Book Name:Madinay Ki Khasoosiyat

       اِمامِ اہلسنّت،پروانۂ شمعِ رسالت مولاناشاہ اِمام احمدرضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِس ایمان افروز واقعے اورغلامانِ مُصطفےٰ کی بارگاہِ رِسالت میں شفاعت کی بھیک مانگنے کے لیے حاضری کوآیتِ قرآنی کی روشنی میں کتنے پیارے انداز میں منظرکشی فرمارہے ہیں:

مجرم بُلائے آئے ہیں جَاءُوْکَ ہے گواہ     پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دَین تھی                     دُوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے

اُف بے حیائیاں کہ یہ مُنہ اور تِرے حضور               ہاں تُو کریم ہے تِری خُو در گزر کی ہے

(حدائق  بخشش،ص۲۰۵،۲۲۶،۲۲۸)

اشعار کی مختصر وضاحت:(1) بارگاہِ مصطفےٰ میں مجرم گناہگاروں کو حاضری کی دعوت دی گئی ہے تو گناہگاروں کی توبہ ضرور مقبول ہوگی۔کریموں کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے دروازے پر آئے ہوئے سائل کو انکار کرکے واپس کردیں۔(2)منگتا نے جیسے ہی اپنا ہاتھ آپ کے سامنے پھیلایا تو آپ نے اس پر عطاؤں کی بارش فرمادی کیونکہ سوال بیان کرنے اور قبول ہونے میں صرف ایک ہاتھ کی دُوری ہے۔(3)افسوس! مجھ جیسا بے حیا،کالے منہ اور سیاہ باطن والا آپ کے سامنے حاضر ہونے کی جُرأت کیسے کرسکتا ہے مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کریم ہیں اور درگزرکرناآپ کی عادتِ مبارکہ ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!”جوروتاہےاس کا کام ہوتاہے“کی کھلی حقیقت بَیان کردہ حکایت سے ہمارےسامنے واضِح ہوگئی کہ اُس اَعرابی)دیہاتی)کاگِریہ و زاری کرنا،اُس کارونا،آقا کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں تڑپنا،نبیِّ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکو پُکارنا،حُضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہِ اَقدس میں  آنسو بہانا کام آ گیا اور غلاموں کے حال سےخبردار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ