باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی بندہ کی توبہ قبو ل فرماتا ہے غرغرہ سے پہلے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2343 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان نے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں ۱؎رب عزّوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیٔ درجات کی قسم میں انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں ۲؎(احمد)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ، فَقَالَ الرَّبُّ عزَّ وجلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2344 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت صفوان بن عسال سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نے توبہ کے لیے مغرب میں ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے ۲؎وہ اس وقت تک بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۳؎یہ ہی اللہ عزوجل کا فرمان عالی شان ہے جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آئیں گی تو کسی ایسے نفس کو ایمان مفید نہ ہوگا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهٗ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهٖ، وَذٰلِكَ قَوْلُ اللّٰهِ عزَّ وجلَّ: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2345 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بند نہ ہوگی ۱؎حتی کہ توبہ بند ہو اور توبہ بند نہ ہوگی حتی کہ سورج اپنے مغرب کی طرف سے نکلے ۲؎(احمد،ابوداؤد،دارمی)

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتّٰى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2346 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی اسرائیل میں دو محبت والے دوست تھے ۱؎جن میں سے ایک تو عبادت میں کوشاں تھا اور دوسرا کہتے ہیں گنہگار تھا ۲؎عابد کہنے لگا کہ ان کاموں سے باز آ جن میں تو پھنسا ہے وہ کہنے لگا مجھے میرے رب پر چھوڑ دے۳؎ایک دن عابد نے اسے ایسے گناہ پر پایا جسے اس نے بہت ہی بڑا جانا تو بولا باز آجا وہ بولا مجھے میرے رب پر چھوڑ کیا تو میرا داروغہ مقرر ہوا ہے۴؎یہ بولا اللہ کی قسم تجھے رب نہ تو کبھی بخشے اور نہ کبھی جنت میں داخل کرے ۵؎اللہ نے ان دونوں کے پاس فرشتہ بھیجا جس نے ان دونوں کی روحیں قبض کیں ۶؎یہ دونوں رب کے پاس جمع ہوئے ۷؎تو رب نے گنہگار سے فرمایا تو میری جنت میں داخل ہوجا ۸؎اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے بندے پر میری رحمت روک سکتا ہے عرض کیا نہیں یارب ۹؎فرمایا لے جاؤ اسے آگ میں ۱۰؎(احمد)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَحَابَّيْنِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ لِلْعِبَادَةِ، وَالآخَرُ يَقُوْلُ: مُذْنِبٌ,فَجَعَلَ يَقُوْلُ: أَقْصِرْ عَمَّا أَنْتَ فِيهِ، فَيَقُوْلُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، حَتّٰى وَجَدَهٗ يَوْمًا عَلٰى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهٗ، فَقَالَ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكَ أَبَدًا، وَلَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ، فَبَعَثَ اللّٰهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهٗ، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اُدْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلآخَرِ: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَحْظُرَ عَلٰى عَبْدِي رَحْمَتِيْ؟ فَقَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: اِذْهَبُوْا بِهٖ إِلَى النَّارِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2347 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے سنا کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیاکی رحمت سے نا امید نہ ہو ۲؎تعالٰی سارے گناہ بخش دے گا اور پرواہ بھی نہ کرے گا ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے اور شرح سنہ میں پڑھتے تھے کی بجائے فرماتے تھے،ہے۔

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقْرَأُ: " قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيعًا وَلَا يُبَالِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": "يَقُوْلُ" بَدَلَ "يقْرَأ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2348 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سےتعالٰی کے اس قول کے متعلق کہالا اللمم۱؎رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الٰہی اگر تو بخشے تو بڑے گناہ بخش دے گناہ صغیرہ کس بندے نے نہیں کئے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۳؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى: إِلَّا اللَّمَمَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنْ تَغْفِرِ اللّٰهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2349 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سواء اس کے جسے میں ہدایت دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو تمہیں ہدایت دوں گا ۱؎اور تم سب فقیر ہو سواء اس کے جسے میں غنی کردوں لہذا مجھ سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا ۲؎اور تم سب مجرم ہو سواء اس کے جسے میں سلامت رکھوں تو تم میں سے جو یہ جان لے کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں اسے بخش دوں گا۳؎اور پرواہ بھی نہ کروں گا اور اگرتمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے، ترو خشک میرے بندوں میں نیک ترین بندے کے دل پر ہوجائیں ۴؎تو یہ ان کی نیکی میرے ملک میں مچھر کے پر برابر بڑھائے گی نہیں ۵؎اور اگر تمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے،تروخشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین دل پرمتفق ہو جائیں تو ان کے یہ جرم میرے ملک سے مچھر کے پر برابر کم نہ کریں گے ۶؎اور اگر تمہارے پچھلے زندے مردے،تر و خشک ایک میدان میں جمع ہوں اور پھر تم میں سے ہر شخص اپنی انتہائی تمنا و آرزو مجھ سے مانگے ۷؎پھر میں ہر منگتے کو دے دوں تو یہ میرے ملک کے مقابل ایسا ہی کم و تھوڑا ہوگا جیسے تم میں سے کوئی دریا پر گزرے اس میں سوئی ڈبوئے پھر اسے اٹھائے ۸؎یہ اس لیے ہے کہ میں داتا ہوں ۹؎بہت دینے والا جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۱۰؎میری عطا صرف فرمادینا ہے اور میرا عذاب صرف فرمادینا ہے،میرا حکم کسی شئے کے متعلق یہ ہے کہ جب کچھ چاہتا ہوں فرمادیتا ہوں ہوجا وہ ہوجاتی ہے ۱۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَاسْأَلُوْنِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ، وَكُلُّكُمْ فُقَرَاءُ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ، فَاسْأَلُوْنِي أَرْزُقْكُمْ، وَكُلُّكُم مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ، فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُوْ قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِيْ غَفَرْتُ لَهٗ وَلَا أُبَالِي، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوْا عَلٰى أَتْقٰى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَاد ذٰلِكَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوْا عَلٰى أَشْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوْا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهٗ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِي إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِالْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيْهِ إِبْرَةً، ثُمَّ رَفَعَهَا. ذٰلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أُرِيْدُ، عَطَائِيْ كَلَامٌ، وَعَذَابِيْ كَلَامٌ، إِنَّمَا أَمْرِيْ لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُوْلَ لَهٗ: كُنْ فَيَكُوْنُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2350 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور نے تلاوت فرمایا وہ تقویٰ اور بخشش والا ہے حضور نے فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ۱؎توجو مجھ سے ڈرے گا تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَرَأَ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ، قَالَ: "قَالَ رَبُّكُمْ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى،فَمَنِ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهٗ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2351 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے ہم اس فرمان کو ایک مجلس میں سو بار شمار کرلیتے تھے کہ عرض کرتے تھے یا رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما یقینًا تو توبہ قبول فرمانے والا ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنْ كنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُوْلُ: "رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ" مِائَةَ مَرَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2352 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت بلال بن یسار ابن زید سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو یہ پڑھا کرے معافی مانگتا ہوں اس اللہ سے جس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں تو اس کی بخشش کردی جائے گی اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)لیکن ابوداؤد کے نزدیک راوی ہلال ابن یسار ہیں اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ۳؎

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِيْ عَنْ جَدِّي أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:"مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهٗ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، لَكِنَّهٗ عِنْدَ أَبِيْ دَاوُدَ هِلَالُ بْنُ يَسَارٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2353 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نیک بندے کے جنت میں درجے بلند فرماتا ہے ۱؎تو بندہ عرض کرتا ہے الٰہی مجھے یہ بلندی درجہ کہاں سے ملی ۲؎رب فرماتا ہے تیرے بچے کے تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے۳؎(احمد)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ عزَّ وجلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ: يَا رَبِّ! أَنّٰى لِيْ هَذِهٖ؟ فَيَقُوْلُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2354 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت عبدابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے ۱؎کہ ماں باپ بھائی یا دوست کی دعائے خیر کے پہنچنے کی منتظر رہتی ہے ۲؎پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے ۳؎اورتعالٰی زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو ثواب کے پہاڑ دیتا ہے ۴؎اور یقینًا زندہ کا مردوں کے لیے تحفہ ان کے لیے دعائے مغفرت ہے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهٗ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ، فَإِذَا لَحِقَتْهٗ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيُدْخِلُ عَلٰى أَهْلِ الْقُبُوْرِ مِنْ دُعَاءِ أَهْلِ الأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، وَإِنَّ هَدِيَّةَ الأَحْيَاءِ إِلَى الأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2355 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے ۱؎(ابن ماجہ) اور نسائی نے اس حدیث کو دن رات کے عمل میں روایت کیا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "طُوْبٰى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهٖ اِسْتِغْفَارًا كَثِيرًا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ فِي "عَمَلِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2356 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں عرض کرتے تھے الٰہی مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکیاں کریں اور خوش ہوجائیں اور گناہ کریں تو معافی مانگ لیں ۱؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نے دعوات کبیر میں۔

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ: "اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوْا وإِذَا أَسَاؤُوا اسْتَغْفَرُوْا"رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعَوَاتِ الْكَبِير".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2357 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت حارث ابن سوید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ ابن مسعود نے دو حدیثیں سنائیں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسری اپنی طرف سے ۲؎فرمایا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے ڈر رہا ہے کہ اس پر گر جائے ۳؎اور بدکار اپنے اپنے گناہوں کو اس مکھی طرح سمجھتاہے جو اس کی ناک پر گذرے تو یوں کردے یعنی اپنے ہاتھ سے اسے اڑادے ۴؎پھرفرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی اپنے مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۵؎جوکسی جانوروں والی ہلاکت کی زمین میں اترے اس کے ساتھ سواری ہے جس پر اس کا کھانا پانی ہے اس نے سر رکھا کچھ سوگیا ۶؎جاگا تو اس کی سواری جاچکی تھی اسے بہت ڈھونڈ رہا تھا حتی کہ جب اس پر دھوپ یا پیاس یا جو اللہ نے چاہا غالب آگئی ۷؎تو بولا کہ میں اپنی اس ہی جگہ لوٹ جاؤں جہاں تھا ۸؎وہاں سوجاؤں حتی کہ مرجاؤں اپنے بازؤں پر مرنے کے لئے سر رکھ دیا ۹؎پھر جاگا تو اس کی سواری اس کے پاس تھی جس پر اس کا توشہ پانی تھا ۱۰؎اللہ تعالٰی مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جویہ سواری سے خوش ہو ۱۱؎مسلم نے صرف وہ ہی روایت نقل کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ابن مسعود سے مرفوع ہے اور بخاری نے ابن مسعود پر موقوف حدیث بھی روایت کی ہے ۱۲؎

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ حَدِيثَيْنِ: أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِهٖ، قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرٰى ذُنُوْبَهٗ كَأَنَّهٗ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرٰى ذُنُوْبَهٗ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلٰى أَنْفِهٖ، فَقَالَ بِهٖ هٰكَذَا -أَيْ: بِيَدِهٖ- فَذَبَّهٗ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْل: "لَلّٰهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهٗ رَاحِلَتُهٗ، عَلَيْهَا طَعَامُهٗ وَشَرَابُهٗ، فَوَضَعَ رَأْسَهٗ، فَنَامَ نَوْمَةً، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهٗ،فَطَلَبَهَا حَتّٰى إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْحَرُّ وَالْعَطَشُ أَوْ مَا شَاءَ اللّٰهُ قَالَ: أَرْجِعُ إِلٰى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتّٰى أَمُوْتَ، فَوَضَعَ رَأْسَهٗ عَلٰى سَاعِدِهٖ لِيَمُوْتَ، فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهٗ عِنْدَهٗ، عَلَيْهَا زَادُهٗ وَشَرَابُهٗ، فَاللّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هٰذَا بِرَاحِلَتِهٖ وَزَادِهٖ". رَوٰى مُسْلِمٌ الْمَرْفُوْعَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَحَسْبُ، وَرَوَى البُخَارِيُّ الْمَوْقُوْفَ عَلَى ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَيْضًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2358 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی اس مؤمن کو پسند فرماتا ہے جو فتنوں میں گھرا ہو ۱؎توبہ کرتا ہو۲؎

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2359 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھے اس آیت کے عوض ساری دنیا مل جاتی ۱؎اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ناامید نہ ہوؤ ،الخ ۲؎ایک شخص بولا تو جو شرک کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا یقینًا جو شرک کرے تین بار فرمایا(یعنی اس کی توبہ بھی قبول ہوگی۳؎

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِهٰذِهِ الآيَةِ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا الْآيَةَ "، فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: "أَلا وَمَنْ أَشْرَكَ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2360 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی اپنے بندے کو بخشتا ہے جب تک کہ آڑ نہ واقع ہو ۱؎لوگوں نے عرض کیا یارسولآڑ کیا ہے فرمایا یہ کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے مرجائے ۲؎ان تینوں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اوربیہقی نے آخری حدیثکتاب البعث والنشورمیں روایت کی۔

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهٖ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ". قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ: "أَنْ تَمُوْتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ". رَوَى الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ أَحْمَدُ،وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَخِيرَ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2361 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اللہ تعالٰی سے اس طرح ملے ۱؎کہ دنیا میں کسی چیز کو اس کے برابر نہ جانتا ہو۲؎پھر اس پر گناہوں کے پہاڑ ہوں تو اللہ اسے بخش دے گا ۳؎(بیہقی کتاب البعث و النشور)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَقِيَ اللّٰهَ لَا يَعْدِلُ بِهٖ شَيْئًا فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِبَالٍ ذُنُوْبٌ، غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2362 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان