Book Name:Dil Joi Kay Fazail
اپنے ماننے والوں کی دینی ، دنیاوی ، اُخروی ، اخلاقی ، ظاہری ، باطنی ، گھریلو ، خاندانی اورمعاشرتی مثلاً مسلمانوں کے ساتھ اچھےاخلاق سے پیش آنے ، ان کےدکھ درد میں شریک ہونے ، ان کی خیر خواہی اوردل جوئی کرنےکی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ آج کےبیان میں ہم دل جُوئی کے فضائل کے بارے میں سُنیں گے۔ دل جوئی کی فضیلت پر احادیثِ طیبہ اور بزرگوں کے اقوال بھی پیش کئے جائیں گے۔ ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کس کی کیسی دِلجوئی کیا کرتے تھے ، اس کے بھی کچھ واقعات پیش کئے جائیں گے۔ کن کن کاموں کے ذریعے ہم مسلمانوں کی دل جوئی کر سکتے ہیں ، یہ بھی بیان کیا جائے گا۔ اے کاش! پورابیان اچھی اچھی نیّتوں اور مکمل توجہ کے ساتھ سُننا نصیب ہو جائے۔ آئیے!سب سے پہلے ایک واقعہ سنتے ہیں ، چنانچہ
دل جوئی کی بَرَکت سے کلمہ نصیب ہوگیا
“ حکایتیں اور نصیحتیں “ صفحہ نمبر455 پر لکھا ہے : ایک فقیر نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر روزہ رکھا۔ اس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا ، افطاری کےلیے خوراک کی تلاش میں وہ گھر سے نکلا ، لیکن افطاری کے لیے اسے کچھ بھی نہ ملا۔ پھروہ سُناروں (Goldsmiths)کےبازار میں داخل ہوا ، اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنی دُکان میں قیمتی چمڑے کے ٹکڑے بچھا کر ان پر سونے چاندی کے ڈھیر اُلٹ رہا ہے۔ یہ فقیر اس کے پاس گیا اورسلام کر کےکہا : جناب!میں ضرورت مند ہوں ، ممکن ہو تو مجھے ایک درہم قرض دے دیجئے ، مجھے اپنے گھر والوں کے لیے افطاری کا سامان خریدنا ہے ، میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔ یہ سب سنتے ہی اس سُنار نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور اس فقیر کو کچھ نہ دیا ، فقیر کا دل ٹوٹ گیا ، اس کے آنسوبہنے لگے ، وہ واپس آرہا تھا تو ایک غیر مسلم پڑوسی نےاسے دیکھ لیا اور دُکان سے