Book Name:Dil Joi Kay Fazail
لہٰذا عقل مندی کاثبوت دیتے ہوئے عاجزی و انکساری اختیارکرنی چاہئے۔ یادرہے!اگرکوئی شخص دُنیوی منصب و دولت ملنے کےبعد قیمتی لباس پہنتاہے ، کسی وجہ سے لوگوں سےمیل جول کم رکھتا ہے ، تب بھی ہمیں اُس کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان ہی رکھناچاہئے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتےہیں کہ فُلاں شخص تو کوئی منصب ملنے کی وجہ سے بڑا مغرور ہوگیا ہے ، سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتا وغیرہ۔
یاد رکھئے!کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی کی ہمیں اجازت نہیں۔ بدگمانی گناہِ کبیرہ ، حرام اور دوزخ میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک ہمیں بدگمانی سے بچنے اور ہمیشہ عاجزی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آئیے! ترغیب کے لیے عاجزی کی فضیلت پر 2 فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنتے ہیں :
1۔ ارشادفرمایا : جواپنے مسلمان بھائی کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا ہے اور جو مسلمان بھائی پر بلندی چاہتا ہے اللہ پاک اسے پستی میں ڈال دیتا ہے۔ (معجم اوسط ، ۵ / ۳۹۰ ، حدیث : ۷۷۱۱)
2۔ ارشادفرمایا : اللہ پاک عاجزی کرنے والوں سے مَحَبَّت اور تَکَبُّر کرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ ( کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال ، ۲ / ۵۰ ، حدیث : ۵۷۳۱ ، الجزء الثالث)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے پىارے اسلامى بھائىو!ہم دِلجوئی کے واقعات سُن رہے تھے۔ آئیے!مزید واقعات سنتے ہیں ، چنانچہ
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بھی دل جوئی کے عادی تھے ، آپ زبردست عالمِ دین اور اللہ پاک کے ولی تھے ، آپ صحیح معنیٰ میں اخلاقِ نبوی کا عملی نمونہ تھے ، غریبوں کا خیال رکھنے ،