- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
باب:ولیمہ کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف پر زردی کا اثر دیکھا ۱؎تو فرمایا یہ کیا عرض کیا میں نے ایک عورت سے گٹھلی بھر سونے پر نکاح کرلیا ہے ۲؎فرمایا اﷲتمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی ہو ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا؟ " قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: "بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3210 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نہیں ولیمہ کیا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی پر جیسا ولیمہ حضرت زینب پر کیا ۱؎ایک بکری سے ولیمہ کیا(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ،أَوْلَمَ بِشَاةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3211 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جب حضرت زینب سے زفاف کیا تو ولیمہ کیا ۱؎لوگوں کو گوشت روٹی سے سیر کردیا ۲؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: أَوْلَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3212 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت صفیہ کو آزاد فرمایا اور ان سے نکاح فرما لیا ۱؎اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۲؎ان پر حریسہ سے ولیمہ کیا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَتَزَوَّجَهَا، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3213 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین شب قیام فرمایا ۱؎آپ پر حضرت صفیہ کا زفاف کیا جانا تھا تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی طرف دعوت دی اس ولیمہ میں نہ روٹیاں تھیں نہ گوشت اس میں بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ دسترخوانوں کا حکم دیا وہ بچھادیئے گئے۲؎پھر اس پر چھوہارے اور پنیروگھی ڈال دیا گیا۳؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ،فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالأَقِطُ وَالسَّمْنُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3214 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت صفیہ بنت شیبہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بعض بیویوں کا دو۲ مد جو سے ولیمہ کیا ۲؎(بخاری)
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3215 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو وہاں جائے ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قبول کرے،ولیمہ ہو یا اس کی مثل ۲؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَليمَةِ فَلْيَأْتِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ:فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3216 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی کھانے کے لیے بلایا جائے تو قبول کرے پھر اگر چاہے کھالے اور اگر چاہے چھوڑ دے ۱؎(مسلم)۲؎
وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3217 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدترین کھانا وہ ولیمہ کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار تو بلائے جائیں اور فقراء چھوڑ دیئے جائیں ۲؎اور جس نے دعوت چھوڑ ی اس نے اﷲرسول کی نافرمانی کی ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3218 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا انصاری جس کی کنیت ابو شعیب تھی اس کا ایک غلام گوشت فروش تھا وہ بولا کہ میرے لیے کھانا تیار کرو جو پانچ کو کافی ہو،تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دعوت دوں،پانچ کے پانچویں ۱؎چنانچہ غلام نے اس کے لیے کچھ کھانا تیار کیا ۲؎پھر حضور کی بارگاہ میں آیا آپ کو دعوت دی ان کے ساتھ ایک شخص آگیا۳؎اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابو شعیب ایک شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے تم اگر انہیں اجازت دو تو فبہا اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۴؎عرض کیا نہیں بلکہ میں نے اسے اجازت دی ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَصَنَعَ لَهُ طُعَيْمًا، ثمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا أَبَا شُعَيْبٍ! إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ" قَالَ: لَا، بَلْ أَذِنْتُ لَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3219 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بی بی صفیہ پر ستو اور چھواروں سے ولیمہ کیا ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3220 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب کا مہمان ہوا آپ نے اس کے لیے کھانا تیار کیا ۲؎تو جناب فاطمہ بولیں کہ کاش ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو بلاتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھاتے ۳؎چنانچہ آپ کو بلایا حضور تشریف لائے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دروازے کی چوکھٹوں پر رکھے گھر کے ایک گوشہ میں پردہ دیکھا ۴؎چنانچہ آپ واپس ہوگئے ۵؎جناب فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں آپ کے پیچھے گئی بولی یارسول اﷲکس چیز نے آپ کو واپس کیا فر مایا میرے لیے یا نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ مزین گھر میں داخل ہوں ۶؎(احمد،ابن ماجہ)
وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا،فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَي الْبَابِ، فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيِّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3221 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دعوت دی جائے پھر وہ قبول نہ کرے تو اس نے اﷲاور رسول کی نافرمانی کی ۱؎اور جو بغیر دعوت پہنچ جائے تو وہ چور ہو کر گیا ۲؎اور لٹیرا ہو کر نکلا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3222 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب دو دعوت دینے والے جمع ہوجائیں تو ان سے قریب تر دروازے والے کی دعوت قبول کرو ۲؎اور اگر ان میں سے ایک پہلے آجائے تو پہلے کی دعوت قبول کرو ۳؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3223 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضر ت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ پہلے دن کا کھانا حق ہے دوسرے دن کا سنت ہے ۱؎اور تیسرے دن کا کھانا نام و نمود ہے ۲؎جو سنانا چاہے گا اﷲاسے سنا دے گا۳؎(ترمذی)۴؎
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي سُنَّةٌ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3224 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎وہ حضرت ابن عباس سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ضدم ضدا کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ۲؎ابوداؤد،اور محی السنہ نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث بروایت عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مرسلًا مروی ہے۳؎
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَينِ أَنْ يُؤْكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3225 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو ضدیوں کی دعوت نہ قبول کی جائے نہ ان کا کھانا کھایا جائے ۱؎امام احمد نے فرمایا کہ ضدیوں سے مراد دعوت میں فخر و ریا کے لیے مقابلہ کرنے والے ہیں۲؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْمُتَبَارِيَانِ لَا يُجَابَانِ، وَلَا يُؤكَلُ طَعَامُهُمَا". قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ: يَعْنِي المُتَعَارِضَيْنِ بِالضِّيافَةِ فَخْرًا وَرِياءً.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3226 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے بدکاروں کی دعوت طعام قبول کرنے سے منع فرمایا ۱؎
وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِجَابَةِ طَعَامِ الْفَاسِقينَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3227 ، باب:ولیمہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو اس کا کھانا کھائے اور پوچھ گچھ نہ کرے اور اس کا پانی پئے اور پوچھ گچھ نہ کرے ۱؎یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور فرمایا کہ یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس لیے ہے کہ ظاہر یہ ہی ہے کہ مسلمان اسے نہ کھلائے پلائے گا مگر وہ ہی جو اس کے نزدیک حلال ہو۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِم، فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ، وَلَا يَسْأَلْ، وَيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ، وَلَا يَسْأَلْ" رَوَى الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" وَقَالَ: هَذَا إِنْ صَحَّ فَلِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يُطْعِمُهُ وَلَا يسْقِيه إِلَّا مَا هُوَ حَلَالٌ عِنْدَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3228 ، باب:ولیمہ کا بیان