- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضر ت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کوئی حاکم دو شخصوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لَا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3731 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت عبدﷲابن عمر اور ابوہریرہ سے دونوں فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے ۱؎تو اس کو دو ثواب ہیں ۲؎اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اورغلطی کرے تو اس کے لیے ایک ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَر وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ وَأَصَابَ فَلَهٗ أَجْرَانِ، وإذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ وَأَخْطَأَ فَلَهٗ أَجْرٌ وَاحِدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3732 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا ۱؎تو وہ بغیر چھری ذبح کردیا گیا۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبحَ بِغَيْرِ سِكِّيْنٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3733 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جو حاکم بننا تلاش کرے اور مانگے ۱؎وہ اپنے نفس کو سونپ دیا جائے گا۲؎اور جو اس پر مجبور کیا جائے توﷲاس پر فرشتہ اتارے گا جو اسے درست رکھے گا۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهٖ، وَمَنْ أكرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهٗ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3734 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی تین طرح کے ہیں ایک جنت میں اور دو دوزخ میں تو جو جنت میں ہے وہ تو وہ شخص ہے جو حق کو پہچانے پھر اس کا فیصلہ دے ۱؎اور جو شخص حق کو جان لے مگر فیصلہ میں ظلم کرے تو وہ دوزخ میں ہے ۲؎اور وہ شخص جو جہالت پر لوگوں کے فیصلے کرے تو وہ بھی دوزخ میں ہے۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِيْ فِي الْجَنَّةِ فَرَجُل عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهٖ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْم فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلٰى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3735 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمانوں کا قاضی بننا طلب کرے حتّی کہ اسے پالے ۱؎پھر اس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب ہو تو اس کے لیے جنّت ہے ۲؎اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو اس کے لیے دوزخ ہے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِيْنَ حتّٰى يَنَالَهٗ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهٗ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهٗ فَلَهُ النَّارُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3736 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا ۱؎تو فرمایا جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے ۲؎عرض کیا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا۳؎فرمایا اگر تم رسو ل اللہ کی سنت میں بھی نہ پاؤ عرض کیااپنی رائےسے قیاس کروں گا ۴؎اور کوتاہی نہ کروں گا ۵؎فرماتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی)اور فرمایا شکر ہے اس کا جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں ۶؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَن رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهٗ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: "كَيْفَ تَقْضِيْ إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟ " قَالَ: أَقْضِيْ بِكِتَابِ اللّٰهِ، قَالَ: "فَإِنْ لَم تَجدْ فِيْ كتَابِ اللّٰهِ؟ " قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "فَإِنْ لَمْ تَجدْ فِيْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ؟ " قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِيْ وَلَا آلُوْ، قَالَ: فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى صَدْره، وَقَالَ: "الْحَمْدُ للّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰهِ لِمَا يَرْضَى بِهٖ رَسُوْلُ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3737 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا میں نے عرض کیا یارسولﷲ)صلی اللہ علیہ و سلم( آپ مجھے بھیجتے ہیں میں تو نو عمر ہوں اور نہ مجھے قضا کا علم ہے ۱؎تو فرمایاﷲتمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۲؎جب تم سے دو آدمی فیصلہ چاہیں تو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرنا حتی کہ دوسرے کی بات بھی سن لو ۳؎کہ یہ اس کے لائق ہے کہ تم کو فیصلہ ظاہر ہوجائے ۴؎فرماتے ہیں پھر اس کے بعد میں نے کسی فیصلہ میں کوئی تردد نہ کیا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور جناب ام سلمہ کی وہ حدیثإنما أقضي بينكم برأیی ان شاء اﷲفیصلوں اور گواہیوں کے باب میں ذکر کریں گے ۶؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثنَي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ : تُرْسِلُنِيْ وَأَنَا حَدِيْثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِيْ بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ سَيَهْدِيْ قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلأَوَّلِ حتّٰى تَسْمَعَ كَلَامَ الآخَرِ، فَإِنَّهٗ أَحْرَى أَنْ يَتَبيَنَ لَكَ الْقَضَاءُ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِيْ قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيْثَ أُمِّ سَلَمَةَ: "إِنَّمَا أَقْضِيْ بَيْنَكُمْ بِرأيِيْ" فِيْ "بَابِ الأَقْضِيَةِ وَالشَّهَاداتِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3738 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت عبدﷲابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی حاکم ۱؎جو لوگوں کے درمیان فیصلے کرے مگر قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا پھر اس کا سر آسمان تک اٹھالے گا ۲؎تو اگر رب فرمادے کہ اسے پھینک دے تو وہ اسے ہلاکت کی جگہ پھینک دے گا۳؎چالیس سال کی راہ ۴؎(احمد، ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ حَاكمِ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ إِلَى السَّمَاءِ،فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهْ أَلْقَاهُ فِيْ مَهْوَاةٍ أَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3739 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ عادل قاضی پر قیامت کے دن وہ وقت آئے گا ۱؎کہ وہ آرزو کرے گا کہ اس نے کبھی بھی دو شخصوں کے درمیان ایک چھوہارے کے بارے میں فیصلہ نہ کیا ہوتا ۲؎(احمد)
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَمَنَّى أَنَّهٗ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِيْ ثَمْرَةٍ قَطُّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3740 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت عبدﷲابن ابی اوفی ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی کے ساتھﷲتعالٰی ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے ۲؎پھر جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہوجاتا ہے ۳؎اور اسے شیطان چمٹ جاتا ہے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ ظلم کرتا ہے تو رب اس کو نفس کے سپردکردیتا ہے ۵؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِيْ أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الْقَاضِيْ مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِيْ رِوَايَةٍ: "فَإِذَا جَارَ وَكَلَهٗ إِلَى نَفْسِهٖ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3741 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی حضرت عمر کی طرف مقدمہ لے گئے ۱؎تو آپ نے حق یہودی کا دیکھا تواس کے حق میں فیصلہ فرمادیا ۲؎اس پر آپ سے یہودی بولاﷲکی قسم یقینًا آپ نے حق فیصلہ فرمایا۳؎اسے حضرت عمر نے درہ سے مارا۴؎اور فرمایا تجھے یہ کیسے معلوم ہوا تو یہودی نے عرض کیاﷲکی قسم ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق سے فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں ہوتا ہے اور ایک فرشتہ اس کے بائیں طرف ہوتا ہے یہ دونوں اسے ٹھیک رکھتے ہیں اور اسے حق کی توفیق دیتے ہیں ۵؎جب تک وہ حق کے ساتھ رہے پھر جب حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں چڑھ جاتے اور اسے چھوڑ جاتے ہیں ۶؎(مالک)
وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ مُسْلِمًا وَيَهُوْدِيًّا اخْتَصَمَا إِلَى عُمَرَ، فَرَأَى الْحَقَّ لِلْيَهُوْدِيِّ، فَقَضَى لَهٗ عُمَرُ بِهٖ،فَقَالَ لَهُ الْيَهُوْدِيُّ: وَاللّٰهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ، فَضَرَبَهٗ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيْكَ؟ قَالَ الْيَهُوْدِيُّ: وَاللّٰهِ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّهٗ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ إِلَّا كَانَ عَنْ يَمِيْنِهٖ مَلَكٌ، وَعَنْ شِمَالِهٖ مَلَكٌ، يُسَدِّدَانِهٖ وَيُوَفِّقَانِهٖ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ، فَإِذَا تَرَكَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَكَاهُ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3742 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
روایت ہے حضرت ابن موہب سے ۱؎کہ حضرت عثمان ابن عفان نے جناب ابن عمر سے فرمایا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو ۲؎آپ نے عرض کیا اے امیر المؤمنین مجھے معاف رکھیں گے۳؎فرمایا تم اس سے نفرت کیوں کرتے ہو حالانکہ تمہارے والد فیصلے فرمایا کرتے تھے۴؎عرض کیا اس لیے کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قاضی ہو پھر انصاف سے فیصلے کرے تو اس لائق ہے کہ اس سے برابر برابر۵؎لوٹے اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ نہ فرمایا ۶؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ اِبْنَ عَفَّانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعَافِيْني؟ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذٰلِكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوْكَ يَقْضِيْ؟ قَالَ: لِأَنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ، فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا"فَمَا رَاجَعَهٗ بَعْدَ ذٰلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3743 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا
اور رزین کی روایت حضرت نافع سے ان کی روایت ابن عمر سے کہ انہوں نے حضرت عثمان سے کہا اے امیر المؤمنین میں تو دوشخصوں کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎فرمایا تمہارے والد تو فیصلہ کرتے تھے تو عرض کیا کہ میرے والد پر کوئی مشکل بنتی تو وہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تھے ۲؎اور اگر رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی چیز مشکل ہوتی تو وہ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھ لیتے تھے۳؎اور میں اسے نہیں پاتا جس سے پوچھوں۴؎اور میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جوﷲکی پناہ مانگے تو اس نے بڑے کی پناہ مانگی اور میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ جوﷲکی پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو اور میںﷲکی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ مجھے قاضی بنائیں۵؎چنانچہ آپ نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا کسی کو خبر نہ دینا ۶؎
وَفِيْ رِوَايَةِ رَزِيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! لَا أَقْضِيْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِيْ فَقَالَ: إِنَّ أَبِيْ لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أُشْكِلَ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهٗ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنِّيْ لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهٗ، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ، فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيْمِ" وَسَمِعْتُهٗ يَقُوْلُ: "مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ فَأَعِيْذُوْهُ" وَإِنِّيْ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ أَنْ تَجْعَلَنِيْ قَاضِيًا فَأَعْفَاهُ، قَالَ: لَا تُخْبِرْ أَحَدًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3744 ، باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا