باب : جمعہ کا بیان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ۱∞؎بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۲؎پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھےہمیں الله نے اس کی ہدایت دے دی ۳؎اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں ۴؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ ہم پیچھے ہیں اور قیامت کے دن آگے جنت میں ہم ہی پہلے جائیں گے۵؎اور اس کے سواء کہ انہیں الخ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هٰذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِم يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةَ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهٗ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارٰى بَعْدَ غَدٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ» . وَذَكَرَ نَحوَهُ الٰى آخِرِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1354 ، باب : جمعہ کا بیان

اور اس کی دوسری روایت میں انہیں سے اور حضرت حذیفہ سے ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ ہم دنیا والوں سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہوں گے کہ ہمارا فیصلہ مخلوق سے پہلے ہوگا ۱∞؎

وَفِي اُخْرٰی عَنْہُ وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1355 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بہترین وہ دن جس میں سورج نکلے وہ جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے اسی دن جنت میں گئے اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ اِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1356 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں ایک گھڑی ہے جسے بندہ مؤمن نہیں پاتا کہ اس میں الله سے خیر مانگے مگر الله اسے وہ ضرور دیتا ہے ۱∞؎(مسلم، بخاری)مسلم نے زیادہ کیا فرمایا وہ چھوٹی سی گھڑی ہے۔اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جمعہ میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان نہیں پاتا کہ کھڑا ہو ا نماز پڑھتا ہو الله سے خیر مانگے مگر الله اسے ضرور دیتا ہے۲؎

وعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَاد مُسْلِمٌ: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ».وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ:«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهَ خَیْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1357 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جمعے کی ساعت کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ امام کے بیٹھنے سے ادائے نماز کے درمیان ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسىٰ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلٰى أَن تُقْضَى الصَّلَاةُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1358 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں طور کی طرف گیا ۱∞؎تو کعب احبار ۲؎سے ملا ان کے پاس بیٹھا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں اور میں نے انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیثیں۳؎جو حدیثیں میں نے انہیں سنائیں ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے کہا فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بہترین وہ دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے،اسی میں اتارے گئے،اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی میں وفات پائی،اسی میں قیامت قائم ہوگی۴؎ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۵؎جن و انس کے سواءاور اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے نہیں پاتا کہ الله سے کچھ مانگ لے مگر رب اسے دیتا ہے کعب بولے کہ یہ ہر سال میں ایک بار ہے میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے تو کعب نے توریت پڑھی تو بولے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۶؎ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں عبد الله ابن سلام سے ملا تو میں نے انہیں کعب کے پاس بیٹھنے اور جو کچھ میں نے ان سے جمعہ کے بارے میں گفتگو کی سنائی میں نے کہا کہ کعب بولے یہ ہر سال میں ایک دن ہے تو عبد الله ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے غلط کہا ۷؎تب میں نے ان سے کہا پھر کعب نے توریت پڑھی تو فرمایا بلکہ وہ ہر جمعہ میں ہے تب عبد الله ابن سلام بولے کہ کعب نے سچ کہا ۸؎پھر عبد الله ابن سلام نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی ساعت ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ مجھے بتادیجئے اور بخل نہ کیجئے ۹؎عبد الله ابن سلام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۱۰؎ابوہریرہ فرماتے ہیں میں بولا کہ وہ جمعہ کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بندہ اسے نماز پڑھتے ہوئے پائے ۱۱∞؎عبد الله ابن سلام بولے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کسی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھے تو وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں فرمایا وہ یہی ہے ۱۲؎(مالک، ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور احمد نےصدق کعبتک روایت کی۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهٗ فَحَدَّثَنِي عَنْ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهٗ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهٗ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّة ٍإِلَّا وَهِيَ مَصِيْخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مُشْفِقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَلُ الله َ شَيْئًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذٰلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهٗ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الاَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهٗ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهٗ : قَالَ كَعْب: ذٰلِكَ كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذِبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهٗ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بهَا.وَلَاْتَضَنَّ عَلَیَّ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتّٰى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: بلٰى. قَالَ: فَهُوَ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى أَحْمدُ إِلٰى قَوْلِهٖ: صَدَقَ كَعْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1359 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ ساعت جس کی جمعہ کے دن امید کی جاتی ہے وہ عصر کے بعد سے آفتاب ڈوبنے تک ڈھونڈو ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اِلْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجٰى فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلٰى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1360 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت اوس ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم پیدا ہوئے اور اسی میں وفات دیئے گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے لہذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو ۱∞؎کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں ۲؎لوگ بولے یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمارے درود آپ پر کیسے پیش ہوں گے آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے(یعنی گلی ہڈی)۳؎فرمایا کہ الله نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے ۴؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی۔بیہقی نےدعوات کبیرمیں)۵؎

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ و فِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَأَكْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليَّ» فَقَالُوا: يَا رَسُول الله وَكَيْفَ تَعْرُضُ صَلَاتُنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلَيتَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1361 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ یوم موعود قیامت کا دن ہے اور یوم مشہود عرفے کا دن ہے اور شاہد جمعے کا دن ۱∞؎جمعہ سے بہترکسی دن پر آفتاب طلوع نہیں ہوا ۲؎اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مؤمن الله سے دعا ئے خیر کرتے ہوئے نہیں پاتا مگر الله اسے قبول کرتا ہے اور کسی چیز سے پناہ نہیں مانگتا مگر الله اسے پناہ دیتا ہے ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔موسیٰ ابن عبیدہ کے سوا کسی حدیث سے پہچانی نہ گئی اور وہ ضعیف مانے جاتے ہیں۴؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلیٰ يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللهُ لَهٗ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهٗ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسٰى بْنِ عُبَيْدَةَ وَهُوَ يُضَعَّفُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1362 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابولبابہ ابن عبدالمنذر سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعہ کا دن الله کے نزدیک تمام دنوں کا سردار اور تمام سے بڑا ہے اور وہ الله کے نزدیک عید بقر اور عیدالفطر کے دنوں سےبھی بڑا ہے ۲؎اس میں پانچ اوصاف ہیں الله نے حضرت آدم کو اس میں پیدا کیا اور الله نے اس میں حضرت آدم کو زمین کی طرف اتارا اسی میں الله نے حضرت آدم کو وفات دی اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے جس میں بندہ کوئی شےنہیں مانگتا مگر رب اسے دیتا ہے جب تک کہ حرام چیز نہ مانگے۳؎اسی میں قیامت قائم ہوگی کوئی مقرب فرشتہ آسمان،زمین،ہوائیں،پہاڑ،دریا ایسے نہیں جو جمعے کے دن سے خوف نہ کرتے ہوں۴؎(ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَ أَعْظَمُهَا عِنْدَ اللهِ وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحٰى وَيَوْمِ الْفِطْرِ فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللهُ فِيهِ آدَمَ وَأَهْبَطَ اللهُ فِيهِ آدَمُ إِلَى الأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللهُ آدَمَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا هُوَ مُشْفِقٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1363 ، باب : جمعہ کا بیان

اور احمد نے سعد ابن معاذ سے یوں روایت کی کہ ایک انصاری نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ہمیں جمعہ کے دن کے بارے میں خبر دیجئے کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں ۱∞؎تو فرمایا اس میں پانچ صفتیں ہیں اور آخر حدیث تک نقل کی۔

وَرَوٰى أَحْمَدُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: «فِيهِ خَمْسُ خِلَاْلٍ» وسَاقَ اِلٰی ا ٰخِرِ الحَدِيْثِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1364 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں عرض کیا گیا رسول کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہ کس وجہ سے اس دن کا نام جمعہ رکھا گیا فرمایا اس لیئے کہ اس میں تمہارے والد حضرت آدم کی مٹی جمع کی گئی ۱∞؎اسی میں بے ہوشی اور اٹھنا ہے اسی میں پکڑ ہے ۲؎اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایسی گھڑی ہے جو اس میں الله سے دعا مانگے اس کی قبول ہو۳؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيهَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللهَ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهٗ » . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1365 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر جمعہ کے دن درود زیادہ پڑھو کیونکہ یہ حاضری کا دن ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱∞؎اور مجھ پرکوئی درود نہیں پڑھتا مگر اس کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے حتی کہ اس سے فارغ ہوجائے ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کیا موت کے بعد بھی فرمایا کہ الله نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کردیا ہے ۳؎لہذ الله کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتےہیں ۴؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهٗ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ المَلَائِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهٗ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهَا» قَالَ: قُلْتُ: وَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ:«إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ يُرْزَقُ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1366 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو مگر اسے الله عذاب قبر سے محفوظ رکھتا ہے ۱∞؎(احمدوترمذی)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے کہ اس کی اسناد متصل نہیں۲؎

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِل

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1367 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی "اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"الایۃآپ کے پاس ایک یہودی تھا وہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ قَرَأَ: (اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ)الْآيَةَ وَعِنْدَهٗ يَهُودِيٌّ فَقَالَ: لَوْ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيْدَيْنِ فِي يَوْم جُمُعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1368 ، باب : جمعہ کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رجب آتا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے الٰہی ہمیں رجب اور شعبان میں برکت دے ا ور ہمیں رمضان تک پہنچا ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضور فرماتے تھے جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمک دار دن ہے ۲؎(بیہقی نےدعوات کبیرمیں)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ» قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: «لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ لَيْلَةٌ أَغَرُّ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمٌ أَزْهَرُ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1369 ، باب : جمعہ کا بیان