- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپسمع الله لمن حمدہکہتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک پیٹھ نہ جھکاتا جب تک نبی صلی الله علیہ وسلم اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھتے ۲؎(مسلم، بخاری)
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» . لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهٗ حَتّٰى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهٗ عَلَی الأَرْضِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1136 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوئی تو ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوئے فرمایا اے لوگو ! میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع سجدے قیام اور فراغت میں مجھے سے آگے نہ بڑھو ۱؎کیونکہ میں تم کو اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سےبھی ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ: فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1137 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے امام سے جلدی نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ کہےوَلَاالضَّآلِّیْنَتو تم کہوآمین۱؎اور جب رکوع کرے تم رکوع کرو اور جب کہےسَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہتو تم کہواَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد۲؎(مسلم،بخاری) مگر بخاری نے ذکر نہ کیا کہ جب وہوَلَاالضَّآلِّیْنَکہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوْا وَإِذا قَالَ: وَلَاالضَّآلِّیْنَ. فَقُولُوا: آمِينَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا: اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَك الْحَمد "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: " وَإِذَا قَالَ: وَلَاالضَّآلِّیْنَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1138 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے تو آپ کی دائیں کروٹ چھل گئی ۱؎پھر آپ نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی پڑھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لیئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ نماز کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب اٹھائے تو تم اٹھاؤ جب کہےسمع الله لمن حمدہتو تم کہوربنا لك الحمدجب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بیٹھ کر پڑھو ۲؎حمیدی فرماتے ہیں کہ یہ حکم کہ وہ بیٹھ کر پڑھے تم بیٹھ کر پڑھو آپ کے پرانے مرض میں تھا پھر اس کے بعد نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز بیٹھ کر پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے اور انہیں بیٹھنے کا حکم نہ دیا اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا آخری عمل لیا جاتا ہے اور آخری یہ ہے ۳؎یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم سےاجمعونتک متفق ہیں اور ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ امام کی مخالفت نہ کرو جب سجدے کرے سجدہ کرو تم۔
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَصَلّٰى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهٗ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهٖ فَإِذَا صَلّٰى قَائِمًا فَصَّلُّوْا قِيَامًا فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلّٰى قَائِمًا فَصَّلُّوْا قِيَامًا وَإِذَا صَلّٰى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلّٰى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهٗ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلٰى أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَيْهِ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1139 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے تو حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیئے آئے ۱؎فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر نماز پڑھاتے ۲؎پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن پایا تو کھڑے ہوئے کہ دو شخصوں کے درمیان لے جائے جاتے تھے اور آپ کے قدم زمین پر گھسٹتے تھے۳؎حتی کہ آپ مسجد میں تشریف لائے جب صدیق اکبر نے آپ کی آہٹ محسوس کی تو آپ پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نہ ہٹو۴؎پس آپ تشریف لائے اور حضرت صدیق کی بائیں بیٹھ گئے ۵؎کہ صدیق کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیٹھ کر اور صدیق اکبر حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ صدیق اکبر کی نماز کی ۶؎(مسلم،بخاری) اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ صدیق اکبر لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔
وَعَنْ عَائِشَة رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا ثَقَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُه بِالصَّلَاة فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» فَصَلّٰى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهٖ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادٰى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتّٰى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّه ذَهَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتّٰى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِيْ بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَقْتَدُوْنَ بِصَلَاة أَبِيْ بَكْرٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا : يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1140 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھالیتا ہے وہ اس سے نہیں ڈرتا کہ الله اس کا سر گدھے کا سا کردے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَمَا يَخْشَى الذِي يَرْفَعُ رَأْسَهٗ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللهُ رَأْسَهٗ رَأْسَ حمَارٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1141 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت علی اور معاذ ابن جبل رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز کو آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو جیسا امام کررہا ہے وہی خود کرے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
عَنْ عَلِيٍّ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا أَتٰى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلیٰ حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1142 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرلو اور اسے کچھ شمار نہ کرو ۱؎اور جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهُ شَيْئًا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1143 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو الله کے لیئے چالیس دن باجماعت نماز پڑھے کہ پہلی تکبیر پاتا رہے تو اس کے لیئے دو پروانے لکھے جائیں گے ایک پروانہ آگ سے آزادی کا دوسرا نفاق سے آزادی کا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلّٰى لِلّٰهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى كُتِبَ لَهٗ بَرَاءَتَانِ: بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاق ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1144 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر چلے لوگوں کو پائے کہ نماز پڑھ چکے، الله اسے اس کی طرح ثواب دے گا جس نے نماز باجماعت پڑھی،یہ ان کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۱؎(ابوداؤد، نسائی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهٗ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1145 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ایک صاحب آئے حالانکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے تو حضور نے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو ان پر احسان کرے کہ ان کے ساتھ نماز پڑھے ایک صاحب کھڑے ہوئے ان کے ساتھ نماز پڑھ لی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلیٰ هٰذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟» فَقَامَ رَجُلٌ فصَلّٰى مَعَه ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1146 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت عبید الله ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے مرض کی بابت کچھ نہ بتائیں گی فرمایا ہاں ضرور ۱؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم بہت بیمار ہوگئے تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسول الله نہیں وہ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں ہم نے کردیا ۲؎آپ نے غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۳؎پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسو ل الله نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں پھر حضور بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۴؎پھر کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا یارسول الله نہیں وہ لوگ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیے لگن میں پانی رکھو پھر بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۵؎پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض نہیں یارسول الله وہ آپ کے منتظر ہیں اور لوگ مسجد میں ٹھہرے ہوئے آخری عشاء کے لیئے حضور صلی الله علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے ۶؎تب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ کے پاس قاصد آیا ۷؎عرض کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۸؎ابوبکر صدیق نرم دل تھے فرمایا اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ۹؎عمر فاروق نے عرض کیا کہ اس کے حقدار آپ ہی ہیں ۱۰؎چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر صدیق نماز پڑھاتے رہے پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن پایا اور دو شخصوں کے درمیان نماز ظہر کے لیئے نکلے جن میں سے ایک عباس تھے ۱۱؎اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر صدیق نے آپ کو دیکھا تو پیچھے جانے لگے ۱۲؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جاؤ فرمایا کہ ابوبکر کے برابر بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابوبکر کے برابر بٹھاد یا اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۱۳؎عبید الله کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عبد الله ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھے حضرت عائشہ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق سنائی فرمایا لاؤ میں نے ان پر ان کی پوری حدیث پیش کردی آپ نے اس کا کچھ بھی انکار نہ کیا بجز اس کے فرمایا کیا حضرت عائشہ نے تمہیں ان صاحب کا نام بھی بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا نہیں فرمایا وہ علی تھے ۱۴؎(مسلم،بخاری)
عَن عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلٰى ثَقَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَ صَلّٰى النَّاسُ» . قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذٰلِكَ فَصَلّٰى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهٖ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: «أَجْلِسَانِي إِلٰى جَنْبِهٖ» فَأَجْلَسَاهُ إِلٰى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ : فَدَخَلْتُ عَلیٰ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ الا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي بِهٖ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهٗ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَليٌّ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1147 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے تھے جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی اور جس سےالحمدکی قرأت چھوٹ گئی اس کی بہت خیر جاتی رہی ۱؎(مالک)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ وَمَنْ فَاتَتْهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ فَاتَهٗ خَيْرٌ كَثِيْرٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1148 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا جھکاتا ہے اس کی پیشانی شیطان کی ہاتھ میں ہے ۱؎(مالک)
وَعنهُ قَالَ: الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهٗ وَيَخْفِضُهٗ قَبْلَ الْإِمَامِ فَإِنَّمَا نَاصِيَتَه بِيَدِ الشَّيْطَانِ ". رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1149 ، باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم