Book Name:Lambi Umeedon kay Nuqsanat

فَسادکی(۲)لمبی اُمیدیں جڑ ہیں،غَفْلت وگُناہوں کی۔ انسان بڑھاپے میں بھی یہ سوچتا ہے کہ ابھی عُمر بہت ہے ،نیکیاں آئندہ کرلیں گے، اسی خیال میں رہتے ہیں کہ موت آجاتی ہے۔(مراۃ المناجیح،۷/۹۴)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب                                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

لمبی اُمیدسے کیا مراد ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح  ظاہری اَمراض  سے  بچنے کے لیے بُنیادی معلومات کا ہونا لازِمی ہے،اسی طرح باطنی اَمراض سےحفاظت کےلیے  بھی علم ضروری ہے،لہٰذا لمبی اُمید کی  یہ تعریف خُوب ذِہْن نشین  فرمالیجئے:جن چیزوں کا حُصُول بہت مُشکل ہو،ان کے لیے لمبی اُمیدیں باندھ کر زِندگی کے قیمتی لمحات ضائع کرنا، طُولِ اَمل یعنی لمبی اُمیدکہلاتا ہے۔

 (فیض القدیر،حرف الھمزۃ،۱ /۲۷۷، حدیث:۲۹۴)

لمبی اُمید  کے نُقصانات:

میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو!لمبی اُمیدسےمُتعلِّق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پارہ 14سُوْرَۃُ الْحِجر کی آیت نمبر 3 میں ارشاد فرماتا ہے:

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(۳)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان:انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور بَرتیں اور اُمید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں۔

صَدرُالافاضل حضرتِ علامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُرادآبادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں: اس میں تنبیہ ہے کہ لمبی اُمیدوں میں گرفتار ہونا اور لذّاتِ دُنیا کی طلب میں غرق ہو جانا، ایماندار کی شان نہیں ۔ حضرت علی مُرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :لمبی اُمیدیں آخرت کو بُھلاتی ہیں اور خواہشات  کا اِتّباع، حق سے روکتا ہے ۔