کیا اسلام بہت مشکل دین ہے

مشہور جملہ ہے کہ دین بہت مشکل ہے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ دین مشکل نہیں تھا لیکن مولویوں نے مشکل بنا دیا۔ کیا واقعی اسلام بہت مشکل دین ہے یا یہ ایک وسوسہ اور پروپیگنڈا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ پست ہمت آدمی کے لئے معمولی سا کام بھی مشکل ہوتا ہے جبکہ باہمت کے لئے بھاری کام بھی آسان ہوتا ہے، جیسی نیت ویسی مراد۔ مومن کو باہمت ہونا چاہیے، حدیث میں ہے: اللہ تعالٰی   بلند ہمتی والے کام پسند فرماتا ہے۔(معجم اوسط،ج 2،ص179، حدیث:2940)

اسلام کامعاملہ یہ ہے کہ انسان کی طاقت وقوت اور ہمت و حوصلہ کے اعتبار سے بنیادی طور پر اسلام آسان ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- (پ3، البقرۃ:286) اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے۔“ اور فرمایا: (وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-)(پ17، الحج:78) ”اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔“ اور فرمایا: (یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-)(پ2، البقرۃ: 185) ’’ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔‘‘ اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ ”بےشک دین بہت آسان ہے۔“ (بخاری،ج1،ص36، حدیث:39) مذکورہ آیات اور حدیث سے مجتہدین ِ کرام نے یہ اصول بنایا ہے: اَلْحَرَجُ مَدْفُوْعٌ ”حرج دور ہے یعنی اسے دور کیا جاتا ہے۔“ (المبسوط للسرخسی،ج 16،ص108) اور اَلْمَشَقَّۃُ تَجْلُبُ التَّیْسِیْرَ ”مشقت آسانی لاتی ہے۔“ (الاشباہ والنظائر،ص64) یعنی جہاں بہت مشقت آجائے تو وہاں شریعت آسانی پیدا کردیتی ہے۔

ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقت میں طاقت وہمت کے اعتبار سے شرعی احکام آسان ہیں اگرچہ بعض احکام دوسرے بعض کی نسبت یا بعض حالات میں مشکل ہوتے ہیں لیکن کبھی ایسے مشکل نہیں ہوتے کہ ناقابلِ برداشت ہوجائیں اور دنیا جہان کے اکثر کاموں میں حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہرکام کے لئے کچھ نہ کچھ ہمت، کوشش اور مشقت تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ اب رہا یہ کہ یہ کچھ نہ کچھ مشقت بھی بہت مشکل ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ آخر یہ مشقت دین کے معاملے میں ہی کیوں یاد آتی اور محسوس ہوتی ہے۔ اس سے کہیں بڑھ کر مشقت کا سامنا زندگی کے اکثر ضروری معاملات میں کرنا پڑتا ہے۔ آئیے! ذرا ان معاملات پر نظر دوڑائیں:

بچپن اور تعلیم دیکھ لیں، بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلے بیٹھنا، کھڑا ہونا، چلنا اور دوڑنا سیکھتا ہے پھر چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اسکول جاتا، محنت سے پڑھائی کرتا، اسکول سے واپسی پر ٹیوشن پڑھتا، وہاں یا گھر پر ہوم ورک کرتا، اسباق سمجھتا، یاد کرتا اور دن رات ایک کرکے امتحانات کی تیاری کرتا ہے۔ محنت کا یہ سلسلہ عموماً 12، 14 یا 16 سال جاری رہتا ہے۔ پھر اِس تعلیم میں بھی اگر سائنس، میڈیکل، انجیئنرنگ وغیرہ کے اسٹوڈنٹس کو دیکھیں تو مشقت کا حقیقی معنی پتہ چل جاتا ہے کہ نہ دن کا پتہ اور نہ رات کی خبر، بندہ ہے اور کتابیں، کالج کی دوڑ ہے اور پاس ہونے کی فریادیں۔ کیا یہ مشقت دین پر عمل کی مشقت سے کم ہے؟ نہیں نہیں، بہت زیادہ ہے۔

اس کےبعد نوکری دیکھ لیں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھے نوکری نہیں مل جاتی بلکہ اچھی نوکری کےلئے کئی جگہوں کے چکر لگانے اور دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ کبھی نوکری کی جگہ نہیں اور کبھی جگہ تو دس افراد کو رکھنے کی ہے لیکن انٹرویو کے لئے چار سو محنت مشقت سے پڑھے ہوئے امیدوار بیٹھے ہیں۔ انٹرویو کی بھرپور تیاری کے بعد بھی یا تو انٹرویو میں فیل ہو جاتے ہیں یا پاس ہونے کے باوجود ٹاپ ٹین میں نام نہ آنے کی وجہ سے نوکری سے باہر۔ اب دوبارہ وہی دفتروں کے چکر، افسروں کی خوشامدیں، رشوتوں کے لین دین پھر بھی لیلیٰ مقصود رسائی سے دور، قلب، محبوب نوکری کے عدمِ حصول سے مہجور اور صدموں سے چُورچُور۔ اگر پوچھیں کہ بھائی کیوں اتنی مشقت کرتے اور خواری اٹھاتے ہو تو جواب ملے گا کہ یہی ہے زمانے کا دستور۔ واہ! کہاں دین پر عمل کے لئے تھوڑی سی مشقت پر سینہ کوبی اور آہ و زاری اور کہاں نوکر بننے کی خاطر یہ ذوق شوق اور بےقراری۔ اب ہزار محنت اور کوشش کے باوجود نوکری مل بھی گئی تو کیا بیٹھے بٹھائے تنخواہ مل جاتی ہے؟ نہیں، وہاں بھی وقت کی پابندی، ماتحتوں کی کام چوری اور اوپر والوں کی سینہ زوری سب برداشت کر کے مطلوبہ نتیجہ دے کر ہی تنخواہ ملتی ہے ورنہ نوکری سے چھٹی۔

کاروبار کا معاملہ دیکھ لیں، کاروبار شروع کرنے میں مشکلات کے بیسیوں مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ نقصان ہوجائے تو کام تمام یا اس کے ازالے کے لئے دن رات محنت کرنی پڑتی ہے پھر جب پیسہ آ جاتا ہے تو دشمنیاں، حسد، بیماریاں، چوروں اور ڈاکوؤں کے خطرات بھی ساتھ ہی آتے ہیں لیکن دین کو مشقت سمجھنے والے دنیوی زندگی کے تھوڑے سے مزے کے لئے یہ ساری مشکلات برداشت کرتے ہیں۔

شادی دیکھ لیں، جب شادی کا مرحلہ آتا ہے تو شادی کے بعد چار دن کی چاندنی ہوتی ہے اور پھر آزمائشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اولاد نہ ہو تو طعنے، احساسِ محرومی اور اگلی شادی کی سوچ اور اگر اولاد ہو جائے تو ایک طرف ماں اس کے کھانے پینے، راحت و آرام کا خیال رکھ کر مشقت برداشت کرتی ہے اور دوسری طرف باپ دن رات ایک کرکےسردی گرمی، دھوپ بارش وغیرہ ہر طرح کے حالات میں بچے کو کھلانے کے لئے محنت کرتا ہے ۔

یونہی لائف اسٹائل کے لئے مشقتیں دیکھ لیں، اگر کسی آدمی نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہوکہ اسے اچھی گاڑی، رہائش کے لئے عالیشان بنگلہ چاہیے تو اسے گھر بیٹھے دولت نہیں مل جائے گی بلکہ بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی، راتوں کو جاگنا پڑے گا، گرمی سردی برداشت کرنا پڑے گی، محنت کرنی پڑے گی تبھی منزل پر پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ تمام مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، بغیر مشقت دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔

اب عرض ہے کہ جب زندگی مشقت اور جدوجہد کا دوسرا نام ہے تو اسلام بھی اسی زندگی کا حصہ بلکہ اس کی روح ہے اور اس عظیم روح یعنی اسلام پر عمل کرنے میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے امورِ حیات کی نسبت بہت کم مشقتیں رکھی ہیں مثلاً عبادات کو دیکھ لیں، نماز ایک ڈسپلن ہے جس کا دورانیہ پانچ نمازوں میں تقریباً ڈیڑھ سے اڑھائی گھنٹے ہیں لیکن اس کے مقابلےمیں فوج کے ڈسپلن میں اس سے کئی گنا زیادہ مشقت اٹھانی پڑتی ہے، یونہی کسی آفس میں کام کرنے میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی اور اس کے ڈسپلن کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ حیرت ہے کہ اُس سخت ڈسپلن اور مشقت پر کوئی کلام نہیں کرتا جبکہ ڈیڑھ گھنٹے کی نماز کی ادائیگی کو بہت بڑی مشکل کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔

اصل بات یہ ہے مشقت اٹھانے کا دار و مدار مقصد کے ساتھ لگن پر ہوتا ہے۔اچھی سواری، اچھی رہائش اور پرسکون زندگی کے حصول کی لگن چونکہ دل کی گہرائیوں میں موجود ہوتی ہے اس لئے ساری مشقتیں قابلِ برداشت ہوجاتی ہیں جبکہ آخرت کی ابدی زندگی، دائمی جنت کی اعلیٰ نعمتیں، رضائے الٰہی اور قرب ِ خداوندی کی لگن مَعَاذَ اللہ دلوں میں اُتنی راسخ نہیں ہے، اس لئے دین پر عمل کی محنت پہاڑ جیسی مشکل معلوم ہوتی ہے حالانکہ جنت کی دائمی نعمتیں اور دیدارِ الٰہی وہ اعلیٰ ترین مقاصد ہیں کہ کروڑوں زندگیاں تلواروں کے لاکھوں واروں پر کٹوا کٹوا کر قربان کردی جائیں تو بھی سودا مفت ہے۔ خلاصۂ  کلام یہ ہے کہ دین مشکل نہیں، پست ہمتی اور کم حوصلگی اسے مشکل بنا دیتی ہیں۔

اب رہی یہ بات کہ مولویوں نے دین کو مشکل بنادیا ہے، اس کا جواب اگلی قسط میں دیا جائے گا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری

٭…دارالافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،کراچی 

Share

Articles

Comments


Security Code