حج کا ثواب/غریبوں کی قربانی

احادیثِ مبارکہ میں بہت سے ایسے اعمال بیان کئے گئے ہیں جن پر بآسانی عمل کر کے ڈھیروں ثواب کمایا جا سکتا ہے، یہاں ایسے ہی کچھ آسان اعمال ذکر کئے جارہے ہیں چنانچہ

ذِکرُ اللہ کی کثرت کیجئے: نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک حج کے ان دس دنوں سے افضل اور پسندیدہ کوئی دن نہیں لہٰذا ان دنوں میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ، اَﷲُ اَکْبَرُ اور ذِکرُ اللہ کی کثرت کرو۔ ان دنوں میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان دنوں میں اعمال کا ثواب سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔(شعب الایمان، ج3،ص356، حدیث:3758) غریب بھی قربانی کا ثواب کماسکتا ہے: قربانی صاحبِ استطاعت پر واجب ہے اور احادیثِ مبارکہ میں قربانی کرنے کے بہت زیادہ فضائل بیان ہوئے ہیں، جو غریب شخص قربانی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اسے بھی دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ بھی قربانی کا ثواب کما سکتا ہے چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: جو قربانی نہ کرسکے وہ بھی اس عَشَرہ (یکم تا دس ذو الحجۃ الحرام) میں حجامت نہ کرائے، بقرہ عید کے دن بعدِ نمازِ عید حجامت کرائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ (قربانی کا) ثواب پائے گا۔(مراٰۃ المناجیح،ج2،ص370 بتصرفٍ)ضروری وضاحت: چالیس دن کے اندر اندر ناخُن تراشنا ، بغلوں اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ضَروری ہے، 40دن سے زیادہ تاخیر گناہ ہے، لہٰذا اگر   کسی شخص نے 31 دن سے ناخُن نہ تراشے ہوں اور ذو الْحِجّہ کا چاندہوگیاتو وہ دسویں ذوالحجہ تک رک نہیں سکتا، کیونکہ 10ذوالحجہ کو اسے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،اب ایسا شخص اوپر ذکر کی گئی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ  اسے چاہئے کہ  10ذوالحجہ سے پہلے پہلے حجامت کروا لے تاکہ گناہ میں نہ جاپڑے۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ،ج 20،ص253،254)فرض کے بعد سب سے پیارا عمل: حدیثِ پا ک میں ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو زِیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔(المعجم الکبیر،ج11،ص59، حدیث: 11079)چنانچہ عید کے پُرمَسَرَّت موقع پر غریب مسلمانوں کو مت بھولئے، قربانی کا گوشت ان کے ہاں بھی بھیج کر ان کے دلوں میں خوشی داخل کرنے والی آسان نیکی ضرور کیجئے اور رَبّ تعالیٰ کی رضا پانے کی کوشش کیجئے۔ حج كا ثواب كمائیے: یوں تو حج پوری زندگی فقط ایک بار ہی صرف صاحبِ استطاعت مسلمان  پرفرض ہے جبکہ دیگر شرائط بھی پائی جائیں لیکن احادیثِ مبارکہ میں بہت سے ایسے اعمال بیان کئے گئے ہیں جن پر عمل کر کے عمرہ یا حج کا ثواب کمایا جاسکتا ہے مثلاً:٭ والدین کو رحمت بھری نظر سے دیکھنے پر حجِ مقبول کے ثواب كی بِشارت دی گئی۔(شعب الایمان،ج6، ص186، حدیث: 7856، ملخصاً)٭اسی طرح بہ نیَّتِ ثواب والدین کی قبر کی زیارت کو بھی حجِ مقبول کے برابر ثواب قرار دیا۔(نوادر الاصُول،ج1،ص73، حدیث:98، ملخصاً) ٭جو نَمازِ فجر باجماعت ادا کرکے ذکرُ اللہ کرتا رہے یہاں تک کہ آفتاب بُلند ہوجائے پھر دو رکعت (نماز اشراق) پڑھے تو اسے حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی،ج 2،ص100، حدیث:586)

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

                                                               

Share