باب :شب قدر کابیان

روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق تاریخوں میں ڈھونڈوا ۱؎(بخاری)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2083 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کو شب قدر خواب میں دکھائی گئی کہ رمضان کے آخری ہفتہ میں ہے ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خوابیں آخری ہفتہ پر متفق ہوگئیں ۲؎ہیں تو جو شب قدر تلاش کرے وہ آخری ہفتہ میں تلاش کرے۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبع الأَوَاخِرِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرٰى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيْهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2084 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو جب نو دن باقی رہیں سات دن باقی رہیں پانچ دن باقی رہیں ان میں ۱؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "اِلْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ: فِيْ تَاسِعَةٍ تَبْقٰى، فِيْ سَابِعَةٍ تَبْقٰى، فِيْ خَامِسَةٍ تَبْقٰى". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2085 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا ۱؎پھر ترکی خیمہ کے اندر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا ۲؎پھر سر مبارک خیمہ سے نکال کر فرمایا کہ ہم نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا ۳؎پھر ہمارے پاس آنے والا آیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہ رات آخری عشرہ میں ہے۴؎تو جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ آخری عشرہ کا بھی اعتکاف کرے ۵؎مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ۶؎میں نے اس رات کی سویرے اپنے کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے ۷؎لہذا تم اسے آخری عشرہ میں ڈھونڈو ہر طاق تاریخ میں تلاش کرو ۸؎راوی فرماتے ہیں کہ اس نے بارش دیکھی اور مسجد پر چھپر تھا ۹؎چنانچہ مسجد ٹپکی اور میری آنکھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں کے سویرے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پاک پر کیچڑ کا اثر تھا ۱۰؎مسلم،بخاری معنے اور لفظ مسلم کے ہیں اس مضمون تک کہ مجھے بتایا گیا وہ آخری عشرہ میں ہے باقی بخاری میں ہے۔

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اِعْتكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِيْ قُبَّهٍ تُرْكِيَّةٍ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأسَهٗ فَقَالَ: "إِنِّي اَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيْتُ فَقِيْلَ لِيْ: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِر، فَمَنْ كَانَ اعْتكَفَ مَعِيَ فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ، فَقَدْ أُرِيْتُ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أُنْسِيْتُهَا، وَقَدْ رَأَيْتُنِيْ أَسْجُدُ فِيْ مَاءٍ وَطِيْنٍ مِنْ صَبِيْحَتِهَا، فَالْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوْهَا فِيْ كُلِّ وِتْرٍ". قَالَ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ،وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلٰى عَرِيْشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَعَلٰى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّيْنِ مِنْ صَبِيْحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِيْنَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فِي الْمَعْنَى، وَالْلَفْظُ لِمُسْلِمِ إِلٰى قَوْلِهٖ : "فَقِيْلَ لِيْ: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ". وَالْبَاقِيْ للْبُخَارِيِّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2086 ، باب :شب قدر کابیان

اور عبد اللہ ابن انیس کی روایت میں ہے کہ فرمایا وہ تئییسویں رات ہے ۱۱؎

وَفِىْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: "لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2087 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت زِر بن حبیش سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت ابی ابن کعب سے پوچھا میں نے کہا کہ تمہارے بھائی ابن مسعود فرماتے ہیں جو سال بھر شب بیداری کرے وہ شب قدر پا لے گا ۲؎وہ بولے اللہ ان پر رحم کرے انہوں نے چاہا یہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں ورنہ وہ جانتے ہیں کہ شبِ قدر رمضان میں ہے اس کے آخری عشرہ میں ہے اور وہ ستائیسویں شب ہے ۳؎پھر آپ نے بغیران شاء اللهکہے قسم کھائی کہ وہ ستائیسویں شب ہے ۴؎میں نے کہا آپ کس دلیل سے یہ فرماتے ہیں اے ابو المنذر فرمایا اس نشانی یا اس دلیل سے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی کہ اس دن سورج بغیر شعاؤں کے طلوع ہوتا ہے ۵؎(مسلم)

وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كعْبٍ فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ يَقُوْلُ: مَنْ يَقُم الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللّٰهُ، أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهٗ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِيْ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِيْ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ. فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُوْلُ ذٰلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ -أَوْ بِالآيَةِ- الَّتِيْ أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2088 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اس قدر مشقت فرماتے تھے جو دیگر ایام میں نہ کرتے تھے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِيْ غَيْرِهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2089 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہوجاتے ۱؎راتوں کو خود جاگتے اور گھر والوں کو جگاتے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهٗ، وَأَحْيَا لَيْلَهٗ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2090 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول افرمائیے اگر میں جان لوں کہ شب قدر کون سی رات ہے تو اس میں کیا پڑھوں ۱؎فرمایا یہ عرض کرو الٰہی تو معاف فرمانے والا ہے معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے ۲؎(احمد، ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُوْلُ فِيْهَا؟ قَالَ: "قُوْلِيْ: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعفُ عَنِّيْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهٗ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2091 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ رات یعنی شبِ قدر ڈھونڈو جب نو دن باقی رہیں یا سات دن باقی رہیں یا پانچ دن باقی رہے یا تین یا آخری رات ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: "الْتَمِسُوْهَا -يَعْنِىْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ- فِيْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ، أَو فِيْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَو فِيْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2092 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے ۱؎(ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث سفیان و شعبہ نے ابو اسحاق سے حضرت ابن عمر پرموقوف روایت کی۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: "هِيَ فِيْ كُلِّ رَمَضَانَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ: رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ مَوْقُوْفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2093 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن انیس سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرا ایک جنگل ہے جس میں میں رہتا ہوں ۱؎اوراَلْحَمْدُ لِلّٰهِوہاں ہی نمازیں پڑھتا ہوں ۲؎مجھے ایک رات بتادیجئے جس میں میں اس مسجد میں آیا کروں۳؎فرمایا تئیسویں رات آجایا کرو۴؎ان کے بیٹے سے پوچھا گیا کہ آپ کے والد کیا کرتے تھے فرمایا جب عصر پڑھ لیتے تو مسجد نبوی میں چلے جاتے ۵؎پھرکسی کام کے لیے نہ نکلتے حتی کہ نماز فجر پڑھ لیتے ۶؎جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اس پر سوار ہوکر اپنے جنگل چلے جاتے ۷؎(ابوداؤد)۸؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ لِيْ بَادِيَةً أُكَونُ فِيْهَا، وَأَنَا أُصَلِّيْ فِيْهَا بِحَمْدِ اللّٰهِ، فَمُرْنِيْ بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلٰى هٰذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ". قِيْلَ لِاِبْنِهٖ : كَيْفَ كَانَ أَبُوْكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتّٰى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهٗ عَلٰى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَلَحِقَ بِبَادِيَتِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2094 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبقدر بتانے تشریف لائے ۱؎تو دو مسلمان مرد لڑ پڑے ۲؎حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں شب قدر بتانے آیا تھا مگر فلاں فلاں لڑ پڑے تو شبِ قدر اٹھالی گئی ۳؎ممکن ہے یہ اٹھالیا جانا تمہارے لیے بہتر ہی ہو۴؎اب اسے آخری نویں،ساتویں،پانچویں میں تلاش کرو ۵؎(بخاری)

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ: "خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُوْنَ خَيرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوْهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2095 ، باب :شب قدر کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شبِ قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں ۱؎ہر اس کھڑے بیٹھے بندے کو دعائیں دیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کررہا ہو ۲؎پھر جب بندوں کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر فرماتا ہے ۳؎فرماتا ہے اے میرے فرشتوں اس مزدور کی اجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کردے ۴؎عرض کرتے ہیں الٰہی اس کی اجرت یہ ہے کہ اسے پورا ثواب دیا جائے ۵؎فرماتا ہے اے فرشتوں میرے بندے بندیوں نے میرا فریضہ پورا کردیا جوان پر تھا پھردعا ئیں شور مچاتے نکل پڑے ۶؎مجھے اپنی عزت و جلال اپنے کرم اپنی بلندی اپنے غلبہ مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا۷؎پھر فرماتا ہے لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا ۸؎اور تمہاری برائیوں کو خوبیا ں بنادیا ۹؎فرمایا پھر یہ لوگ بخشے ہوئے لوٹتے ہیں ۱۰؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيْلُ عليه السلام فِيْ كُبْكُبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يُصَلُّوْنَ عَلٰى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدِهِمْ -يَعْنِيْ يَوْمَ فِطْرِهِمْ- بَاهٰى بِهِمْ مَلَائِكَتَهٗ فَقَالَ: يَا مَلَائِكَتِيْ! مَا جَزَاءُ أَجِيْرٍ وَفَّى عَمَلَهٗ؟ قَالُوْا: رَبَّنَا جَزَاؤُهٗ أَنْ يُوَفَّى أَجْرَهٗ. قَالَ: مَلَائِكَتِيْ! عَبِيْدِيْ وَإِمَائِيْ قَضَوْا فَرِيْضَتِيْ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَرَجُوْا يَعُجُّوْنَ إِلَى الدُّعَاءِ، وَعِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ وكَرَمِيْ وَعُلُوِّيْ وَارْتفَاعِ مَكَانِيْ لأُجِيْبَنَّهُمْ. فَيَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، وَبَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ. قَالَ: فَيَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2096 ، باب :شب قدر کابیان