بے روزگاری (قسط:1)

بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جو بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے اگر نوجوانوں کو اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ بہتر روزگار بھی فراہم کیا جائے تو جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے مگر افسوس کہ بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کل جس طرف دیکھئے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کئی نوجوان تو نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر بھی چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا لیبل (Label) سجائے باہر آتے ہیں۔ بقول شاعر:

کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لئے

چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بے کاری ہے

خالق ورازق کی نافرمانیاں:بے روزگاری اور تَنگئِ معیشت کا اولین اور بنیادی سبب اللہتبارک وتعالٰی کی ذات پر توکل نہ کرنا ، قناعت بھری زندگی اختیار نہ کرنا اور اسی رب عَزَّوَجَل کی نافرمانیوں میں مشغول رہنا ہے جو بندوں کو رزق دیتا ہے  لہٰذا سب سے پہلے ان اَسباب کا اِزالہ کیجئے اور پھر دنیوی اَسباب کی طرف توجہ کیجئے۔ محنت نہ کرنا:بے روزگاری کے دنیوی اَسباب بھی بہت  ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ کئی لوگ بغیر محنت کے سب کچھ پالینے کے خواہاں ہوتے ہیں، وہ کمائی کا ایسا ذریعہ چاہتے ہیں جس میں انہیں ہاتھ پاؤں ہلانےنہ پڑیں اور ایک لمحے میں ترقی کے اعلیٰ درجے (Highest level) پر پہنچ جائیں نوکر چاکر ہاتھ باندھے ان کا حکم سننے کے منتظر کھڑے ہوں اور حکم ملتے ہی جی جان سے اس پر عمل در آمد شروع کردیں، ایسے افراد پر  ”بلی کے خواب میں چھیچھڑے“ کی مثال صادق آتی ہے۔ یقیناً ایسا ہونا بہت مشکل ہے لہٰذا خوابوں کی دنیا سے باہر آئیے اور محنت و لگن کو ہر کامیابی کی بنیاد سمجھئے۔صرف بڑے فائدے کو ترجیح دینا: کچھ نوجوانوں کے بےروزگار ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ پھر کسی چھوٹے موٹے کاروبار یا درمیانے درجے کی ملازمت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور خواہ مخواہ اپنے معیار کو اونچا کرکے کئی ایسے موقعے بھی ضائع کردیتے ہیں جو ان کی زندگی بدل سکتے تھے۔ ”بہت اچھے“ کی تلاش میں”اچھے“ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور پھر زندگی بھر کفِ افسوس(یعنی شرمندگی اور ندامت سے ہاتھ) ملتے ہیں۔ مایوسی:بے روزگاری کی ایک وجہ بہت جلد مایوس ہوجانا بھی ہے یاد رہے کہ سب کو تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد ایک اچھی ملازمت (Job) مل جائے قطعاً ضروری نہیں مثلاً جب کسی ادارے میں100 افراد مطلوب ہوں تو وہاں دس ہزار (10000) بےروزگار افراد کی درخواستیں جمع ہوجاتی ہیں اور نوکری ملنے والے100خوش نصیب افراد کے علاوہ سبھی ناکامی کا منہ دیکھتے اور حالات کو کوستے رہ جاتے ہیں۔ صبر وتحمل اور توکُّل کا سبق تو انہیں نصاب میں پڑھایا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ اس پر عمل کرتے، جب کئی مرتبہ کوشش کے باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔ پھر کئی عاقِبت نا اندیش (انجام کی فکر نہ کرنے والے) خودکُشی کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہوئے اس کارِ حرام کے مُرتَکِب ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور کچھ اپنی تمام تر محرومیوں کا قصور وار معاشرے کو سمجھ کر خونخوار درندے کی طرح بے قصور عوام پر چڑھ دوڑتے ہیں اور معاشرے میں جرائم کا بازار گرم کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ صبر کا دامن تھامے رکھتے اور اللّٰہ تعالٰی سے اس کے فضل اور رحمت کا سُوال کرتے ہوئے کوشش جاری رکھتے تو کچھ بعید (مشکل) نہ تھا کہ چند قدم آگے ہی منزل مل جاتی۔(بقیہ آئندہ شمارے میں۔۔۔۔۔)

Share

Articles

Comments


Security Code