باب : قرآنی سجدے

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا ۱؎(بخاری)

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ المُسْلِمونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1023 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ"اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتْ"میں اور"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"میں سجدہ کیا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: (إِذا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ)وَ (اقْرَأ بِاسْمِ رَبِّكَ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1024 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سجدے کی آیت پڑھتے تو ہم آپ کے پاس ہوتے تو آپ اور ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے بھیڑ لگ جاتی حتی کہ ہم میں کوئی اپنی پیشانی کے لیے جگہ نہ پاتا کہ جس پر سجدہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ (السَّجْدَةَ)وَنَحْنُ عِنْدَهٗ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهٗ فَنَزْدَحِمُ حَتّٰى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهٖ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1025 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں میں نے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے سامنےوَالنَّجْمِپڑھی آپ نے اس میں سجدہ نہ کیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلیٰ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَالنَّجْمِ)فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1026 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ سورۂصکا سجدہ فرضی سجدوں میں نہیں ۱؎میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے ۲؎

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: (سَجْدَةُ (ص)لَيْسَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1027 ، باب : قرآنی سجدے

اور ایک روایت میں ہے مجاہد کہتے ہیں ۱؎کہ میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کیا سورۂصمیں سجدہ کروں تو آپ نے یہ تلاوت کیا "مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ؎حتی کہ"فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ"پر پہنچے پھر فرمایا کہ تمہارے نبی صلی الله علیہ وسلم ان میں سے ہیں جنہیں ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ۳؎(بخاری)

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ مُجَاهِدٌ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَأَسْجُدُ فِي (ص)فَقَرَأَ: (مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ)حَتّٰى أَتٰى (فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ)فَقَالَ: نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أَمَرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1028 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت عمروابن عاص سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے جن میں سے تین مفصل میں ہیں اور دو سورۂ حج میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

عَنْ عَمْرِو بن الْعَاصِ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ.رَوَاهُ أَبُودَاوُد وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1029 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی کہ اس میں دو سجدے ہیں فرمایاہاں جویہ دو سجدے نہ کرے ۱؎وہ ان دونوں کو نہ پڑھے۔(ابوداؤد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎اور مصابیح میں ہے کہ سورۂ حجنہ پڑھے جیسا کہ شرح سنہ میں ہے۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِأَنَّ فِيهَا سَجْدَتَيْنِ قَالَ: نَعَمْ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ. وَفِي الْمَصَابِيحِ: «فَلَا يَقْرَأها»كَمَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1030 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا لوگ سمجھے کہ آپ نےتنزیل السجدہپڑھی ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ فَرَأَوْا أَنَّهٗ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1031 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہم پر قرآن پڑھتے جب سجدے کی آیت پر گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے ۱؎(ابوداؤد)

وَعنهُ: أَنَّهٗ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدَنَا مَعَهٗ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1032 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال آیت سجدہ پڑھی سب لوگوں نے سجدہ کیا ۱؎ان میں سوار اور زمین پرسجدہ کرنے والے حتی کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کرتا تھا ۲؎

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ عَلَی الأَرْضِ حَتّٰى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلیٰ يَدِهٖ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1033 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد طوال مفصل کی قرأت کے دوران سجدہ نہیں کیا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى المَدِينَةِ.رَوَاهُ أَبُودَاوُد

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1034 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم رات میں قرآنی سجدوں میں یوں کہتے تھے میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ اپنی طاقت و قوت سے چیرے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهٗ وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ بِحَوْلِهٖ وَقُوَّتِهٖ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1035 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۱؎عرض کیا یارسول الله میں نے آج رات سوتے ہوئے اپنے کو دیکھا کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں میں نے سجدہ کیا ۲؎میرے سجدے کے ساتھ درخت نے بھی سجدہ کیا میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا ۳؎الٰہی اس سجدے کی برکت سے اپنے پاس میرے لیے ثواب لکھ اور میرا گناہ دور کر اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنا ۴؎اور اسے مجھ سے ایسا ہی قبول کر جیسے اپنے بندے داؤد سے قبول کیا تھا،ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی ۵؎پھر سجدہ کیا تو میں نے آپ کو اسی طرح کہتے سنا جیسے اس شخص نے درخت کے قول کی خبر دی تھی۶؎(ترمذی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نےوتقبلھاالخ کا ذکر نہ کیا ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اَللّٰهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ ابْن عَبَّاسٍ : فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهٗ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1036 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سورۂوَالنَّجْمپڑھی تو اس میں آپ نے بھی سجدہ کیا اور انہوں نے بھی جو آ پ کے ساتھ تھے ۱؎ایک قریشی بڈھے کے سوا ء جس نے ایک مٹھی کنکریا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور بولا مجھے یہی کافی ہے ۲؎عبد الله فرماتے ہیں میں نے بعد میں اسے دیکھا کہ کافر مارا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)اور بخاری نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ وہ امیہ ابن خلف تھا ۴؎

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ (وَالنَّجْمِ)فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهٗ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ الٰى جَبْهَتِهٖ وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا. قَالَ عَبْدُ اللهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهٗ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا. وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلْفٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1037 ، باب : قرآنی سجدے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سورۂصمیں سجدہ کیا اور فرمایا کہ حضرت داؤد نے توبہ کے طور پر یہ سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر یہ سجدہ کرتے ہیں ۱؎(نسائی)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي (ص)وَقَالَ: سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1038 ، باب : قرآنی سجدے