Dil Joi Kay Fazail

Book Name:Dil Joi Kay Fazail

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بىت!غور کیجئے! نواسَۂ رسول ، جگر گوشَۂ بتول حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کتنے عمدہ اخلاق والے تھے ، باوجود بلند مرتبہ ہونے کے ان مسکینوں  اور غریبوں کی دلجوئی کی خاطر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور بدلے میں انہیں بھی اپنے گھر دعوت پر بُلایا۔ اس واقعے سے یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی صرف امیروں کے ساتھ نہیں بلکہ فقیروں کے ساتھ بھی پیاراور اُلفت و مَحَبَّت بھرا برتاؤ (Behave)کرنا چاہیے۔

حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کا مقام یہ ہے کہ وہ  جنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں ، وہ بلند مرتبہ صحابی ہیں ، وہ  اَہلِ بیت میں شامل ہیں ، وہ اَمِیْرُالمؤمنین حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے شہزادے ہیں ، وہ حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا  کے جگر کے ٹکڑے ہیں ، حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کا مقام یہ ہے کہ وہ دونوں جہاں کے مالک و مختار ،   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے نواسے ہیں ، مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے ان غریب اور مسکین لوگوں کی دعوت قبول فرمائی  جبکہ آج ہمارے معاشرے میں صورتِ حال کتنی عجیب ہوتی جارہی ہے۔ آج اگر کسی کم حوصلے والے کو کوئی دنیاوی منصب مل جائے تو اس کا مزاج آسمان پر چلا جاتا ہے ، اس معمولی دنیا کاعارضی عہدہ ملنے کے بعد بعض لوگوں کے زمین پر پاؤں نہیں جمتے ،  کپڑوں کے ساتھ بعض کی گردنیں بھی اَکڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں اپنے ساتھ رہنے والوں کویوں بھُلا دیا جاتا ہے جیسے ان کے ساتھ کبھی تعلق رہا ہی نہ ہو ، اپنے رشتے داروں کو  یوں نظرانداز(Ignore)کر دیا جاتا ہے جیسے ان سے کبھی جان پہچان ہی نہ رہی ہو ، اپنے دوستوں سے  ایسا رویہ رکھا جاتا ہے جیسے ملازم ہوں۔ افسوس!بعض نادان تو اپنے احسان کرنے والوں کو بھی آنکھیں دکھانے لگتے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ کہیں عہدہ ملنے کے بعد تکبر کی  سیڑھی دوزخ میں نہ گرا دے۔