باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہیں ستاتی کوئی عورت اپنے خاوند کو دنیا میں مگر اس کی حورعین بیوی کہتی ہے ۱؎کہ خدا تجھے غارت کرے اسے نہ ستا کیونکہ یہ تیرے پاس مہمان ہے بہت قریب تجھے چھوڑ کر ہماری طرف آئے گا ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎

وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَت زَوجَتُهُ مِنَ الحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ، قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ، يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3258 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت حکیم ابن معاویہ قشیری سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولہم میں سے کسی کی بیوی کا حق اس پر کیا ہے فرمایا جب تم کھاؤ اسے کھلاؤ اورجب تم پہنو اسے پہناؤ۲؎اور اس کے منہ پر نہ مارو۳؎اور اسے برا نہ کہو ۴؎اور اسے نہ چھوڑو مگر گھر میں ۵؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَن حَكِيم بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا حَقُّ زَوْجَةٍ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: "أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3259 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت لَقیط ابن صبرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولمیری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ ہے یعنی بدزبانی یا تیز زبانی ۲؎فرمایا اسے طلاق دے دو میں نے عرض کیا کہ اس سے میرے بچے ہیں،اور اسے میری پرانی صحبت ہے ۳؎فرمایا تو اسے حکم دو یعنی نصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہوئی تو قبول کرے گی ۴؎اور اپنی بیوی کو اپنی لونڈی کی سی مار نہ لگاؤ ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: "طَلِّقهَا" قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ: "فَمُرْهَا" يَقُولُ: عِظْهَا "فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِيْنَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3260 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت انس ابن عبدسے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہکی بندیوں کو نہ مارو ۱؎پھر جناب عمر رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بولے عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہوگئیں ۲؎تب انہیں مارنے کی اجازت دی ۳؎پھر بہت سی عورتوں نے اہل بیت رسول اصلی اللہ علیہ و سلم پر چکر لگائے ۴؎جو اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی تھیں تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہماری اہل بیت پر بہت عورتیں چکر لگارہی ہیں اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی ہیں یہ لوگ تم میں اچھے نہیں ۵؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ أَنَسِ ا بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَضْرُبوا إِمَاءَ اللّٰهِ" فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بآلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3261 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عورت کو اس کے خاوند پر یا غلام کو اس کے آقا پر خراب کردے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ". رَوَاهُ أَبُو أَبُو دَاوُدَ .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3262 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسلمانوں میں بڑے کامل ایمان والا وہ ہے جو سب میں اچھے اخلاق والا اپنے بال بچوں پر مہربان ہو(ترمذی)۱؎

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا، وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3263 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے مؤمنوں سے کامل تر مؤمن اچھے اخلاق والا ہے ۱؎اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں سے بہترین ہو ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ابوداؤد)خلقاتک۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ إِلَى قَوْلِهِ: "خُلُقًا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3264 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک ۱؎یا حنین سے ۲؎واپس تشریف لائے ام المؤمنین کے طاق میں پردہ تھا،ہوا چلی جس نے پردہ کے کنارہ نے حضرت عائشہ کے کھیل کی گڑیا کھول دیں ۳؎تو حضور نے فرمایا عائشہ یہ کیا ہے ؟ بولیں میری گڑیاں ہیں آپ نے ان کے درمیان ایک گھوڑادیکھاجس کے کپڑے کے دو پر تھے تو فرمایا یہ کیا ہے جسے ہم بیچ میں دیکھ رہے ہیں؟ بولیں گھوڑا ہے فرمایا اس کے اوپر کیا ہے ؟ میں بولی دو پر ہیں فرمایا کیا گھوڑے کے پر ہیں؟ بولیں کیا آپ نے نہ سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے ۴؎فرماتی ہیں کہ حضور ہنسے حتی کہ میں نے آپ کی کچلیاں دیکھ لیں ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ حُنَيْنٍ، وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ، فَكَشَفَتْ نَاحِيةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " قَالَتْ: بَنَاتِي، وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: "مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ؟ " قَالَتْ: فَرَسٌ قَالَ: "وَمَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ " قَالَتْ قُلْتُ: جَنَاحَانِ قَالَ: "فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟ " قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3265 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت قیس ابن سعد سے فرماتے ہیں میں حیرہ گیا ۱؎وہاں لوگوں کو دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں ۲؎تو میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۳؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میں حیرہ پہنچا تو انہیں دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۴؎تو فرمایا بتاؤ تو اگر تم میری قبر پر گزرو تو کیا تم قبر کو سجدہ کرو گے ۵؎میں نے عرض کیا نہیں تو فرمایا یہ بھی نہ کرو اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ کسی کو سجدہ کرے تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں ۶؎کیونکہ اتعالٰی نے خاوندوں کا ان پر حق قرار دیا(ابوداؤد)۷؎

عَنْ قَيْسِ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ، فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: لَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَأَنْتَ أَحَقُّ بِأَنْ يُسْجَدَ لَكَ، فَقَالَ لِي: "أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟ " فَقُلتُ: لَا فَقَالَ: "لَا تَفْعَلُوا لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقٍّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3266 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

احمد نے معاذ ابن جبل سے روایت کیا۔

وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3267 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مرد سے اس کے متعلق پوچھ نہ ہوگی جو وہ اپنی بیوی کو مارے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3268 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی اور ہم حضور کے پاس تھے بولی میرا خاوند صفوان ابن معطل ۱؎جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتی کہ سورج نکل آتا ہے ۲؎فرماتے ہیں صفوان حضور کے پاس تھے فرماتے ہیں حضور نے اس بیان کے متعلق ان سے پوچھا ۳؎وہ بولے یارسول الیکن اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے تو يه ایسی دو سورتیں پڑھتی ہیں جن سے میں نے اسے منع کیا ہے ۴؎راوی فرماتے ہیں تب اس سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر ایک سورہ ہوتی تو لوگوں کو کافی ہوتی ۵؎بولے کہ رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو توڑوا دیتا ہے تو یہ شروع ہوجاتی ہے تو روزہ ہی رکھتی رہتی ہے اور میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کرسکتا ۶؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عورت روزہ نہ رکھے بغیر خاوند کی اجازت کے ۷؎رہا اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے تک نماز نہیں پڑھتا۔تو ہم لوگ ایسے گھرانے والے ہیں کہ یہ بات ہماری مشہور ہے جانی پہچانی سورج نکلنے تک نہیں جاگ سکتے ۸؎فرمایا اے صفوان جب تم لوگ جاگو تو نماز پڑھ لیا کرو ۹؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْده، فَقَالَت: زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُني إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي الْفَجْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ" قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، وَأَمَّا قَوْلُهَا: إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: "فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3269 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم مہاجرین و انصار کی ایک جماعت میں تھے کہ ایک اونٹ آیا اس نے آپ کو سجدہ کیا ۱؎تو حضور کے صحابہ نے عرص کیا یارسول اآپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں ۲؎تو ہم زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں ۳؎تو فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو۴؎اور اپنے بھائی کی تعظیم کرو ۵؎اور اگر میں کس کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۶؎اور اگر خاوند حکم کرے کہ پہلے پہاڑ سے کالے پہاڑ کی طرف اور کالے پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف کو منتقل کرے تو بیوی کو چاہیے کہ ایسا ہی کرے ۷؎(احمد)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ، فَسَجَدَ لَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ: "اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَن تَفْعَلهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3270 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نہ نماز قبول ہو نہ کوئی نیکی اوپر چڑھے ۱؎بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مولاؤں کی طرف لوٹ آئے ۲؎اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں میں دے دے اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشہ والا یہاں تک کہ ہوش میں آجائے۔(بیہقی شعب الایمان)۳؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ، الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ، فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَان".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3271 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کونسی عورت اچھی ہے فرمایا کہ اسے خاوند جب دیکھے تو اچھی لگے ۱؎اور جب اسے حکم دے تو اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے نہ اپنی جان میں نہ اپنے مال میں جو خاوند کو ناپسند ہو ۲؎(نسائی،بیہقی شعب الایمان)

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: "الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3272 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول انے فرمایا چار چیزیں وہ ہیں جسے وہ دی گئیں اسے دین و دنیا کی بھلائی دے دی گئی ۱؎شکر والا دل،ذکر والی زبان اور جسم مصیبتوں ۲؎پر صبر والا ۳؎اور ایسی بیوی جو اپنے نفس اور اس کے مال میں بغاوت نہ کرے ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ: قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3273 ، باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں