باب : جماعت اور اس کی فضیلت

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا ہے کہ نماز کے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم ہو یا بیمار ۱؎بیمار بھی دو شخصوں کے درمیان چلتا حتی کہ نماز میں آتا ۲؎آپ نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں سنت ہدی سکھائیں اور سنت ہدی میں سے اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان ہو۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ کل الله سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچ نمازوں پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے۴؎کیونکہ الله نے تمہارے نبی کے لیے سنت ہدی مشروع کیں اور یہ نمازیں بھی سنت ہدیٰ سے ہیں ۵؎اور اگر تم اپنے گھر وں میں نماز پڑھ لیا کرو جیسے کہ یہ پیچھے رہنے والے گھر میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے ۶؎ایسا کوئی شخص نہیں جو خوب طہارت کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر الله اس کے لیئے ہر قدم کے عوض جو ڈالتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے ۷؎ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ نماز سے وہ منافق ہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہو، بعض آدمیوں کو دو شخصوں کے درمیان لایا جاتا تھا حتی کہ صف میں کھڑا کیا جاتا ۸؎(مسلم)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهٗ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتّٰى يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدٰى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ وَفِي رِوَايَةٍ: " مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلٰى هٰذِہِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادٰى بِهِنَّ فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدٰى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدٰى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهٖ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلٰى مَسْجِدٍ مِنْ هٰذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهٗ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَرَفَعَهٗ بِهَا دَرَجَةً وحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتٰى بِهٖ يُهَادٰى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتّٰى يُقَام فِي الصَّفِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1072 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا اگر گھروں میں عورتیں بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء قائم کرتا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں کی چیزوں کو آگ سے جلادیں ۱؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1073 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب تم مسجد میں ہو اور نمازکی اذان دی جائے تو تم میں سے کوئی نماز پڑھے بغیر نہ نکلے ۱؎

وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُصَلِّيَ. رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1074 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابو شعشاء سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے نکل گیا تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ اس شخص نے ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا أُذِّنَ فِيهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هٰذَا فَقَدَ عَصٰى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1075 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اذان مسجد میں پالے پھر وہ نکل جائے نہ نکلا ہو کسی کام کے لیئے نہ وہ لوٹنے کا ارادہ کرتا ہو وہ منافق ہے ۱؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرّجْعَةَ فَهُوَ مُنَافِقٌ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1076 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اذان سنے پھر اسے بلا عذر قبول نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ۱؎(دارقطنی)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَا صَلَاةَ لَهٗ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1077 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ام مکتوم سے انہوں نے عرض کیا یارسول الله مدینہ بہت کیڑوں اور درندوں والا ہے ۱؎اور میں نابینا ہوں تو کیا آپ میرے لیے اجازت پاتے ہیں ۲؎فرمایا کیا تم "حی علی الصلوۃ،حی علی الفلاح" سنتے ہو ۳؎عرض کیا ہاں فرمایا آؤ اور انہیں اجازت نہ دی۴؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الفَلَاحِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَحَيَّ هَلًا» . وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهٗ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1078 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا الله کی قسم میں محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أم الدَّرْدَاء قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ؟ قَالَ: وَاللهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1079 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے صبح کی نماز میں سلیمان ابن ابی حثمہ کو نہ پایا ۱؎پھر جناب عمر بازار تشریف لے گئے سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء پر گزرے ان سے فرمایا کہ میں نے سلیمان کو فجر میں نہ پایا ۲؎وہ بولیں وہ تمام رات نماز پڑھتے رہے پھر ان کی آنکھ لگ گئی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا فجر کی جماعت میں حاضر ہوجانا تمام رات کھڑے رہنے سے مجھے زیادہ پیارا ہے۳؎(مالک)

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عُمَرَ غَدَا إِلَى السُّوقِ وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوقِ فَمَرَّ عَلَی الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ فَقَالَتْ إِنَّهٗ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ أَشْهَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَة أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1080 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دو اور دو سے زیادہ جماعت ہیں ۱؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جمَاعَةٌ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1081 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت بلال ابن عبد الله ابن عمر سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عورتوں کو ان کے مسجدوں کے حصوں سے نہ روکو جب تم سے اجازت مانگیں ۲؎یوں بلال بولے کہ خدا کی قسم ہم تو روکیں گے۳؎تب ان سے حضرت عبد الله نے کہا میں تو کہتا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ہم ان کو روکیں گے۔

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ» . فَقَالَ بِلَالٌ:وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ لَهٗ عَبْدُ اللهِ : أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتقول أَنْتَ لَنَمنَعهُنَّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1082 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

اور سالم کی روایت میں اپنے والد سے ۱؎یوں ہے کہ فرمایا تب عبد الله ان پر متوجہ ہوئے اورا نہیں ایسی گالی دی جیسی گالی دیتے انہیں کبھی نہ سنا تھا۲؎اور فرمایا کہ میں تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خبر دیتا ہوں اورتو کہتا ہے کہ خداکی قسم ہم تو انہیں منع کریں گے۳؎(مسلم)

وَفِي رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ فَسَبَّهٗ سَبًّا مَا سَمِعْتُ سَبَّهٗ مِثْلَهٗ قَطُّ وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللهِ لَنَمْنَعْهُنَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1083 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت

روایت ہے حضرت مجاہد سے وہ حضرت عبد الله ابن عمر سے راوی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے تو عبد الله ابن عمر کے بیٹے نے کہا ہم تو انہیں روکیں گے تو حضرت عبدالله نے کہا کہ میں تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تو یہ کہتا ہے،فرماتے ہیں کہ ان سے حضرت عبد الله نے مرتے دم تک کلام نہ کیا ۱؎(احمد)

وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهٗ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ».فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا كَلَّمَهٗ عَبْدُ اللهِ حَتّٰى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1084 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت