Book Name:Dil Joi Kay Fazail
1۔ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : کسی مسلمان کا دل خوش کرنا سو (100)(نفل)حج سے بہتر ہے۔
(کیمیائے سعادت ، ۲ / ۷۵۱)
2۔ حضرت خواجہ نظامُ الدِّین اولیا رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : قیامت کےبازار میں کسی سودے کی اتنی قیمت نہ ہوگی جتنی دل کاخیال رکھنےاوردل خوش کرنےکی ہوگی۔ (محبوب الٰہی ، ص۲۳۷)
3۔ حضرت مَکْحُول دِمِشْقِی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نےفرمایا : جوشخص کسی کی دل جوئی کرتے ہوئے فوت ہوا وہ شہید ہے۔
(حلیۃ الاولیاء ، ۵ / ۲۳۸)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے پىارے اسلامى بھائىو!دل جوئی کے بڑے فضائل ہیں ، یہی وجہ ہےکہ ہمارے بُزرگوں کےدلوں میں دوسروں کی دل جوئی اور دلداری کاجذبہ کُوٹ کُوٹ کربھراہوا تھا ، وہ مُقدَّس ہستیاں لوگوں کی دل جوئی کرتے اور اپنے دلوں کو راحت(Comfort)پہنچاتے تھے۔ آئیے! اللہ والوں کے دل جوئی کے واقعات اور ان سے حاصل ہونے والے نکات سنتے ہیں :
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ایک خاندان کی مدد
ایک رات اَمِیْرُالمؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ مدینہ ٔمنورہ کادورہ فرما رہے تھے کہ ایک خیمےپرنظر پڑی ، جب قریب گئے تو آپ کو کسی کےتکلیف میں مُبْتَلا ہونےکی آواز آئی ، اس خیمےکےباہرایک شخص بیٹھا تھا۔ آپ نےسلام کےبعد اس سے حال پوچھاتو معلوم ہوا کہ وہ خلیفۂ وقت سےہی ملنےآیا ہے ، البتہ اسےیہ معلوم نہیں تھاکہ خلیفۂ وقت اس کے سامنے کھڑے ہیں۔