Dil Joi Kay Fazail

Book Name:Dil Joi Kay Fazail

حضرت فاروقِ اعظم   رَضِیَ اللہُ عَنْہ   کی شان

اے عاشقانِ صحابہ و اہل بىت!آپ نےسنا کہ اَمِیْرُالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نےکس طرح ایک پریشان حال کی مددفرمائی اور ان کی دل جوئی کا  سامان کیا۔ اپنی نگرانی میں آگ روشن کروائی ، اپنے ہاتھوں سے ہانڈی چڑھائی اور کھانے کا انتظام فرمایا ، پھر خود ہی کھانا نکال کر اپنی زوجَۂ محترمہ کےذریعے اس عورت کیلئے بھیجا۔ غور کیجئے!* یہ وہی فاروقِ اعظم  ہیں جن کے سائے  سےشیطان  بھاگتا تھا ۔ (بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب  مناقب عمر بن الخطاب ،  ۲ / ۵۲۶ ،  حدیث :  ۳۶۸۳مفہوماً)* جن کوحضورنبیِ کریم   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نےاپنی زبانِ مُبارک سےجنّتی ہونےکی خوشخبری دی ہے۔ (بُخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمر بن الخطاب ، ۲ / ۵۲۵ ، حدیث : ۳۶۷۹ مفہوماً)* جن کے بارے میں اللہ  کریم کے پیارے رسول   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے یہ دعا فرمائی ہے : “ اے اللہ کریم! عُمر بن خطاب کے ذَرِیْعے اِسلام کوعزّت عَطا فرما۔ “ (ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ،  فضل عمر ، ۱ / ۷۷ ، حدیث : ۱۰۵)* جویتیموں بے سہارا  لوگوں کی  خیر خواہی کیلئے راتوں کو جاگ کر  دورہ فرمایا کرتے تھے۔ * جن کی رائے کے مطابق قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ مُبارکہ اُتریں۔ (تاریخ الخلفاء ،  ص۹۶ ،  الصواعق المحرقۃ ،  ص۹۹)* جن کافرمان ہے : لَوْ مَاتَتْ شَاةٌ عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ ضَائِعَةً اگر نہر ِفُرات کے کنارے ایک بکری بھی بھوکی مرگئی لَظَنَنْتُ اَنَّ اللهَ تَعَالٰی سَائِلِي عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ تو مجھے خطرہ ہے کہ قیامت کے دناللہ  پاک مجھ سے اُس کے بارے میں سُوال فرمائے گا ۔ (حلیۃ الاولیاء ، عمر بن الخطاب ، ۱ / ۸۹ ، حدیث : ۱۴۱)* جو اکیلے ہزاروں میل لمبی سَلْطَنَت کے حکمران تھے۔ * جن کا نام سُن کر قیصر و کِسریٰ(یعنی رُوم اورایران کے بادشاہوں)پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔