عِلْمِ لَدُنِّی / ذوالحجۃ الحرام کے فضائل وبرکات

عِلْم (Knowledge)  کی دو قِسْمیں  ہیں:(1)علمِ کَسْبی اور (2)علمِ لَدُنِّی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی قُوَّت کو اِسْتِعْمال کرتے ہوئے بندہ اپنی کوشش سے  جس علم کو حاصل کرے وہ علم کَسْبی ہے، اور جو  علم  کسی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست بغیر استاد کے حاصل ہو علمِ لدنّی ہے۔(ماخوذازمرقاۃالمفاتیح،ج1،ص445)اس کے ذریعے قرآن و حدیث میں اُس معاملہ کی سمجھ بوجھ حاصل ہوجاتی ہے جس تک عام لوگوں کی رسائی(پَہُنچ)نہیں۔(شرح الزرقانی علی المواہب،ج9،ص123 ماخوذاً)

حضرت سیّدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالی فرماتے ہیں: یوں تو ہر علم رب عَزَّوَجَلَّ کی طَرَف سےملتا ہےلیکن بعض عُلُوم مخلوق کے سِکھانے سےحا صل  ہوتے ہیں توایسے علمِ کو علم لدنّی نہیں کہتے بلکہ علمِ لدنّی تو وہ ہوتا ہے جس کاظُہُور کسی خارِجی معروف سَبَب کے بغیر ہی قَلْب(دل) پر ہوجاتاہے۔(احیاء العلوم، ج3،ص30)علمِ لدنّی کی اقسام: علمِ لدنّی کی بہت سی قسمیں(Types) ہیں: وَحْی،اِلْہام، فِراست وغیرہ، وحی انبیا(علیہمُ السَّلام)سے خاص ہے، الہام اولِیاءُ اللہ سے،فِراست ہر مؤمن کو بقَدْرِ ایمان نصِیب ہوتی ہے، فراست و الہام وہی مُعْتَبر(Valid)ہے جو خِلافِ شَرْع نہ ہو، خلاف شرع ہو تو وَسْوَسہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ج1،ص185) عُلُومِ انبیا علیہمُ السَّلام: انبیاعلیہمُ الصّلوٰۃ والسَّلامکاعُمُومی یااکثرعلمِ مبارک ”علمِ لدنّی“ ہوتا ہے۔ حضرت خضر علیہ الصّلوٰۃ والسَّلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

(وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(۶۵)) ترجمۂ کنزالعرفان:”اور اسے اپنا علمِ لدنّی عطافرمایا۔“(پ15،الکھف:65) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور ہمارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں فرمایا: ( وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ- ) ترجمۂ  کنزالعرفان:”اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے۔ (پ5،النساء:113)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اورفرمایا: (اَلرَّحْمٰنُۙ(۱)عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲))ترجمۂ کنزالعرفان:”رحمٰن نے قرآن سکھایا۔“(پ27،الرحمٰن:2،1)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) لہٰذا دنیا کا کوئی علم والا نبی علیہ السَّلام کے برابر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ لوگ دنیاوی استادوں کے شاگرد ہوتے ہیں اور نبی علیہ السَّلام ربُّ العالمین عَزَّوَجَلَّ سے سیکھتے ہیں۔(صراط الجنان،ج 4،ص542)علمِ لدنّی کیسے ملتا ہے؟: رسولِ اکرم نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا اُبَی ابن کَعْب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: اے ابُوالْمُنْذِر! کیا جانتے ہو کہ تمہارے پاس کتابُ اللہ کی کون سی شاندار آیت ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ و رسول ہی جانیں۔ فرمایا: اے ابُوالْمُنْذِر! کیا جانتے ہو تمہارے پاس کتابُ اللہ کی کون سی شاندار آیت ہے؟ میں نے عرض کیا:” اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ “ (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) تو حُضور  اکرم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا:اے ابُوالْمُنْذِر!تمہیں عِلم مُبارک ہو۔ (مسلم، ص 315، حدیث: 1885) حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  اس کی شَرْح میں فرماتے ہیں: یعنی اے اُبَی! تمہیں یہ علمِ لدنّی مُبارک ہوکہ بغیر کتابیں پڑھے داتا کی دَین(یعنی عطا) اور راہبرِ کامل کی ایک نگاہ ِکرم سے تمہیں سب کچھ مل گیا۔(مراٰۃ المناجیح،ج 3،ص228، ملتقطاً) حضرت سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پہلی مرتبہ جواب نہ دیا اور دوسری مرتبہ دے دیا اس کی وجہ یہ ہے  کہ  ان دو سُوالوں کے درمیان کے وقفہ میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ان کے دل میں جواب بطورِ فیضان اِلْقاء فرمادیا، پھر پوچھا تو آپ نے وہ ہی القاء کیا ہوا جواب عَرْض کردیا۔ حضرات صوفیاء کبھی نظر سے کبھی سینہ پرہاتھ رکھ کر کبھی مُرِید کو سامنے بٹھا کر کبھی کوئی بات پوچھ کر فیض دیتے ہیں،ان طریقوں کی اصل یہ حدیث ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج 3،ص227، ملخصاً) جیسا  کہ شیخُ الشُّیُوخ حضرت سیّدناشہابُ الحق والدین عُمَر سُہَروَرْدیرضی اللہ تعالٰی عنہ سردارِ سِلسِلۂ سُہروردیہ فرماتے ہیں: حضرت سیّدنا غوثِ اعظم (سیّدعبدالقادرجیلانی)رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دَستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا  اور اللّٰہ تعالٰی نے میرے سینے میں فوراً علمِ لدنّی بھردیا، تو میں حضور (غوثِ پاک) کے پاس سے علمِ الٰہی کا گَوْیا(یعنی کلام کرنے والا) ہوکر اٹھا۔(ماخوذ اَز فتاویٰ رضویہ،ج21،ص390)

علم لدنی رَبّ تعالٰی کی خاص عطا ہے اور یہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بَنْدَگی اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی پیروی کرتے ہیں ۔(شرح الزرقانی علی المواہب،ج9،ص123) لہذا عام لوگوں کو چاہئے کہ علمِ لدنّی ملنے کا انتظار نہ کریں بلکہ محنت اورکوشش  کرکے علم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت  وفرمانبرداری اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ایَّام گزارتے رہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کو چاہےیہ نعمت عطا فرمادے گا۔

Share

عِلْمِ لَدُنِّی / ذوالحجۃ الحرام کے فضائل وبرکات

العلم نور

ذوالحجۃ الحرام کے فضائل وبرکات

حامد سراج عطاری مدنی

ذوالحجہ1438ھ

حرمت والے مہینے : قَمَری سال کا آخری مہینا “ ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام “ ہے۔ یہ اُن  مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں تخلیقِ آسمان و زمین کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے مُحترم بنایا۔ نبیِّ آخرالزمان  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : زمانہ گھوم پھرکر اپنی اسی حالت پر آگیا جس پر اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے اسے آسمان و زمین بنانے کے دن کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین تو  مسلسل ہیں “ ذوالقَعْدہ ، ذو الحجہ ، محرّم “ چوتھا ماہِ رجب۔ (بخاری ، 2 / 376 ، حدیث : 3197 )ذوالحجۃ الحرام کے چند فضائل : (1) اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   نے اس مہینے کے دس ایّام کی قسم اپنےپاکیزہ کلام میں ارشاد فرمائی ہے چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَ الْفَجْرِۙ(۱) وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ(۲) (پ30 ، الفجر : 1 ، 2)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  تَرجَمَۂ کنزُالایمان : اس صبْح کی قسم اور دس راتوں کی۔ حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ ان سے مراد ذو الحجہ کی پہلی دس راتیں  ہیں  کیونکہ یہ حج کے اعمال میں مشغول ہونے کے ایام  ہیں۔ (خازن ، 4 / 374) (2)حرمت والے سارے مہینے ہی محترم ہیں مگر یہ ان سب میں فوقیت رکھتا ہے۔ خُصوصیّت سے اس ماہ کے پہلے دس دن اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کو بہت محبوب ہیں۔ حضرت کعب  رضی اللہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں  کہ اللہ تعالی نے زمانے کو چُنا تو  سب سے زیاد ہ محبوب حرمت والے مہینوں کو رکھا ، ان مہینوں میں ذوالحجہ کو سب سے محبوب  رکھا اوراس ماہِ ذو الحجہ میں بھی  پہلے عَشَرے (دس دن)کو سب سے زیادہ محبوب فرمایا ۔ (لطائف المعارف ، ص467) (3)اس ماہ کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کا پانچواں رُکن “ حج “ اسی مہینے میں ادا کیا جاتا ہے۔ (4)یوں تو یہ سارا مہینا ہی رحمتوں اور برَکتوں کا خزینہ ہے لیکن خُصوصیّت کے ساتھ اس ماہ کے پہلے عشرے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کی بَرکھا (بارش) عُروج پر ہوتی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : اس ماہ کے پہلے دس دن میں کی جانے والی  عبادت دوسرے ایام کی بنسبت اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔ (ترمذی ، 2 / 191 ، حدیث : 758)(5)اسی ماہ میں “ یومِ عَرَفہ “ (۹ذوالحجہ)جیسا عظیم و مُقدَّس دن ہے جو کثیر  فضائل و برکات سے مُشرَّف ہے ،  حج کا رکْنِ اعظم وقوفِ عَرَفہ ہے اسی لئے یہ دن باعثِ شَرَف و فضیلت ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : اللہ تعالیٰ یومِ عرَفہ سے زیادہ کسی دن جہنَّمیوں کو آزاد  نہیں کرتا۔            (مسلم ، ص540 ، حدیث : 3288)

پیارے اسلامی بھائیو! خُصوصی اہمیّت و فضیلت کے حامل اوقات و لمحات کی ہر مسلمان کو قَدْر کرنی چاہیے اور انہیں عبادت و ریاضت ، توبہ و اِسْتِغْفار اور تَسْبِیح و تَحْمِید میں بَسَر کرنا چاہیےاور ان مبارک لمحات میں ہر طرح کی مَعصِیّت و نافرمانی سے بچنا چاہئے۔

Share

Articles

Comments


Security Code