Book Name:Faizan e Aala Hazrat

ایمان کی بربادی اور جہنّم کی حقداری کاسبب ہے ۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ   اپنی ساری زندگی نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی میں بسر کریں  کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی اِتباع یقینا ہماری زِندگی کے ہر گوشے میں ہمارے لئے مَشْعَلِ راہ ہے۔جہاں سُنَّت پر عمل کرنے میں ثواب ملتا ہے وَہیں اِس کے دُنیوی فوائد بھی کثیر ہیں ۔ اپنے دل میں عَظَمتِ مُصْطَفٰے کو بڑھانے، سینے میں اُلفتِ مُصْطَفٰے کی شمع جلانے ، نَمازوں اورسُنَّتوں کی عادت بنانے اور ذِکرودُرُود کی سَعادت پانے کےلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے  اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّاس کی بَرَکت سے نہ صرف ہمارے عَقائد واَعمال دُرُست ہونگے بلکہ ہماری دُنیا و آخرت بھی سنور جائے گی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان کا خلاصہ:

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!آج ہم نے سَیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی شان وعظمت کے حوالے سے  مدنی پُھول سُننے کی سعادت حاصل کی۔ سب سے پہلے ہم نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ایک ایمان افروز کرامت سُنی۔اس کے بعدمعلوم ہواکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت 10شَوالُ الْمُکرَّم 1272ھ میں ہوئی تھی ۔ پھر آپ کے نام کُنیَّت، لقب اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مبارک  حُلیے نیز آپ کے حیرت انگیز بچپن کی خُصوصیات کے معلوم ہوئیں کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بولنا شروع کیا تو زبانِ مُبارک  سے بالکل صاف الفاظ اَداہوتے تھے ،صرف ساڑھے چار سال کی عُمر میں ہی قرآنِ پاک ناظرہ ختم فرمالیا اور چھ سال کی عُمر میں رَبیعُ الْاَ  وّل کے موقع پر ایک  بہت بڑے مَجْمع کے سامنے کم و بیش دو گھنٹے کی تقریر فرمائی۔ بالغ ہونے سے پہلے ہی نمازِ باجماعت کی پابندی کرنا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا معمول