Book Name:Aaqa Kareem Ki Ummat Say Mahubat

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      میٹھی میٹھی ا سلامی بہنو! کائنات بہت بڑی ہے یہ سبھی کو پتا ہے مگر اس کی ایک حد تو ضرور ہے،زمین بہت کشادہ ہے یہ سبھی کو پتا ہے مگر اس کی ایک حد تو ضرور ہے،سمندر بہت بڑا ہے یہ سبھی کو پتا ہے مگر اس کے کنارے اور گہرائی(Depth)کی ایک حد تو ضرور ہے،ستاروں کی تعداد بہت زیادہ ہیں یہ سبھی کو پتا ہے مگر ان کی ایک حد تو ضرور ہے،مخلوقِ خدا کی تعداد بہت زیادہ ہے یہ سبھی کو پتا ہے مگر اس کی ایک حد ضرور ہےمگریادرکھئے!غمخوارِ اُمّت،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اپنی امت پر شفقت و  محبت ایک ایسے سمندر کی طرح ہے جس کی گہرائی اور کنارےکا ہم میں سے کسی کو بھی علم نہیں، آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ  واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اپنی اُمّت سے محبت و شفقت کا بیان قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے،چنانچہ پارہ11سورۂ توبہ کی آیت نمبر 128میں اللہ پاکارشادفرماتاہے:

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ ۱۱،التوبہ ۱۲۸)                        

 تَرْجَمَۂ کنز الایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہےتمہاری بھلائی کےنہایت چاہنےوالےمسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

بیان کردہ آیتِ مقدسہ کے تحت”تفسیرصِراطُ الجنان“میں لکھا ہے:یہ تو قرآنِ مجید سے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مسلمانوں پر رحمت و شفقت کا بیان ہوا،اب مسلمانوں پر آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت و شفقت کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

اُمّت  پر شفقت و رحمت کی چند مثالیں