Book Name:Dil Joi Kay Fazail
شخص کے مکان پر پہنچے تو وہ ہمیں اپنے گھر کی دوسری منزل پر لے گیا ، اس وقت صرف چار پانچ افراد جمع تھے۔ یہ تھا وہ اجتماع جس سے غزالیِ زماں نےبیان فرمانا تھا۔ حضرت غزالیِ زماں رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ماتھے پربل تک نہ آیا ، آپ نے تقریباً ایک گھنٹہ بیان فرمایا۔ وہ شخص غربت کی وجہ سے کچھ بھی نہ دے سکا ، لیکن آپ مکمل اطمینان اور سکون کے ساتھ واپس تشریف لائے اور راستے میں مجھ سے فرمایا : اگر میں اس وقت تقریرنہ کرتا تو اس شخص کی کتنا دل دکھتا اور اب وہ کتنا خوش(Happy)تھا۔ (حیاتِ غزالیِ زماں ، ص۳۹۶ملخصاً)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے پىارے اسلامى بھائىو! غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا دل جوئی کرنے کا جذبہ مرحبا!آج بھی اگرہمارے اندر مسلمانوں کی دل جوئی کو اپنانے کا جذبہ بیدار ہوجائے تو اس کے کئی طریقے ذہن میں آسکتے ہیں ، مثلاً * کسی مسلمان مریض کی عیادت ، * تعزیت کرنا * جنازے وغیرہ میں شرکت کرنا ، * کسی مسلمان کا نقصان ہو جانے پر اس سے ہمدردی کرنا ، * وقتاً فوقتاً اپنے مسلمان دوستوں اوررشتے داروں سے رِضائے الٰہی اور نیکی کی دعوت کے لیے رابطہ کرنا ، * مسلمان سے نرمی و بھلائی سے پیش آنا ، * مسلمان ضرورت مندوں کی مالی مددکرنا ، * مسلمان پریشان حالوں کی پریشانی دُورکرنا ، * مسلمان کو دعوتیں دینا اور کھانا کھلانا ، * اپنے آرام و سکون کی قربانی دے کر مسلمان کو آرام و سکون فراہم کرنا وغیرہ ، اَلْغَرَض! کسی بھی جائز طریقے سے شرعی احکامات کے مطابق اپنے مسلمان