- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے بیویوں کے متعلق نیکی کی وصیت قبول کرو ۱؎کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور یقینًا پسلی کا ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا ہے۲؎تو اگر اسے سیدھا کرنے لگو توتو ڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو تو ٹیڑھا رہے گا۳؎لہذا عورتوں کے متعلق وصیت قبول کرو (مسلم، بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسْرَتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3238 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی وہ روش میں سیدھی ہر گز نہ ہوگی ۱؎تو اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے نفع حاصل کرو حالانکہ اس میں ٹیڑھ ہو۲؎اور اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو توڑ دو گے اس کا توڑنا اس کا طلاق ہے ۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلاقُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3239 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی مؤمن کسی مؤمنہ بیوی کو دشمن نہ جانے اگر اس کی کسی عادت سے ناراض ہو تو دوسری خصلت سے راضی ہوگا ۱؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3240 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کبھی گوشت نہ خراب ہوتا ۱؎اور اگر حوّاء نہ ہوتیں تو کبھی کوئی عورت اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3241 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت عبدﷲابن زمعہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے ۲؎پھر اخیر دن میں اس سے صحبت کرے گا۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم میں سے کوئی ارادہ کرتا ہے تو اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتا ہے کہ شاید اخیردن اس سے صحبت کرے گا۴؎پھر انہیں گوز سے ہنسنے کے متعلق نصیحت کی تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے جو خود بھی کرتا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَجْلِدْ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعْهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "يَعْمِدُ أَحَدُكُمُ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ". ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: "لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمُ مِمَّا يَفْعَلُ؟ مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3242 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھی ۱؎اور میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلتی تھیں تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم جب تشریف لاتے یہ چلی جاتیں ۲؎پھر حضور انہیں میری طرف بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَنْقَمِعْنَ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3243 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور حبشی بچےمسجد میں نیزے بازی کرتے تھے ۱؎اور رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم مجھے اپنی چادر سے پردہ کراتے تاکہ میں آپ کے کان و کاندھے کے درمیان ان کا کھیل دیکھوں ۲؎پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہتے حتی کہ میں بھی لوٹ جاتی تو تم اندازہ لگالو،نو عمر لڑکی کے کھیل کی شوقین کا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: وَاللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِردَائِهِ لأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ بَيْنَ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3244 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎ہم جانتے ہیں جب تم ہم سے راضی ہوتی تھیں،اور جب تم ہم پر ناراض ہوتیں۲؎میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کہاں سے پہنچانتے تھے ۳؎فرمایا جب تم ہم سے خوش ہوتی تو کہتی تھیں محمد مصطفی کے رب کی قسم اور جب تم ہم سے ناخوش ہوتیں تو کہتی تھیں،جناب ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ۴؎میں بولی ہاں یارسولﷲمیں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی تھی ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى" فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3245 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ۱؎تو وہ انکار کردے ۲؎اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۳؎(مسلم، بخاری)انہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے،ایسا کوئی شخص نہیں جو اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے پھر وہ انکار کردے،تو آسمان والا اس پر ناراض ہوتا ہے ۴؎حتّٰی کہ خاوند اس سے راضی ہوجائے ۵؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَتَأْبَى عَلَيْهِ، إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3246 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت اسماء سے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یارسولﷲمیری ایک سوکن ہے ۱؎تو کیا مجھ پر اس میں گناہ ہے کہ اپنے خاوند کا کوئی عطیہ ظاہر کروں جو اس کے علاوہ ہو ۲؎تو فرمایا نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنے والا جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ: "الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3247 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ۱؎اور آپ کا پاؤں موچ گیا تھا۲؎تو آپ نے بالا خانہ میں انتیس۲۹ رات قیام کیا ۳؎پھر نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا یارسولﷲآپ نے تو ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا،فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: آلى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ: "إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3248 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق آئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت لیں لوگوں کو آپ کے دروازہ پر بیٹھے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ۱؎فرماتے ہیں کہ ابوبکر کو اجازت مل گئی آپ داخل ہوگئے پھر جناب عمر آئے اجازت مانگی انہیں بھی مل گئی ۲؎انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو غمگین خاموش بیٹھے پایا کہ آپ کی ازواج اردگرد تھیں ۳؎آپ نے سوچا کہ میں ایسی بات کہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسا دوں۴؎تو عرض کیا یارسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم حضور خارجہ کی بیٹی کو ملاحظہ فرماتے ۵؎کہ اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں اس کی طرف بڑھا اس کی گردن مروڑی ۶؎چنانچہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎اور فرمایا یہ جو میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کرتی ہیں ۸؎تو ابوبکر عائشہ کی طرف اٹھے ان کی گردن مروڑنے لگے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے وہ ان کی گردن مروڑنے لگے۹؎یہ دونوں کہتے تھے کیا تم رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے وہ چیزیں مانگتی ہوجو ان کے پاس نہیں ہیں ۱۰؎وہ بولیںﷲکی قسم ہم رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے کبھی وہ چیز نہ مانگیں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ۱۱؎پھر حضور ازواج سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے ۱۲؎پھر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اے نبی اپنی بیویوں سے فرما دو الیٰ قولہ تم میں سے نیک کار بیویوں کے لیے بڑا ثواب ہے ۱۳؎فرماتے ہیں کہ پھر حضور نے عائشہ سے ابتداء کی ۱۴؎اے عائشہ تم پر ایک چیز پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو ۱۵؎آپ بولیں یارسولﷲوہ کیا ہے ؟ تب حضور نے ان پر یہ آیت تلاوت کی ۱۶؎آپ بولیں کیا آپ کے بارے میں یارسولﷲمیں ماں باپ سے مشورہ کروں بلکہ میںﷲرسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں ۱۷؎اور حضور سے عرض ہے کہ اپنی ازواج میں سے کسی بی بی کو نہ بتائیں ۱۸؎جو میں نے عرض کیا آپ نے فرمایا ان میں سے کوئی بی بی مجھ سے نہ پوچھے گی مگر میں خبر دے دوں گا ۱۹؎یقینًاﷲنے مجھے نہ مشقت میں ڈالنے والا بھیجا نہ مشقت میں پڑنے والا ۲۰؎لیکن مجھے بھیجا ہے علم سکھانے والا آسانی کرنے والا ۲۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ، وَاجِمًا سَاكتًا قَالَ: فَقَالَ: لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى، يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ". فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، كِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلِينَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ ! فَقُلْنَ: وَاللّٰهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا، أَوْ تِسْعًا وَعشْرين، ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ حَتَّى بلغ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ: فَبَدَأَ بعائشة فَقَالَ: "يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا، أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ". قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الآيَةَ. قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ، قَالَ: "لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3249 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی تھی کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے ۱؎پھر جبﷲتعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں ہٹائیں جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جن کو علیحدہ کردیا ہے ان میں جسے چاہیں بلالیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ۲؎تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری فرمانے میں جلدی کرتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)اور حضرت جابر کی حدیث کہ عورتوں کے بارے میںﷲسے ڈرو حجتہ الوداع کے قصہ میں ذکر کردی گئی ۴؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغَارُ مِنَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ قُلْتُ: مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارعُ فِي هَوَاكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَحَدِيثُ جَابِرٍ: "اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ" ذُكِرَ فِي "قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3250 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ آپ کسی سفر میں رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں فرماتی ہیں کہ میں نے حضور کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں پاؤں سے دوڑنے میں آگے نکل گئی ۱؎پھر جب میں کچھ بھاری ہوگئی تو آپ نے دوڑ لگائی تو آپ مجھ سے آگے بڑھ گئے ۲؎فرمایا یہ اس سبقت کاعوض ہوگیا ۳؎(ابوداؤد)
عَن عَائِشَة أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، قَالَتْ: فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ، فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي قَالَ: "هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3251 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں ۱؎اور جب تمہارا ساتھی مرجائے تو اسے چھوڑدو ۲؎(ترمذی،دارمی)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3252 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
اور ابن ماجہ عن ابن عباس ان کے فرمانلاھلیتک؟
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى قَوْلِهِ: "لِأَهْلِي".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3253 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے عورت جب اپنی پانچ نمازیں پڑھے اور اپنے ماہ رمضان کا روزہ رکھے ۱؎اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے ۲؎اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے ۳؎تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے ۴؎(ابونعیم حلیہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْمَرْأَةُ إِذَا صَلَّتْ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا، فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ". رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي "الْحِلْيَةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3254 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے ۱؎تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَو كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ؛ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3255 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو عورت مرجائے اس حال میں کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہوا؎تو جنت میں جائے گی ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3256 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنی ضرورت کے لیے بلائے ۲؎تو وہ فورًا اس کے پاس آئے اگرچہ تنور پر ہو ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ طَلْقِ ا بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3257 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- 1
- 2