باب:انگوٹھی کا بیان

لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں پہنی ۲؎پھر اسے علیٰحدہ کردیا ۳؎پھر چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں نقش کیا محمد رسول اللہ۴؎اور فرمایا کہ کوئی اس انگوٹھی کے نقش پرنقش نہ کرائے ۵؎اور وہ پہنتے تو اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی سے متصل رکھتے ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اِتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَفِي رِوَايَةٍ: وَجَعَلَهٗ فِي يَدِهِ الْيُمْنٰى ثُمَّ أَلْقَاهُ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرَقٍ نُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَقَالَ:لَا يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلٰى نَقْشِ خَاتَمِي هٰذَا.وَكَانَ إِذَا لَبِسَهٗ جَعَلَ فَصَّهٗ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4383 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور سرخ لباس پہننے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع ۱؎میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4384 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتارکر پھینک دیا ۱؎پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی آگ کی چنگاری لیتا ہے اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۲؎اس شخص سے کہا گیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد کہ اپنی انگوٹھی لے لو اس سے کوئی اور نفع اٹھالو ۳؎وہ بولے اللہ کی قسم میں اسے کبھی نہ لوں گا جب کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا ۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَهٗ فَطَرَحَهٗ فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلٰى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهٖ ؟ فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَهَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ خَاتَمَكَ انْتَفِعْ بِهٖ . قَالَ: لَا وَاللّٰهِ لَا آخُذُهٗ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4385 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ قیصر اور نجاشی کوکچھ لکھنا چاہا ۱؎تو عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مہر کے بغیر کوئی تحریر قبول نہیں کرتے ۲؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی ڈھلوائی حلقہ چاندی کا تھا جس میں محمد رسول اللہ کندہ کیا گیا ۳؎(مسلم)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انگوٹھی کا نقش تین سطریں تھیں محمد ایک سطر،رسول ایک سطر، اللہ ایک سطر۴؎

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلٰى كِسْرٰى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَةَ فِضَّةٍ نُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: كَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُوْلٌ سَطْرٌ وَالله سَطْرٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4386 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اس کا تھا ۱؎(بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهٗ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهٗ مِنْهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4387 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی جس میں حبشی نگینہ تھا ۱؎آپ اس کانگینہ ہتھیلی شریف سے متصل رکھتے تھے۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهٖ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهٗ مِمَّا يَلِي كَفَّهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4388 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس میں تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هٰذِهٖ وَأَشَارَ إِلَى الخِنْصِرِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4389 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع کیا کہ میں اپنی اس انگلی میں یا اس میں انگوٹھی پہنوں فرمایاکہ بیچ والی انگلی اور اس کی برابر والی کی طرف اشارہ فرمایا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هٰذِهٖ أَوْ هٰذِهٖ قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَى الوُسْطٰى وَالَّتِي تَلِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4390 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۱؎(ابن ماجہ)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِيْنِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4391 ، باب:انگوٹھی کا بیان

اور ابوداؤد اور نسائی نے حضرت علی سے روایت کی۔

وَرَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ عَنْ عَليّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4392 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ میں ریشم لیا پھر اپنے بائیں ہاتھ میں سونا ۱؎پھر فرمایا کہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۲؎(احمد،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهٗ فِي يَمِينِهٖ فَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهٗ فِي شِمَالِهٖ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلٰى ذُكُورِ أُمَّتِيْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4393 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ میں ریشم لیا پھر اپنے بائیں ہاتھ میں سونا ۱∞؎پھر فرمایا کہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۲؎(احمد،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهٗ فِي يَمِينِهٖ فَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهٗ فِي شِمَالِهٖ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلٰى ذُكُورِ أُمَّتِيْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4394 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت معاویہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی کھالوں پر سوار ہونے ۱؎اور سونا پہننے سے منع فرمایا مگر ریزہ ریزہ ۲؎(ابوداؤد،نسائی)∞

وَعَنْ مُعَاوِيَةُ إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4395 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جس پر تانبہ کی انگوٹھی تھی ۱؎مجھے کیا ہوا کہ میں تم سے بتوں کی بو پاتا ہوں ۲؎اس نے وہ پھینک دی پھر آیا تو اس پر لوہے کی انگوٹھی تھی تو فرمایا کہ مجھے کیا ہوا کہ تم پر دوزخیوں کا زیور دیکھتا ہوں۳؎اس نے وہ پھینک دی۴؎پھر عرض کیا یارسول اللہ کس چیز کی انگوٹھی بناؤں فرمایا چاندی کی اور اس کی ایک مثقال پوری نہ کرو ۵؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی)محی السنہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سہل ابن سعد سے بروایت صحیح ثابت ہے مہر کے متعلق کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ کچھ ڈھونڈھو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ۶؎

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟» فَطَرَحَهٗ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: «مَا لِي أَرٰى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟» فَطَرَحَهٗ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهٗ مِثْقَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّوَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ -رَحِمَهُ اللهُ-: وَقَدْ صَحَّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي الصَّدَاقِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: "الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4396 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے ۱؎زردی یعنی خلوق۲؎سفید بالوں کی تبدیلی۳؎اور تہبند گھسیٹنا۴؎اور سونے کی انگوٹھی پہننا اور غیرمحل پر زینت ظاہرکرنا ۵؎اور پانسے مارنا ۶؎اور دم کرنا سوا معوذات کے۷؎اورتعویذ باندھنا ۸؎اور پانی غیرمحل میں ڈالنا ۹؎اور بچہ کو بگاڑنا اسے حرام نہ فرمایا ۱۰؎(ابوداؤد ،نسائی)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقٰى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ مَحِلِّهٖ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4397 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن زبیر سے کہ انکی ایک آزاد شدہ لونڈی زبیر کی بیٹی کو عمربن خطاب کے پاس لے گئی حالانکہ ان کے پاؤں میں جھانجن تھے ۱؎تو انہیں حضرت عمر نے توڑ دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر جھانجھ کے ساتھ شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلٰى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ فَقَطَعَهَا عُمَرُ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4398 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت بنانہ سے جو عبدالرحمن ابن حیان انصاری کی لونڈی ۱؎وہ جناب عائشہ کے پاس تھیں کہ آپ کی خدمت میں ایک بچی لائی گئی جس پر جھانجھن تھے جو آواز کررہے تھے۲؎آپ بولیں کہ اسے میرے پاس ہرگز نہ لاؤ مگر اس صورت میں کہ اس کے جھانجن توڑ دیئے جائیں ۳؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں جھانج ہو۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَيَّانَ الْأنْصَارِيِّ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ دُخِلَتْ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلُنَّهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تُقَطِّعُنَّ جَلَاجِلَهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ أَجْرَاس» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4399 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن طرفہ سے کہ ان کے دادا عرفجہ ابن سعد کی ۱؎کلاب کے دن ناک ٹوٹ گئی تو آپ نے چاندی کی ناک بنوالی وہ آپ پر بدبو دینے لگی تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنالیں ۲؎(ترمذی، ابو داؤد،نسائی)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ طَرَفَةَ أَنَّ جَدَّهٗ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدٍ قُطِعَ أَنْفُهٗ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4400 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے پیارے کو آگ کا حلقہ پہنانا چاہے وہ اسے سونے کی بالی پہنادے ۱؎اور جو اپنے پیارے کو آگ کا طوق ڈالنا چاہے ۲؎وہ اسے سونے کا طوق پہنادے ۳؎اور جو چاہے کہ اپنے پیارے کو آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنائے ۴؎لیکن تم چاندی کو پکڑ لو اس سے کھیلو کودو ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهٗ حَلَقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلَقَةً مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهٗ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهٗ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ مِنْ ذَهَبٍ وَلٰكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4401 ، باب:انگوٹھی کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اس کی گردن میں اسی طرح آگ کا ہار ڈالا جائے گا قیامت کے دن اور جو عورت اپنے کان میں سونے کی بالی ڈالے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کان میں اسی طرح کی آگ کی بالی ڈالے گا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللّٰهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهٗ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4402 ، باب:انگوٹھی کا بیان