Book Name:Dil Joi Kay Fazail
بہرحال اس نے بتایا کہ اس کی زوجہ اُمید سے ہےاور بچے کی پیدائش کاوقت قریب ہے۔
اَمِیْرُالمؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ اپنے گھر تشریف لائےاور اپنی زوجَۂ محترمہ حضرت اُمِّ کلثوم بنت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سےفرمایا : کیا تم ثواب کماناچاہتی ہو ، اللہپاک نے اسے خود تم تک پہنچایا ہے؟ انہوں نےعرض کی : حضور! کیا بات ہے؟آپ نے فرمایا : ایک عورت کے بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے اور اس کےپاس کوئی بھی نہیں ہے۔ عرض کی : اگرآپ راضی ہیں تومیں چلتی ہوں۔ فرمایا : ٹھیک ہےتم ضروری سامان وغیرہ لے لو۔ جب وہاں پہنچے تو آپ نے اپنی زوجہ کو اندربھیج دیا اور خود اس شخص کے پاس بیٹھ گئے۔ اس سے فرمایا : آگ جلاؤ۔ اس نے آگ جلائی تو آپ نےہانڈی اس کے اوپر رکھ دی۔ جب ہانڈی پک گئی تو دوسری طرف بچےکی ولادت بھی ہوگئی ، آپ کی زوجہ(Wife)نے اندر سے آواز دی : اےامیر المؤمنین!اپنےساتھی کوبیٹےکی خوشخبری دے دیجئے۔ جیسے ہی اس شخص نے لفظ ’’اَمیرُالمؤمنین‘‘سُنا تو ڈر گیا اور عاجزی کے ساتھ تھوڑا سا پیچھے ہٹ کے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا : ’’جیسےبیٹھےتھےویسےہی بیٹھےرہو۔ پھرآپ نے ہانڈی اٹھاکر اپنی زوجہ کو دی اور فرمایا : خاتون کو پیٹ بھر کر کھلاؤ۔ پھر آپ نے اس شخص کوبھی کھانے کے لیے دیا اورفرمایا : کل صبح میرےپاس آنا میں تمہاری ضروریات کو پورا کردوں گا۔ جب وہ شخص صبح آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کے بچے کا وظیفہ(خرچہ)بھی مقرر کیا اور اسےبھی مال وغیرہ عطا کیا۔ (التبصرۃ ، المجلس التاسع والعشرون فی فضل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۴۲۰)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد