ہر اُمتی کے حال سے آقا ہیں با خبر

باتوں سے خوشبو آئے

بَدگُمانی بدترین گناہ ہے

بَدگُمانی بَدترین گناہ ہے لیکن لوگوں کی غالب اکثریت (Majority) نہ اسے گناہ سمجھتی ہے اور نہ اس سے توبہ کرتی ہے۔ (ارشادِحضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُستری رحمۃ اللہ علیہ)(حدیقۃ ندیۃ،ج1،ص489)

علم کے4 دروازے

علم کا پہلا دروازہ خاموشی،دوسرا توجّہ سے سننا، تیسرا اس پر عمل کرنا جبکہ چوتھا دروازہ علم کو عام کرنا اور دوسروں کو سکھانا ہے۔(ارشادِ حضرت سیِّدُنا ضَحَّاک بن مُزَاحِم رحمۃ اللہ علیہ) (الجامع لاخلاقِ الرّاوی،ص 129)

چھوٹا اوربڑا کون؟

علم نہ رکھنے والا چھوٹا ہے اگرچہ بوڑھا ہو اور عالِم بڑا ہے اگرچہ کم عمر ہو۔(ارشادِ حضرت سیِّدُنا ابنِ مُعتَزّ رحمۃ اللہ علیہ)(الجامع لاخلاقِ الرّاوی،ص 214)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

حُقوقُ العباد دنیامیں ہی مُعاف کروالئے جائیں

یہاں(دنیا میں حُقوقُ العباد) مُعاف کرالینا سَہْل (یعنی آسان) ہے، قِیامت کےدن اس کی(یعنی معافی کی) اُمّید مشکل کہ وہاں ہر شخص اپنے اپنے حال میں گرفتار نیکیوں کا طلبگار بُرائیوں سے بیزار ہوگا، پَرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی بُرائیاں اس کے سر جاتے کسے بُری معلوم ہوتی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص463)

اندازِ بیان کی اہمیت

اُمورِشرم(یعنی شرم والی باتوں مثلاً میاں بیوی کے مخصوص معاملات، حیض و نفاس،غسل فرض ہونے کے اسباب وغیرہ) کا ذِکْر طرزِ بیان (یعنی بیان کرنے کے انداز و الفاظ) مختلف ہوجانے سے مختلف ہوجاتا ہے۔ایک ہی مسئلہ اگر حیاء کے پیرایہ میں بیان کیا جائے تو کنواری لڑکی کو اس کی تعلیم ہوسکتی ہے اور بےحیائی کے طور پر ہوتو کوئی مہذَّب آدمی مَردوں کے سامنے بھی بیان نہیں کرسکتا۔ (فتاویٰ رضویہ،ج29،ص60)

ہر اُمّتی کے حال سے آقا ہیں باخبر

(سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اپنی تمام اُمّت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو، اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ دِلوں میں جو خطرہ (یعنی خیال)گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج15،ص74)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن!

دُعا کس سے کروائی جائے؟

جس کے بارے میں یہ حُسنِ ظن ہو کہ اس کی دُعا قبول ہوتی ہے تو اس سے بےحساب مغفرت کی دعا کروانی چاہئے۔ (مَدَنی مذاکرہ،25رمضان المبارک1436ھ)

بَدگُمانی میں کوئی بھلائی نہیں

حُسنِ ظن میں کوئی شَر(یعنی بُرائی) نہیں اور بَدگُمانی میں کوئی خیر (یعنی بَھلائی)نہیں۔ (مدنی مذاکرہ،18رمضان المبارک1432ھ)

مسکرانا سنّت ہے

مسکرانا سنّت ہے،مسکرانے والوں کے لوگ قریب آتے ہیں، ہر وقت رونی صورت بنائے رکھنے والوں سے لوگ دُور بھاگتے ہیں۔ (مَدَنی مذاکرہ،25رمضان المبارک1436ھ)

Share

ہر اُمتی کے حال سے آقا ہیں با خبر

محبوبِ سبحانی، قُطبِ ربّانی، حُضور غوثِ پاک شیخ عبدُالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اللہ  کریم کی عبادت اور لوگوں کی اصلاح کرتے ہوئے گزری ہے۔ آپ طویل عرصے تک اپنے مَلفوظات (Sayings)، تالیفات(Books) اور بیانات(Speeches) کے ذریعے لوگوں کو گُمراہی سے بچاتے اور راہِ ہدایت پر گامْزَن فرماتے رہے، چنانچہ ”اَخْبَارُ الْاَخْیَار“ میں ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عمر مُبارَک کے 33سال دَرْس و تَدریس اور فتویٰ نَویسی میں بَسَر فرمائے، جبکہ 40 سال مخلوقِ خدا کو وَعظ و نصیحت  فرماتے رہے۔(اخبار الاخیار، ص9)

شیخ عبدُالحق محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں: حضرت شیخ (عبدُالقادر جیلانی ) رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی محفل ایسی نہ ہوتی جس میں غیرمسلم، آپ کے دَسْتِ مبارک پر دولتِ ایمان سے مُشرَّف نہ ہوتے اور نافرمان، ڈاکو، گُمراہ اور بَد مذہب اَفراد، آپ کے ہاتھ پر تائب نہ ہوتے۔ جب پانچ سو (500)سے زیادہ غیر مسلم اور لاکھوں سِیاہ کار آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر تائب ہو چکے اور بَداَعمالیوں  سے باز آچکے تھے تو دیگر لوگوں کے بارے میں کیاکہاجا سکتا ہے؟(یعنی ہر ایک ہی آپ کےفرامینِ مُبارکہ سے مُسْتَفِیْد ہوتا تھا) (اخبار الاخیار، ص13)

غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ  کے مبارک ملفوظات ہرعام و خاص کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں، آئیے آپ رحمۃ اللہ  علیہ  کے ملفوظات میں سے7فرامین ملاحظہ کرتے ہیں:

(1)رضائے الٰہی پر راضی رہئےایک مسلمان کو اللہ کریم کی رضا پر راضی رہنا چاہئے کہ نعمتیں بھی اُسی کی دی ہوئی ہیں اور آزمائشیں بھی اُسی کی طرف سے آتی ہیں، مگر انسان نعمتیں سمیٹتے وقت تو ربِّ کریم کی رضا پر راضی رہتا ہے لیکن آزمائش کے وقت شِکْوَہ و شکایت زبان پر لے آتا ہے۔ حُضور غوثِ پاک شیخ عبدُالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ربِّ کریم کی رضا پر راضی رہنے کے بارے میں فرماتے ہیں:(اے اللہ کے بندے!) اگر تیری قسمت میں نعمت کا ملناہے تو وہ تجھے ضرور مل کر رہے گی، چاہے تُو اس کو طلب کرے یا ناپسند کرے! اور اگر تیری قسمت میں مصیبت و تکلیف ہے اور تیرے لئے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے، تُوخواہ اسے ناپسند کرے یا اس سے بچنے کی دعا کرے تو بھی وہ مصیبت تجھ پر آ کر رہے گی۔ اپنے تمام اُمور اللہ  پاک کے حوالے کردے، اگر تجھے نعمتیں عطا ہوں تو شکر ادا کر اور اگر آزمائش کا سامنا ہو تو صبر کر۔(فتوح الغیب مع قلائدالجواہر، ص24 ماخوذاً)

(2)خوفِ خدا:پیارے اسلامی بھائیو!گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کے لئے خوفِ خدا کا ہونا بے حَد ضَروری ہے، کیونکہ جب تک خوفِ خدا نہیں ہوگا گناہوں سے بچنا اور نیک اعمال کرنا دُشوار ہے۔حُضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اے اللہ کے بندے! تُو اللہ کریم سے بےخوف نہ ہو بلکہ خوف کو لازم پکڑلے، اگر اللہ پاک جنَّت اور جہنم کو پیدا نہ فرماتا تب بھی اس کی ذات اس بات کی مستحق تھی کہ اس سے خوف کیا جائے اور اسی سے اُمید رکھی جائے۔ اس کی اطاعت کر، اس کے احکام بَجالا اور اس کی ممنوعات(یعنی منع کردہ کاموں) سے باز رہ، تُواس کی بارگاہ میں توبہ کر اور اس کے سامنے خُوب خُوب عاجزی اور گِریہ و زاری کر اور جب تُو صِدقِ دل سے توبہ کرے گا اور اَعمالِ صالحہ پر ہمیشگی اِختیار کرے گا تو اللہ  کریم تجھے نَفْع عطافرمائے گا۔(الفتح الربانی، ص75 ملخصاً)

(3)مبلغ کو باعمل ہونا چاہئے: اگر نیکی کی دعوت دینےاور بُرائی سے منع کرنے والا خود باعمل ہوگا تو اس کی بات میں بھی اثر ہوگا، لہٰذااپنی بات میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے ہمیں اپنی عملی حالت بھی دُرُست کرنی ہوگی۔ حُضور غوثِ پاک شیخ عبدُالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اِرشاد  فرماتے ہیں:خودعمل کئے بغیر، دوسروں کونصیحت کرنا، کچھ اہمیت (Importance) نہیں رکھتا۔ خودعمل نہ کرکے دوسروں کو نصیحت کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر دروازے کا گھر ہو اور اس میں ضروریاتِ خانہ داری بھی نہ ہوں اور ایسا خزانہ ہے جس میں سے کچھ خرچ  نہ کیا جائے اور یہ ایسے دعوے کی طرح ہے جس کا کوئی گواہ  نہیں۔ (الفتح الربانی، ص78 ملخصاً)

(4)فکرِآخرت:فکرِآخرت سے غافل لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئےحُضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ اِرْشاد فرماتے ہیں:(اے نادان  انسان!) ذراغورکر!جب اس فَنا ہونے والی دُنیا کا حُصُول بغیر محنت و مَشقّت کے ممکن نہیں ہے (یعنی دُنیا کی فانی  نعمتوں کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے) تو وہ چیز جو اللہ کریم کے پاس ہے (اورہمیشہ رہنے والی ہے) اس کا بغیررِیاضت ومحنت کے ملنا کس طرح ممکن ہے؟(الفتح الربانی، ص222ملخصاً)

(5)توبہ:انسان سے گُناہ ہوہی جاتے ہیں، لیکن اس پر ہمیشگی اِخْتیار کرلینا اور توبہ کو بالکل بُھول جانا بڑی بَدنصیبی ہے۔ پِیروں کے پِیر، روشن ضمیر،شیخ عبدُالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اے مسلمانو! جب تک زندگی کا دروازہ کُھلا ہے اس کوغنیمت سمجھو کہ وہ عنقریب  تم پر بند کردیا جائے گا ، جب تک نیک عمل کرنے کی قُدرت رکھتے ہو،اس کو غنیمت سمجھو اور جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اسے غنیمت سمجھواور اس میں داخِل ہوجاؤ۔(الفتح الربانی، ص29)

(6)خوابِ غفلت سے بیداری: موت سے غافل اور لمبی امیدیں لگائے رکھنے والے شخص کو حُضُورغوثِ پاک شیخ عبدُالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اے اللہ پاک کے بندے!اپنی اُمیدوں کے چراغ گُل کر! اپنی حرص کی چادرکو لپیٹ! اور دنیا سے رُخْصَت ہونے والے کی سی نماز پڑھا کر (یعنی ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھا کر) یاد رکھ! مؤمن کے لئے یہ مُناسِب نہیں ہے کہ وہ اس حال میں سوئے کہ  اس کی تحریر شُدہ وَصیّت اس کے سرہانے نہ رکھی ہو۔اے بندے! تیرا کھانا پینا، اہل و عیال میں  رہنا سہنا اور اپنے دوست اَحْباب سے مِلنامِلانا ایک رخصت ہونے والے شخص کی طرح ہونا چاہئے، اس لئے کہ وہ شخص کہ جس کی زندگی کی ڈور اور تمام اِختیارات دوسرے کے قبضے میں ہوں تو اس کو اسی طرح دُنیا میں رہنا چاہئے۔(الفتح الربانی، ص220ملخصاً)

(7)نفس کی ہلاکتوں سے کیسے بچیں:نَفْس کی ہلاکتوں سے بچنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے حُضُورِ غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نَفْس بُرائی کا ہی مشورہ دیتاہے، یہ اس کی فِطرت (Nature) ہے، ایک مُدّت کے بعد یہ اِصلاح پذیر ہوگا،تم پر لازِم ہے کہ ہر وقت نَفْس سے مُجاہَدہ کرتے رہو(یعنی اس کی مُخالَفت پر کمر بستہ رہو)۔ اپنے نفس سے ہمیشہ کہتے رہوکہ تیری نیک کمائی تجھے فائدہ دے گی اور تیری بُری کمائی تیرے لئے وَبال ثابت ہوگی، کوئی دوسرا تیرے ساتھ نہ تو عمل کرے گا اور نہ ہی اپنے اعمال میں سے کچھ دے گا۔ نیک اعمال کرتے رہنا اور نفس سے مُجاہَدہ کرنا بے حَد ضَروری ہے،تیرا دوست وہی ہے جو تجھے بُرائی سے روکے اور تیرا دُشْمن وُہی ہے جوتجھے گمرا ہ کرے۔ جب تک نَفْس نَجاستوں اور بُری خواہشات سے پاک نہ ہوگا،اسے اللہ کریم کی بارگاہ کا قُرب کیسے حاصِل ہوسکتا ہے؟ اپنے نَفْس کی خواہشات اور اُمیدوں کو ختم کردے، جبھی تیرا نَفْس تیرا مُطیع ہوگا۔ (الفتح الربانی، ص139، 140ماخوذاً)

اللہ کریم سے دُعا ہے کہ ہمیں غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کے فَرامین پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…اویس یامین عطاری مدنی

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی 

Share

Articles

Comments


Security Code