باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے میں نہ تم کو دیتا ہوں اور نہ تم کو منع کرتا ہوں ۱؎میں تو تقسیم کرتا ہوں۲؎وہاں رکھتا ہوں جہاں حکم دیا جاتا ہوں۳؎(بخاری)۴؎

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أُعْطِيْكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ، أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3745 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت خولہ انصاریہ سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بعض لوگکے مال میں ناحق گھس جاتے ہیں۲؎ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے ۳؎(بخاری)

وَعَنْ خَوْلَةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُوْنَ فِيْ مَالِ اللّٰهِ بِغَيْرِ حَقِّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3746 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنائے گئے تو فرمایا کہ میری قوم جانتی ہے کہ میرا پیشہ میرے گھر والوں کے خرچ سے ناکافی نہ تھا ۱؎اور میں مسلمانوں کے کام میں مشغول کردیا گیا ہوں تو ابوبکر کی اولاد اس مال سے کھائے گی اور اس میں مسلمانوں کی خدمت کرے گی ۲؎(بخاری) ۳؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُوْ بَكْرٍ قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِيْ أَنَّ حِرْفَتِيْ لَمْ تَكُنْ تَعْجزُ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِيْ، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِيْنَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِيْ بَكْرٍ مِنْ هٰذَا الْمَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِيْنَ فِيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3747 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت بریدہ ۱؎سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جسے ہم کسی کام پر لگادیں پھر ہم اسے معاوضہ دے دیں تو اس کے بعد جو کچھ لے گا وہ خیانت ہے۲؎(ابوداؤد)

عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلٰى عَمَلٍ، فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ غُلُوْلٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3748 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تو حضور نے مجھے اجرت دی ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: عَمِلْتُ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِيْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3749 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا جب میں چل دیا تو میرے پیچھے بلانے والے کو بھیجا تو میں لوٹایا گیا ۱؎فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ میں نے تمہیں کیوں بلایا کوئی چیز میری اجازت کے بغیر نہ لینا کہ وہ خیانت ہے۲؎جو خیانت کرے گا تو قیامت کے دن خیانت کا مال لائے گا تمہیں اس لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا سِرْتُ، أَرْسَلَ فِيْ أثَرِيْ، فَرُدِدْتُ فَقَالَ: "أَتَدْرِيْ لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيْبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِيْ، فَإِنَّهٗ غُلُوْلٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِهٰذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3750 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو ہمارا عامل بنے چاہیے کہ بیوی کرلے پھر اگر اس کے خادم نہ ہو تو چاہیئے کہ خادم رکھ لے اگر اس کے پا س مکان نہ ہو تو مکان بنالے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو اس کے علاوہ لے گا وہ خائن ہوگا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِابْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَهُوَ غَالٌّ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3751 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ ۱؎سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو تم میں سے جو کوئی ہمارے کام پر عامل بنایا گیا ۲؎پھر اس میں سے سوئی اور اس کے اوپر کوئی چیز ہم سے چھپائی تو وہ خائن ہے قیامت کے دن وہ لائے گا ۳؎تو ایک انصاری صاحب کھڑے ہوکر بولے یارسولمجھ سے اپنا عمل (نوکری)لے لیجئے ۴؎فرمایا یہ کیا عرض کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا فرمایا یہ تو میں کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پر عامل بنائیں تو وہ تھوڑا اور بہت حاضر کردے ۵؎پھر اس میں سے اسے جو دیا جائے وہ لے لے ۶؎اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔(مسلم،ابوداؤد)اور لفظ ابوداؤد کے ہیں۔

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلٰى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهٗ فَهُوَ غَالٌّ، يَأْتِيْ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! اقْبَلْ عَنِّيْ عَمَلَكَ، قَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُوْلُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: "وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِكَ،مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلٰى عَمَلٍ؛ فَلْيَأْتِ بِقَلِيْلِهٖ وَكَثِيْرِه فَمَا أُوْتيَ مِنْهُ أَخَذَهٗ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهٰى". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهٗ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3752 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: "لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3753 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

اسے ترمذی نے ان ہی سے اورحضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3754 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

اور اسے احمدوبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان سے روایت کیا اور یہ زیادہ کیا کہرائشسے مراد ہے جو ان دونوں کے درمیان کوشش کرے ۱؎

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" عَنْ ثَوْبَانَ، وَزَادَ: "وَالرَّائِشَ" يَعْنِي: الَّذِيْ يَمْشِيْ بَيْنَهُمَا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3755 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے پیغام بھیجا کہ اپنے ہتھیار اور اپنے کپڑے پہن لو ۱؎پھر میرے پاس آؤ ۲؎فرماتے ہیں کہ میں حضور کے پاس حاضر ہوا حالانکہ آپ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے عمرو میں نے تمہیں اس لیے پیغام بھیجا تاکہ تمہیں ایک کام میں بھیجوں۳؎تمہیں خدا تعالٰی سلامت لوٹائے گا اور غنیمت دے گا۴؎اور ہم تم کو کچھ مال بھی عطا فرمائیں گے ۵؎تو میں نے عرض کیا یارسولمیری ہجرت مال کے لیے نہ تھی ۶؎وہ تو صرفرسول کے لیے تھی۷؎فرمایا نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ہی اچھا ہے ۸؎اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور احمد نے اسی کی مثل روایت کی اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ اچھا مال نیک آدمی کے لیے اچھا ہے ۹؎

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنِ اجْمَعْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ، ثُمَّ ائْتِنِيْ" قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ وَهُوَ يتَوَضَّأُ فَقَالَ: "يَا عَمْرُو! إِنِّيْ أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ لِأَبْعَثَكَ فِيْ وَجْهٍ يُسَلِّمُكَ اللّٰهُ وَيُغَنِّمُكَ، وَأَزْعَبَ لَكَ زَعْبَةً مِنَ الْمَالِ" فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! مَا كَانَتْ هِجْرَتِيْ لِلْمَالِ، وَمَا كَانَتْ إِلَّا للّٰهِ وَلِرَسُوْلهِ قَالَ: "نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَرَوَى أَحْمَدُ نَحْوَهٗ وَفِيْ رِوَايتِهٖ: قَالَ: "نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3756 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی شخص کی کچھ سفارش کردے ۱؎پھر اسے اس سفارش پر کچھ ہدیہ دیا جائے ۲؎وہ اسے قبول کرلے تو وہ سود کے دروازوں ميں سے بڑے دروازہ پر آگیا ۳؎(ابوداؤد)

عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ شَفَعَ لِأَحَدٍ شَفَاعَةً، فَأَهْدَى لَهٗ هَدِيَّةً عَلَيْهَا، فَقَبِلَهَا، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيْمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3757 ، باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے