Book Name:Madinay Ki Khasoosiyat

زبردست عاشقِرسول بزرگ کی  مدینے سے مَحَبَّت اور وہاں کے ادب کے بارے میں2 دلنشین واقعات سنتے ہیں ، چنانچہ

(1)مدینے سےمَحَبَّت کا انداز

       مالکیوں کےعظیم پیشوا حضرت سَیِّدُناامام مالِکرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  زبردست عاشقِ رسول اور مدینۂ مُنَوَّرہ کابہت زیادہ ادب(Respect)کرنےوالےتھے۔آپ مدینےمیں رہنےکےباوجودقضائے حاجت کے لیےحرمِ مدینہ سےباہرتشریف لےجاتےاورحُدودِحرم سےباہرجاکراپنی طبعی حاجت سے فارغ  ہوتے۔(بستان المحدثین ، ص۱۹)

عرصہ ہواطیبہ کی گلیوں سے وہ گزرے تھے

اس وقت بھی گلیوں میں خوشبو ہے پسینے کی

(2)امامِ مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہاور تعظیمِ خاکِ مدینہ

حضرت سَیِّدُناامام شافعیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں نےحضرت سَیِّدُنا امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پر خُراسَان یا مِصرکےگھوڑےبندھےہوئےدیکھے۔اُن سےزیادہ عمدہ گھوڑے میں نےکبھی نہ دیکھےتھے۔میں نےعرض کی:یہ کتنےعمدہ گھوڑےہیں۔توآپ نے فرمایا:میں یہ سب آپ کو تحفے(Gift)میں دیتا ہوں۔میں نےعرض کی:ایک گھوڑا آپ اپنے لئےرکھ لیجئے۔فرمایا:مجھے اللہ پاکسےحیا آتی ہے کہ اُس مبارَک زمین کو اپنے گھوڑے کے قدموں تلے روندوں،جس میں اللہ پاک کےمحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں۔(احیاء العلوم ،۱/۱۱۴ ملخصاً)

ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ     او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم  و سر کی ہے
اللہُ اکبر! اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک  حسرت ملائکہ کو جہاں وَضْعِ سَر کی ہے

(حدائقِ بخشش،ص۲۱۷)