جوئی کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے کردار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دوسروں کی خیر خواہی کرنی چاہیے۔ آئیے!دل جوئی کی رغبت پانے کےلیے مزید ایک واقعہ  سنتے ہیں ، چنانچہ

حضرت امام  حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  اور  مسکینوں کی دلجوئی 

                             ایک مرتبہ حضرت امامِ حَسَن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کچھ ایسےمسکینوں کےپاس  سےگُزرےجوراستے میں بیٹھے لوگوں سےمانگ رہےتھےاورزمین پر بِکھرے ہوئے روٹی کے بچے کھچے ٹکڑے کھارہے تھے ، آپ نےاُنہیں سَلام کیا ، اُنھوں نےسلام کاجواب دینےکےبعدعرض کی : اےنواسۂ رسول! ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے!جب اُنہوں نےکھانےکی دعوت دی توآپ نےفرمایا : اللہ بَڑائی چاہنےوالوں کوپسندنہیں فرماتا ، پھرآپ نےاُن کے ساتھ کچھ کھاناکھایا۔ جاتے ہوئے اُنہیں سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمھاری دَعوت قَبُول کی ، تم بھی میری دعوت قَبُول کرو۔ اُنھوں نے عرض کی : حُضُور!جیسےآپ فرمائیں ، آپ نےاُنہیں  اپنےپاس آنےکی دعوت دی ، جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ نے اُنہیں عُمدہ کھانا کھلایا اور خود بھی اُن کے ساتھ کھاناکھایا۔ (احیاء العلوم ، ۲ / ۴۵ ، بتغیر)