- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب :محرم شکار سے بچے
باب :محرم شکار سے بچے
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں گورخرپیش کیا ۲؎جب کہ حضور انور مقام ابواء یا ودّان میں تھے ۳؎تو آپ نے وہ واپس فرمادیا پھر جب حضور نے ان کے چہرے کی حالت دیکھی تو فرمایا کہ ہم نے صرف اس لیے واپس کیا کہ ہم محرم ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ: أَنَّهٗ أَهْدٰى لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَاٰى مَا فِي وَجْهِهٖ قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهٗ عَلَيْكَ إِلَّا أنَّا حُرُمٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2696 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎تو اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے وہ ساتھی تو محرم تھے یہ محرم نہ تھے انہوں نے حضرت ابوقتادہ کی نظر پڑنے سے پہلے ایک گورخر دیکھا، دیکھا تو چھوڑ دیا۲؎حتی کہ اسے ابو قتادہ نے دیکھ لیا تو آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا کوڑا اٹھا دیں انہوں نے انکار کیا ۳؎آپ نے خود اٹھا لیا شکار پر حملہ کیا اس کے پاؤں کاٹ دیئے پھر ابوقتادہ نے کھایا اور ساتھیوں نے بھی پھر اس پر نادم ہوئے ۴؎جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ملے تو آپ سے مسئلہ پوچھا حضور نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا کچھ ٹکڑا ہے بولے ہمارے ساتھ اس کا پاؤں ہے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وہ پاؤں لیا اورکھایا ۵؎(مسلم،بخاری)ان دونوں کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب وہ لوگ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے انہیں حملہ کرنے کو کہا تھا، اس طرف اشارہ کیا تھا بولے نہیں فرمایا تو بقیہ گوشت بھی کھالو ۶؎
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهٗ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهٖ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتّٰى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهٗ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهٗ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهٗ فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهٗ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ. قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهٗ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم فَأَكَلَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهٗ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا؟ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2697 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا پانچ جانور وہ ہیں ۱؎جنہیں احرام میں قتل کرنے والے پر گناہ نہیں:چوہا،کوّا،چیل،بچھو اور دیوانہ کتا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلٰى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2698 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا پانچ جانورموذی ہیں حل و حرم میں قتل کیے جائیں ۱؎سانپ ،چتکبراکوا،چوہا،دیوانہ کتا اور چیل ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2699 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہارے لیے شکاری گوشت حلال ہے جب تک کہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو ۱؎یا تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادُ لَكُمْ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2700 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ٹڈی دریائی شکار سے ہے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2701 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا محرم حملہ کرنے والے درندہ کو قتل کرسکتا ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2702 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی عمار سے فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللّٰه سے بِجّو کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ شکار ہے فرمایا ہاں ۱؎میں نے کہا کیا اسے کھایا جاسکتا ہے فرمایا ہاں میں نے کہا کہ یہ آپ نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے فرمایا ہاں ۲؎(ترمذی،نسائی،شافعی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيِ عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلتُ جَابِرَ بنَ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيُؤْكَلُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: سَمِعْتَهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2703 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بِجّو کے متعلق پوچھا فرمایا وہ شکار ہے ۱؎اور جب محرم اسے شکار کرے تو اس کے عوض بھیڑ دے دے ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: هُوَ صَيْدٌ وَيَجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2704 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت خزیمہ ابن جزی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بِجّو کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کوئی بِجّو بھی کھاتا ہے ۲؎اور آپ سے بھیڑیا کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ جس میں بھلائی ہو وہ بھیڑیا کھاسکتا ہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۴؎
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهٗ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2705 ، باب :محرم شکار سے بچے
روایت ہے حضرت ابن عثمان تیمی سے ۱؎فرماتے ہیں ہم طلحہ ابن عبید اللّٰه کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے تھے تو ان کے لیے پرندے لائے گئے اور حضرت طلحہ سو رہے تھے تو ہم میں سے بعض نے وہ کھالیئے اور بعض نے احتیاط برتی ۲؎پھر جب طلحہ جاگے تو آپ نے کھانے والوں کی موافقت کی کہا کہ ہم نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ پرندے کھائے ۳؎(مسلم)
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كنَّا مَعَ طَلْحَةَ ابْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهٗ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهٗ قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2706 ، باب :محرم شکار سے بچے