Book Name:Lambi Umeedon kay Nuqsanat

خُدایا بُرے خاتمے سے بچانا

پڑھوں کلمہ جب نکلے دم یاالٰہی

گناہوں کی عادت بڑھی جارہی ہے

کرم یا الٰہی کرم یاالٰہی

(وسائل ِبخشش ،ص۱۱۰،۱۱۱)

لمبی امید گناہوں کی جَڑہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے بادشاہ کولمبی اُمید نے کس طرح فانی دُنیا کی عیش وعشرت کا عادی بناکردُنیوی لَذَّتوں میں بَدمَسْت کردیا،اسی لمبی اُمید  کے جال میں پھنس کر وہ  قبر کی وحشتوں سے بے نیاز ،پُررونق محلات کی تعمیرات اور کھیل کُود کے آلات میں مشغول ہوا،دوستوں  کی بے فائدہ صحبت اورخادِموں کی خُوشامدانہ خدمت کے نَشے میں  قبر کی تنہائی  کویکسر بُھول بیٹھا،لیکن جیسے ہی  دل سے لمبی اُمیدوں کی آگ بُجھی ،غَفْلت کا اندھیرا دُور ہوا ،تو اُس کا دل توبہ کی جانب مائل ،گُناہوں سے بیزار اور  دُنیا سے اُچاٹ ہوگیا۔ واقعی  لمبی اُمیدوں کی آفت ،انسا ن  کو  دُنیا و آخرت میں کئی طرح  کی مصیبتوں میں مبُتلا کردیتی ہے ،نفس و شیطان اسے  تو بہ کی اُمید دِلاکر  اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں، یُوں بندہ گُناہوں پر دلیر  ہوجاتا ہے اور بعض اَوقات  گُناہوں پر دلیری  بُرے خاتمے کا سبب بن جاتی ہے ۔یادرکھیے !لمبی اُمید تمام  گُناہوں کی جڑ اور انسان کی تباہی  و بربادی کا ایک سبب ہے،چُنانچہ

نبیِ اكرم، نُورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كافرمانِ عاليشان ہے: اَوَّلُ فَسَادِهَا اَلْبُخْلُ وَالاَمَلُ یعنی اس اُمَّت کا پہلا فساد بُخل اور لمبی اُمید ہے۔(مشکاۃ المصابیح،۲/۲۶۰،حدیث:۵۲۸۱  )اس روایت کے تحت مُفسّرِ شہیر حکیمُ الاُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:یعنی مُسلمان کا پہلا گُناہ،جودُوسرے گُناہوں کی جڑ ہے وہ یہ دو(2)چیزیں ہیں :(۱)بخل جڑہے خُون ریزی و