باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہ رہی ۱؎لیکن جہاد اور نیت ہے ۲؎اور جب جہاد کے لیے بلائے جاؤ تو نکل پڑو۳؎اور فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اللّٰه نے اس دن ہی حرم بنا دیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک اللّٰه کے حرم فرمانے سے حرام ہے ۴؎اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں جنگ جائز نہ ہوئی ۵؎اور مجھے بھی ایک گھڑی دن کی حلال ہوئی چنانچہ اب وہ تاقیامت اللّٰه کے حرام کئے سے حرام ہے کہ نہ یہاں کے کانٹے توڑے جائیں ۶؎اور نہ یہاں کاشکار بھڑکایا جائے ۷؎اور نہ یہاں کی گری چیز اٹھائی جائے ہاں جو اس کا اعلان کرے وہ اٹھائے ۸؎اور نہ یہاں کی خشک گھاس کاٹی جائے ۹؎حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اللّٰه اذخر کے سواء کہ وہ تو ہاروں اور یہاں کے گھروں میں کام آتی ہے ۱۰؎فرمایا سوائے اذخر کے ۱۱؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجْرَةَ وَلٰكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللّٰهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهٗ لَمْ يحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِيوَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهٗ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهٗ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهٗ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلٰى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهٗ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2715 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور سوا تلاش کرنے والے کے وہاں کی گری چیز کوئی نہ اٹھائے

وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتهَا إِلَّا مُنْشِدٌ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2716 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میں سےکسی کو یہ حلال نہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بمكةَ السِّلَاح» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2717 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم فتح کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سر پر خود تھا ۱؎پھر جب خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے فرمایا اسے قتل کردو ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلٰى رَأْسِهِ المِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهٗ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقْتُلْهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2718 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ بغیر احرام کے تھے اور آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2719 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایک لشکر کعبہ معظمہ پر حملہ کرے گا تو جب میدانی زمین میں ہوں گے تو ان کے اگلے پچھلے سب کو دھنسا دیا جائے گا ۱؎میں نے عرض کی یارسول اللّٰه ان کے اگلے پچھلوں کو کیسے دھنسایا جائے گا ان میں سوداگر بھی ہوں گے اور وہ بھی جو اس لشکر سے نہیں۲؎فرمایا کہ دھنسایا تو سارے اگلے پچھلوں کو جائے گا پھر اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ » . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَكَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُم؟ قَالَ: «يُخْسَفُ وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلٰى نِيَّاتِهِمْ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2720 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کعبہ کو حبشہ کا دو چھوٹی پنڈلیوں والا ڈھائے گا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّويقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2721 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ کالا چوڑی ٹانگوں والا ہے کعبہ کے پتھر پتھر اکھیڑ رہا ہے ۱؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَأَنِّي بِهٖ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَقْلَعُهَا حَجَرًا حَجَرًا».رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2722 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا حرم شریف میں غلہ بند رکھنا یہاں بے دینی کرنے کی طرح ہے ۱؎(ابوداؤد)

عَن يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2723 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ سے فرمایا ۱؎تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کیسا پیارا ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور بستی میں نہ رہتا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2724 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عدی ابن حمراء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو مقام حزورہ پر کھڑے ہوئے دیکھا ۱؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے اللّٰه کی قسم تو اللّٰه کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے اور اللّٰه کی تمام زمین میں خدا کو زیادہ پیاری ہے ۲؎اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو کبھی نہ نکلتا۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)۴؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللّٰهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ اللّٰهِ إِلَى اللّٰهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2725 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو ابن سعید سے فرمایا ۱؎جب کہ وہ مکہ معظمہ پر لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤ جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر فرمایا ۲؎جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھا ۳؎اپنے اللّٰه کی حمد و ثنا کی بھی فرمایا کہ مکہ کو اللّٰه نے حرم بنایا ہے کسی انسان نے نہ بنایا ۴؎تو کسی بھی اس شخص کو جو اللّٰه اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہویہ جائز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور نہ وہاں کا درخت کاٹے ۵؎اگر کوئی رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے جہادسے اجازت سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اللّٰه تعالٰی نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دے دی تھی اور تم کو نہ دی ۶؎رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دی تھی اب آج اس کی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی ۷؎حاضرین غائبین کو پہنچادیں ابو شریح سے کہا گیا کہ پھر تم سے عمرو نے کیا کہا فرمایا وہ بولا اے ابو شریح میں تم سے یہ زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف نہ تو مجرم کو پناہ دے سکتا ہے ۸؎نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کو ۹؎نہ فساد کرکے بھاگے کو ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور بخاری میں ہے کہ حزبہ خیانت ہے۔

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهٗ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهٖ : حَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللّٰهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهٗ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهٖ وَ لَمْ يَأْذَنْ لِرَسُولِهٖ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةَ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذٰلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِحُزْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْحُزْبَةُ: الْجِنَايَةُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2726 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے

روایت ہے حضرت عیاش ابن ابو ربیعہ مخزومی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ امت بھلائی پر رہے گی جب تک اس حرمت کا بحق تعظیم احترام کریں جب اسے برباد کریں گے ہلاک ہوجائیں گے ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ هٰذِهِ الأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هٰذِهِ الحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا فَإِذَا ضَيَّعُوا ذَلِكَ هَلَكُوا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2727 ، باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے