باب:پینے کی چیزوں کا بیان

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پینے میں تین سانس لیتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتے تھے یہ زیادہ سیرکرنے والا زیادہ صحت بخش اور زود ہضم ہے ۲؎

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَزَادَ مُسْلمٌ فِي رِوَايَةٍ وَيَقُولُ: "إِنَّهٗ أَرْوٰى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4263 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4264 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ الٹنے سے منع فرمایا،ایک روایت میں یہ زیادتی ہے کہاختناثیہ ہے کہ اس کا منہ الٹ دیا جائے پھر ان سے پیا جائے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ. زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَاخْتِنَاثُهَا: أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4265 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے اس سے منع کیا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیئے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ نَهٰى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4266 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی کھڑے ہوکر ہرگز نہ پئے تو جو بھول جائے وہ قے کردے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَقِئْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4267 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آبِ زمزم کا ڈول لایا تو آپ نے کھڑے ہوکر پیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4268 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے ظہر ادا کی پھر لوگوں کی حاجتوں کے لیے کوفہ کے صحن میں بیٹھے ۱؎حتی کہ نماز عصر آگئی پھر پانی لایا گیا تو آپ نے پیا ۲؎اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور سر اور پاؤں کا ذکر کیا ۳؎پھر کھڑے ہوئے تو بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا پھر فرمایا کہ لوگ کھڑے ہوکر پینے کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسی طرح جیسا میں نے کیا ۴؎(بخاری)

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتّٰى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ فَشَرِبَ وَغَسَلَ وَجْهَهٗ وَيَدَيْهِ وَذَكَرَ رَأْسَهٗ وَرِجْلَيْهِ ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهٗ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4269 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صاحب کے پاس گئے حضورکے ساتھ آپ کے ایک صحابی بھی تھے ۱؎آپ نے سلام کیا اس نے جواب دیا وہاں باغ میں پانی پھررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیرے پاس پانی مشکیزہ میں ہو تو لاؤ ورنہ ہم منہ سے پی لیں۲؎وہ بولا میرے پاس مشکیزہ میں باسی پانی ہے چنانچہ وہ چھبر کی طرف گیا ۳؎پیالہ میں پانی انڈیلا پھر اس پر پالی ہوئی بکری دوہی۴؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر دوبارہ لایا پھر اس شخص نے پیا جو آپ کے ساتھ آیا تھا ۵؎(بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهٗ صَاحِبٌ لَهٗ فَسَلَّمَ فَرَدَّ الرَّجُلُ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا؟ فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَانْطَلَقَ إِلَى العَرِيشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4270 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے ۱؎وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کھولاتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ جو چاندی سونے کے برتن میں کھاتا ہے۳؎

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهٖ نَارَ جَهَنَّمَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4271 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ پہنو باریک ریشم نہ موٹا ریشم ۱؎اور نہ پیو سونے چاندی کے برتن میں اور نہ کھاؤ ان کے پیالوں میں کہ یہ کفار کے لیے ہیں دنیا میں اور وہ تمہارے لیے ہیں آخرت میں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4272 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھریلو بکری دوہی گئی ۱؎اور اس کا دودھ اس کنویں کے پانی سے ملایا گیا جو حضرت انس کے گھر میں ہے ۲؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ پیش کیا گیا آپ نے پیا اور آپ کے بائیں ابوبکر صدیق تھے آپ کے دائیں ایک بدوی ۳؎حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ ابوبکر کو دیجئے ۴؎حضور نے اس بدوی کو دیا جو آپ کے داہنے تھا پھر فرمایا داہنا پھر داہنا اور ایک روایت میں ہے کہ داہنے پھر داہنے خبردار داہنے کا خیال رکھو ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَعَلٰى يَسَارِهٖ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهٖ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَنْ يَمِينِهٖ ثُمَّ قَالَ: " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ وَفِي رِوَايَةٍ: الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ أَلاَ فَيَمِّنُوْا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4273 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا آپ نے اس سے پیا اور آپ کے داہنے ایک لڑکا تھا قوم میں سب سے چھوٹا ۱؎اور بوڑھے لوگ حضور کی بائیں طرف تو فرمایا اے لڑکےکیا اجازت دیتا ہے کہ ہم یہ بوڑھوں کو دے دیں ۲؎وہ بولا میں آپ کے پس خوردہ کے لیے کسی کو ترجیح نہیں دوں گایا رسول اللہ ۳؎چنانچہ حضور نے وہ پیالہ اس کو عطا فرمایا ۴؎(مسلم، بخاری)اور ابوقتادہ کی حدیثان شاء اللهہمباب المعجزاتمیں بیان کریں گے ۵؎

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أُتِىَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهٖ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهٖ فَقَالَ:يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلٍ مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأعْطَاهُ إِيَّاهُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَحَدِيثُ أَبِيْ قَتَادَةَ سَنَذْكُرُ فِي بَابِ الْمُعْجِزَاتِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4274 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے پھرتے کھاتے تھے اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی اور غریب بھی ۲؎

عَنِ ابْنِ عمَرَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4275 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر پیتے تھے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ. صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4276 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ برتن میں سانس لی جائے یا اس میں پھونکا جائے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4277 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اونٹ کے پینے کی طرح ایک سانس میں نہ پیو لیکن دو دو اور تین تین سانسوں میں پیو ۱؎اور جب تم پیو تو بسم اللہ پڑھو اور جب تم الٹاؤ توالحمدﷲپڑھو ۲؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى وثُلَاثَ وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4278 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ۱؎تو ایک شخص نے عرض کیا کہ میں برتن میں کوڑا جو دیکھوں۲؎فرمایا اسے بہا دو۳؎وہ بولا میں ایک سانس میں سیرنہیں ہوتا۴؎فرمایا کہ یہ پیالہ اپنے منہ سے الگ کرلو پھر سانس لے لو ۵؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ رَجُلٌ: الْقَذَاةَ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ قَالَ: «أَهْرِقْهَا» قَالَ: فَإِنِّي لَا أَرْوٰى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ: «فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4279 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایا ۱؎اور اس سے کہ پانی میں پھونکا جائے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4280 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے حضرت کبشہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے کھڑے پانی پیا ۲؎میں اس کے دہانے کی طرف اٹھی اسے میں نے کاٹ لیا ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

وَعَنْ كبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلىَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلٰى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ صَحِيْحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4281 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان

روایت ہے زہری سے وہ عروہ سے ۱؎وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین شربت ٹھنڈا میٹھاتھا۲؎(ترمذی)اور فرمایا صحیح وہ ہے جو بروایت زہری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا مروی ہو۳؎

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4282 ، باب:پینے کی چیزوں کا بیان