Book Name:Dil Joi Kay Fazail
نرمی ، ہمدردی ، خیرخواہی اور مہربانی کرنے سمیت کئی بہترین اوصاف میں اپنی مثال آپ تھے۔
منقول ہے : ایک بار ایک صاحب نے اپنے بھانجے کی شادی میں کاظمی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو دعوت پیش کی ، اور نکاح پڑھانے کی درخواست کی۔ آپ نے منظور فرمالی۔ نکاح کے لیے عصر اور مغرب کا درمیانی وقت طے کیا گیا۔ بارات آنے میں کچھ دیر ہو گئی ، وہ صاحب مغرب کے بعد آپ کو لینے پہنچے تو آپ نے فرمایا : حاجی صاحب!آپ نے تو عصر کے بعد نکاح کا فرمایا تھا ، اب تو مغرب بھی ہوچکی؟اب میرے پوتے کا عقیقہ ہے اور مہمان آئے ہوئے ہیں۔ ان صاحب کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی : عالی جاہ! کچھ دیر ہو گئی ہے۔ (آپ کرم فرمائیں!) آپ نے فرمایا : اچھا چلو ، ابھی آپ نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے ، صاحبزادوں نے عرض کی : ابا جان!کپڑے تبدیل فرمالیں ، آپ نے فرمایا : ابھی آ جاتا ہوں۔ آپ نے اطمینان سے نکاح پڑھایا ، لمبی دعا مانگی۔ ان صاحب کا بیان ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو جلدی واپس جانا تھا کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے ، اس کے باوجود اتنا وقت عطا فرمایا کہ ہم سب کا دل بے حد خوش ہوگیا۔ (حیاتِ غزالیِ زماں ، ص۲۴۴ ملخصاً)
غزالیِ زماں اور غریبوں کی دلجوئی
اسی طرح ایک عالِم صاحب کا بیان ہے : ایک مرتبہ ملتان شریف شہر کے اندرونی علاقے سے ایک غریب آدمی حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا : میں نے بَرَکت حاصل کرنے کے لیے گھر میں محفلِ میلاد کا اہتمام کیا ہے ، آپ تشریف لایئےاور اپنا پیارا بیان ہمیں سنایئے!۔ علامہ کاظمی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس سے عشاء کے بعد کا وعدہ فرمالیا ، میں بھی آپ کے ساتھ ہولیا ، ہم عشاء کی نماز کے بعد اس