دل کو پیدا کرنے کا مقصد

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے ڈنمارک کوپن ہیگن (Denmark Copenhagen) کے اسلامی بھائیوں کی خدمتوں میں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

مَا شَآءَ اللّٰہ! حاجی عُبید رضا عطّاری مدنی اور رُکنِ شوریٰ حاجی اظہر عطّاری کے ساتھ آپ حضرات کی زیارت ایک ویڈیو کلپ میں ہوئی، جس میں حاجی عُبید رضا نے آپ حضرات کے مدنی کاموں کے تعلق سے بھی بتایا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یومِ تعطیل اعتکاف([1]) کی بھی نیتیں ہو رہی ہیں تو مدرسۃُ المدینہ بالغان پڑھانے کی بھی ترکیبیں بن رہی ہیں اور اِنْ شَآءَ اللہ عنقریب آپ حضرات فیضانِ جمالِ مصطفےٰ کے نام سے عالی شان مسجد بھی بنائیں گے، غالباً کوششیں بھی شروع ہوچکی ہوں گی، اللہ کریم آپ کی مدد کرے اور مددگار پیدا فرمائے، اٰمین۔خوب مدنی کام کرتے رہیں، آپس میں اتّحاد، اتفاق رکھیں اور آپس میں ناراضیاں نہ ہوں، اخلاق اچھا ہو، اگر کوئی اسلامی بھائی کوئی کمزور بات کہہ بھی دے تو دل بڑا رکھ  کر اس کو  برداشت کرلیں۔ ایسا نہ ہو کہ لڑ بھڑکر (اللہ نہ کرے) اپنے اپنے گھر کو چلے جائیں۔ کیونکہ شیطان نہیں چاہے گا کہ آپ دین کا  کام کریں یا آپ نیک بنیں، سنّتوں پر عمل کریں، نمازیں پڑھیں، مسجد بنائیں، مسجد کو آباد کریں، یہ شیطان کبھی بھی نہیں چاہے گا۔ لہٰذا سب مل جُل کر سگے بھائیوں کی طرح دین کی خدمت کرتے رہیں اور خشوع و خضوع کے ساتھ، دل جمعی کے ساتھ عبادت کریں، اللہ کرے خشوع و خضوع کے ساتھ نمازیں نصیب ہوں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مکتبۃُ المدینہ نے چھ سو صفحات پر مشتمل نئی کتاب ”فیضانِ نماز“ چھاپی ہے، اس کے صفحہ342سے کچھ مدنی پھول آپ کو پیش کرتا ہوں: امام شَرَفُ الدّین حسین بِن محمد طِیْبِی رَحْمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:دِل کو پیدا کرنے کا مَقْصَد صِرْف یہ ہے کہ وہ اللہ پاک کے لئے خُشُوع کرے تاکہ اس کے سَبَب سینہ کھل جائے اور دِل نُور ڈالے جانے کے قابِل ہوجائے، جب دِل میں خُشُوع نہیں ہوگا تو وہ سَخْت کہلائے گا اور سَخْت دلی سے پناہ مانگنا ضَروری ہے، اللہ کریم (پارہ 23،سُورۃُ الزُّمَر،آیت نمبر 22 میں) ارشاد فرماتا ہے:( فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-) تَرجَمۂ کنزُ الایمان: تو خَرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔(شرح الطیبی،ج5،ص210)

(حکیمُ الاُمّت) حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: عاجِز دل زَرخیر زمین کی طرح ہے جس میں پیداوار خوب ہوتی ہو اور سَخْت دل اس پَتْھریلے علاقے کی طرح ہے جس میں پھیلایا ہوا بِیج بیکار جاتا ہے۔(مراٰۃُ المناجیح،ج 4،ص60ملخصاً)

(ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:) جس دل میں اللہ (پاک) کے ذِکْر سے چَیْن، عذاب کے ذِکْر سے خوف، جنّت کے ذِکْر سے شوق، حُضور عَلیہِ السَّلام کے ذِکْر سے وِجْدان (یعنی قَلْبی لَذَّت) نہ پیدا ہو وہ سَخْت ہے، اللہ (پاک) اس سے بچائے۔(مراٰۃُ المناجیح،ج 4،ص59)

                آپ کا نام سنتے ہی سرکار کاش  دل مچلنے لگے جان ہو بے قرار(وسائلِ بخشش (مُرمَّم)، ص224)

میں نے آپ کا بہت قیمتی وقت لے لیا ہے، اللہ آپ کو خوش رکھے، سلامت رکھے، آپ سبھی کو بےحساب مغفرت سے مشرف فرمائے، میرے لئے بھی بے حساب مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔

نماز کی پابندی! کرتے اور کرواتے رہئے!

مدنی چینل!          دیکھتے رہئے!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد



    1تنظیمی طور پر اس سے مُراد یہ ہے کہ ہر ہفتے چھٹی کے دن (جمعہ/اِتوار) ہر نگرانِ حلقہ مُشَاوَرَت، نگرانِ علاقہ/شہر مُشَاوَرَت کے مشورے سے شہر کے اطراف یا کسی گاؤں میں جُمُعَہ تا عَصْر یا عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد میں اِعْتِکَاف کی ترکیب بنائیں۔(رسالہ یومِ تعطیل اعتکاف، ص14)

Share

Articles

Comments


Security Code