- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- باب: نفلی روزے
باب: نفلی روزے
روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے رہتے حتی کہ ہم کہتے روزے نہ رکھیں گے اور میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ سوائے رمضان کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ۱؎اور میں نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے نہ دیکھا ۲؎ایک روایت میں یوں ہے فرماتی ہیں کہ قریبًا سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بجز تھوڑے دنوں کے سارے شعبان کے روزے رکھتے ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اسْتكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ.وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيْلًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2036 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت عبدﷲابن شقیق سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ کیا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ کے پورے روزے بھی رکھتے تھے ۱؎بولیں مجھے خبر نہیں کہ رمضان کے سواء کسی اور پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں یا کسی مہینہ کا پورا افطار کیا ہو ہر مہینہ میں کچھ روزے رکھتے تھے ۲؎حتی کہ اپنی راہ تشریف لے گئے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2037 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یا کسی اور سے پوچھا اور عمران سن رہے تھے تو حضور نے فرمایا اے ابو فلاں کیا تم نے آخر ماہ شعبان کے روزے نہ رکھے ۱؎وہ بولے نہیں فرمایا جب یہ روزے رکھ چکو تو دو دن روزے رکھ لینا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَنَّهُ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ فَقَالَ: "يَا أَبَا فُلَانٍ! أَمَا صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2038 ، باب: نفلی روزے
روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینہ محرم کے ہیں ۱؎اور فرض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الصِّيامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ،وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2039 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ آپ کسی دن کے روزوں کو دوسرے دنوں پر بزرگی دے کر تلاش کرتے ہوں ۱؎سوائے اسی دن یعنی عاشوراء کے دن اور اسی مہینے یعنی ماہ رمضان کے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إلَّا هٰذَا الْيَوْمَ: يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَهٰذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2040 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا ۱؎تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وہ دن ہے جس کی یہود و عیسائی تعظیم کرتے ہیں ۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہم سال آئندہ زندہ رہے تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ التَّاسِعَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2041 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ام الفضل بنت حارث سے ۱؎کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق گفتگو کی بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار نہیں ۲؎تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ حضور انور کی خدمت میں بھیجا جب کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر قیام فرما تھے تو آپ نے پی لیا ۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ،فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2042 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو بقر عید کے عشرہ میں کبھی روزہ رکھتے نہ دیکھا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2043 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا آپ روزے کیسے رکھتے ہیں تو اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ۱؎جب حضرت عمر نے آپ کی ناراضی دیکھی تو عرض کیا ہم اللہ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفےٰ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ہم اللہ و رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۲؎حضرت عمر یہ بار بار کہتے رہے حتی کہ حضور کی ناراضی جاتی رہی ۳؎پھر حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ جو ساری عمر روزے رکھے وہ کیسا فرمایا نہ اس نے روزے رکھے نہ افطار کیا یا فرمایا نہ روزہ رکھ سکا اور نہ افطار کرسکا۴؎عرض کیا جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۵؎عرض کیا جو ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں ۶؎عرض کیا جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا میری تمنا ہے کہ مجھے یہ طاقت ملتی ۷؎پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور رمضان سے رمضان تک کے روزے ساری عمر کے روزے ہیں ۸؎عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اللہ کے کرم پر امید ہے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا کفارہ ہوجائے ۹؎اور عاشورہ کے دن روزہ مجھے اللہ کے کرم پر امید ہےکہ پچھلے سال کا کفارہ بنادے۔(مسلم)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْ قَوْله، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ غَضَبَهُ قَالَ: رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نبَيًّا، نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ غَضَبِ اللّٰهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، فَجَعَلَ عُمَرُ يُرَدِّدُ هٰذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ،فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَيفَ بِمن يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: "لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ"، أَوْ قَالَ: "لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ". قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ . قَالَ: "وَيُطِيقُ ذٰلِكَ أَحَدٌ؟ " قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُوم يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "ذَالِك صَوْمُ دَاوُدَ" قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهٰذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُوراءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2044 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا ۱؎اس دن میں ہم پیدا ہوئے اور اسی دن ہم پر قرآن اتارا گیا۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: "فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2045 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت معاذہ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتے تھے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کہ مہینہ کے کون سے حصہ میں روزے رکھتے تھے فرمایا اس کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوَّيةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّام الشَّهْر يَصُومُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2046 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے انہوں نے خبر دی ۱؎کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے ۲؎تو ساری عمر کے روزوں کی طرح ہوگا ۳؎(مسلم)۴؎
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالَ كَانَ كصِيَامِ الدَّهْرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2047 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے عید و قربانی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2048 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو دن روزہ جائز نہیں عید و بقرعید ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ: الْفِطْر وَالأَضْحَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2049 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت نبیشہ ہذلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریق کا زمانہ کھانے اور پینے اور اللہ کے ذکر کا زمانہ ہے ۱؎(مسلم)۲؎
وَعَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2050 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے ۱؎مگر یہ کہ اس کے آگے پیچھے بھی روزہ رکھے ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَن يَصُومَ قَبْلَهُ أَو يَصُومَ بَعْدَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2051 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ کی رات کو دیگر راتوں میں شب بیداری سے خاص نہ کرو ۱؎اور جمعہ کے دن کو دیگر دنوں میں روزے سے خاص نہ کرو ۲؎مگر یہ کہ جمعہ اس تاریخ میں آجائے جس میں کوئی روزہ رکھتاہو۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخْتَصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2052 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے تو اللہ اسے آگ سے ستر سال کی راہ دور رکھے گا ۱؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ بَعَّدَ اللّٰهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2053 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عبد اللہ کیا مجھے یہ خبر نہ ملی کہ تم ہمیشہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ۱؎میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ایسا نہ کرو روزہ بھی رکھو،افطاربھی کرو، قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ۲؎کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے اور تم پر تمہاری آنکھو ں کا بھی حق ہے ۳؎اور تم پرتمہاری بیوی کا بھی حق ہے اورتم پر تمہارے ملاقاتی کا بھی حق ہے ۴؎جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزے رکھے ہی نہیں ۵؎ہر مہینہ تین روزے ساری عمر کے روزے ہیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھو ۶؎اور ہر مہینہ ایک قرآن ختم کرو ۷؎میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۸؎فرمایا تو تم بہترین روزے یعنی روزہ داؤد رکھو کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اس سے زیادہ نہ کرو ۹؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ! أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ. صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كلِّهِ، صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ: صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ. وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبع لَيَالٍ مَرَّةً، وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2054 ، باب: نفلی روزے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ۱؎(ترمذی نسائی)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2055 ، باب: نفلی روزے
- 1
- 2