Book Name:Madinay Ki Khasoosiyat

دُعائیہ اَشعار پڑھنے کا مَشْوَرَہ دِیا۔اُنہوں نے شَجَرے شریف سے دُعائیہ اَشعار کو بِلاناغہ پڑھنا شروع کردیا۔

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شَجَرَۂ عَالِیَہ قادِرِیَّہ رَضَوِیَّہ عَطَّارِیَّہ پڑھنے کی بَرَکت سے ا ُن کاوہ کام جو کئی سالوں سے نہیں ہوپارہا تھاحَیرت اَنگیز طور پر چند دنوں میں ہوگیا یعنی اُنہیں مَطْلُوبہ تعداد میں ویزے مِل گئے ۔

مُشْکِلیں حَل کر شَہِ مُشکِل کُشا کے واسِطے                    کر بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا کے واسِطے

(شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ،ص۶۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ!                                        صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یادِ مدینہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم مدینۂ پاک کے فضائل و خصائص اور وہاں کے مقاماتِ مُقَدَّسہ کا ذِکْرِ خَیْر سُن رہے ہیں۔یاد رہے!ذِکْرِ مدینہ عاشِقانِ رسول کے لئے باعِثِ تسکین ِ دل و جان ہے،دُنیا کی جِتنی زبانوں میں جس قدَر قصیدے مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ کے ہِجروفِراق(جُدائی)اور اِس کے دیدار کی تمنّا میں پڑھے گئے ہیں، اُتنے دنیا کے کسی اورشہر یا خِطّے(سرزمین) کے لئے نہیں پڑھے گئے،جسے ایک باربھی مدینے کا دِیدار ہوجاتاہے وہ اپنے آپ کو بَخت بیدار(خُوش قسمت)سمجھتا اورمدینے میں گُزرے ہوئے حَسین لمحات کو ہمیشہ کے لئے یاد گار قَرار دیتا ہے۔

وہ مدینہ جو کونین کا تاج ہے جس کا دِیدار مومن کی معراج ہے

زندگی میں خدا ہر مسلمان کو وہ مدینہ دکھادے تو کیا بات ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عاشقانِ مدینہ اِس کی فُرقَت(جُدائی)میں تڑپتے اور زِیارَت کے بے حد مُشتاق رہتے ہیں۔مدینہ کیا ہے اور مدینے سے عشق کیسا ہونا چاہئے؟مدینے سے جدائی کے وَقْت ہمارے جذبات کیسے ہونے چاہئیں؟اِس کے لئے بزرگانِ دِین کی سیرت اور اُن کا کردار ہمارے لئے لائقِ تقلید ہے۔چنانچہ