دلوں کی حالتیں

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ(۸۷) یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹)

ترجمہ: اور مجھے اس دن رُسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے، جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہو گا۔

                                                                                                                                                                   (پ19، الشعرآء:87-89)

ان آیات میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ذکر کی گئی ہے کہ اے میرے رب! مجھے قیامت کے اس دن رُسوا نہ کرنا جس دن سب لوگوں کو اٹھایا جائے گا، اس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے البتہ جو اللہ تعالیٰ کے حضور کفر، شرک اور نفاق سے سلامت دل کے ساتھ حاضر ہو گا تو اسے راہِ خدا میں خرچ کیا ہوا مال بھی نفع دے گا اور اولاد بھی۔

یہاں قلبِ سلیم یعنی سلامتی والے دل کی بات کی گئی۔ دل کی دنیا بہت وسیع ہے جس پر علما، اولیا اور صوفیا نے تفصیلی کلام کیا ہے کیونکہ ظاہر وباطن کی اصلاح، معرفت کا حصول، قُربِ الٰہی کی منازل تک رسائی اور تجلیات وانوارِ الٰہی کا مشاہدہ اِسی قلب کے نور وسلامتی پر موقوف ہے۔ کائناتِ دل کی وسعت کے بارے میں حضرت سلطان باہو عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں:

دل دریا سمندروں ڈُونگھے، کون دِلاں دیاں جانے ہُو

وچے بیڑے وچے جھیڑے، وچے ونجھ مہانے ہُو

چوداں طبق دِلے دے اندر، جتھے عشق تمبو ونج تانے ہُو

جو دل دا محرم ہووے باہو، سوئی رب پچھانے ہُو

خلاصۂ اشعار: دل دریاؤں اور سمندروں سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ کشتیاں، چپو اور ملاح سب اسی میں ہیں۔ چودہ طبق یعنی تمام کائنات اور تمام جہان دل کے اندر سمائے ہوئے ہیں اور انسانی قلب اللہ کریم کی جلوہ گاہ ہے لیکن ایسے عظیم صلاحیتیں رکھنے والے دل سے ربّ کو وہی پہچان سکتا ہے جو دلوں کی دنیا کے بھید جانتا ہے یعنی وہ مرشدِ کامل جو ساری منزلیں طے کر چکا ہو۔

دل اچھے بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کے دلوں کا بیان فرمایا ہے، برے دلوں كے متعلق فرمایا: ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری میں اور اضافہ کر دیا۔ (پ1، البقرۃ:10) ایک جگہ فرمایا: تو وہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے۔ (پ3، اٰلِ عمران:7) ایک جگہ فرمایا: اللہ نے ان کے دلوں پرمہر لگا دی ہے۔ (پ1، البقرۃ:7) ایک جگہ فرمایا: پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ (پ1، البقرۃ:74) ان آیات میں بُرے دلوں کو جن الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے، یہ ہیں: مریض دل، ٹیڑھے دل، مہر لگے ہوئے دل اور پتھروں جیسے یا اس سے بھی سخت دل۔ یہ سب بُرے اور خدا کی بارگاہ میں ناپسندیدہ دل ہیں۔

اور اچھے دلوں کے بارے میں فرمایا: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ (پ9، الانفال:2) ایک جگہ فرمایا: جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہو گا۔ (پ19، الشعرآء: 89،88) ایک جگہ فرمایا: کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کیلئے جھک جائیں۔ (پ27، الحدید: 16) ان آیات میں اچھے دلوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ خدا کے ذکر پر خوف ِ خداسے لبریز، باطنی عیوب ورذائل سے سلامت اور اللہ کی یاد کیلئے جھکنے والے ہوتے ہیں۔

دل کی بُری حالت ختم کر کے اسے اچھی حالت میں تبدیل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ تمام اعضا کی اصلاح کا دار ومدار دل کی اصلاح پر ہے۔ دل نیک اور متقی ہے تو اعضا بھی نیکی وتقویٰ سے آراستہ ہوں گے اور اگر دل تقویٰ سے خالی ہوا تو ظاہر بھی گناہوں میں لتھڑ جائے گا۔ اسی لئے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جان لو کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑاہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔ (بخاری،ج1،ص20، حدیث:52)

دل کی سب سے اعلیٰ حالت تو یہ ہے کہ وہ پاک صاف، نفسانی خواہشات سے دور، محبت ِ الٰہی میں مستغرق اور رضائے الٰہی کا طلب گار ہو جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (او رکہتے ہیں کہ) ہم تمہیں خاص اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں او رنہ شکریہ۔ (پ29، الدھر: 8، 9) ایک جگہ فرمایا: جو صبح وشام اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ (پ7، الانعام:52) اعلیٰ حالت کے مقابلے میں دل کی بدتر حالت یہ ہے کہ یادِ خدا سے غافل، نفسانی خواہشات کا شکار، حلال وحرام کی تمیز سے بے پروا اور گناہوں کی آلودگی میں ڈوبا ہوا ہو۔ تیسری حالت یہ ہے کہ دل مختلف خیالات کے لئے میدانِ جنگ بنا ہوتا ہے، اس میں شیطان اور فرشتوں کی جنگ جاری ہوتی ہے۔ شیطان دنیوی لذتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے کہ دیکھ! لوگ کتنے مزے، عیش اور مستیوں میں مگن ہیں اور تم خواہ مخواہ عبادت کی مشقتوں میں خود کو ہلکان کر رہے ہو اور فرشتہ یاد دلاتا ہے کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ (پ21، العنکبوت:57) نیز قبر کا حساب، آخرت میں جواب اور جنت وجہنم کا ٹھکانہ سب معاملات پیش آنے ہیں۔

ان تینوں حالتوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنا اللہ تعالٰی نے بندے کے اختیار میں دیا ہے۔ جو بہترین حالت میں ہے وہ اپنی محنت سے ہے، جو بدتر حالت میں ہے وہ اپنے کرتوتوں کے سبب ہے اور جو تردُّد وتذبذب کا شکار ہے وہ بھی اپنی اختیاری کمزوری کی وجہ سے ہے۔ کامل مسلمان کی خواہش یقیناً یہی ہوتی ہے کہ اپنے دل کو بہترین حالت میں رکھے۔ اس کا طریقہ کیا ہے، یہ اِنْ شَآءَ اللہ اگلی قسط میں بیان کیا جائے گا۔

غلط الفاظ

صحیح الفاظ

اِخْتَتَام

اِخْتِتَام

اِجْتَماع

اِجْتِماع

اَحْتْرَام

اِحْتِرام اِحْتِرام

اِحْتْیاط

اِحْتِیاط

آذَان/اٰذَان

اَذَان

(اردو لغت(تاریخی اصول )جلد1)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری

٭…دارالافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code