- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
باب : جماعت اور اس کی فضیلت
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جماعت کی نماز اکیلی نماز پر ستائیس درجے افضل ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاة الْفَذِّ بِسَبْعِ وَعِشْرِيْنَ دَرَجَةً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1052 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو جمع کی جائیں پھر نمازکا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے پھر کسی کوحکم دوں وہ لوگوں کی امامت کرے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں ۱؎جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ۲؎ان کے گھر جلادوں ۳؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کُھر پائے گا تو عشاء میں ضرور آتا ۴؎(بخاری)اور مسلم کی روایت اس کی مثل ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰى رِجَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهٗ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلِمُسْلِم نَحوه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1053 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں نابینا شخص حاضر ہوا عرض کیا یارسول الله میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو مجھے مسجد تک لائے اس نے حضور انور صلی الله علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں حضور نے انہیں اجازت دے دی جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو قبول کرو ۱؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمٰى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهٗ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى المَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهٗ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهٖ فَرَخَّصَ لَهٗ فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَأَجِبْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1054 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ انہوں نے ایک ٹھنڈی اور ہوا والی رات میں نماز کی اذان کہی پھر فرمایا کہ گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب ٹھنڈی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ یوں کہے کہ نماز گھروں میں پڑھ لو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ قَالَ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1055 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کا کھانا سامنے رکھا جائے اور نماز کی تکبیر کہی جائے تو کھانے سے ابتداء کرو اور کھانے سے فارغ ہونے تک جلدی نہ کرے ۱؎ اور حضرت ابن عمر کے سامنے کھانا رکھا جاتا اور نماز کی تکبیر ہوتی تو کھانے سے بغیر فارغ ہوئے نماز کو نہ آتے حالانکہ آپ امام کی قرأت سنتے ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ وَلَا يَعْجَلْ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهُ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهٗ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَلَا يَأْتِيهَا حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهُ وَإِنَّهٗ لِيَسْمَعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1056 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو کھانے کی موجودگی میں نماز ہوتی ہے نہ اس حالت میں کہ نمازی کو پیشاب پاخانہ دفع کرنے ہوں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ طَعَامٍ وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1057 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب نماز کی تکبیر ہو تو سوائے فرائض کے اور کوئی نماز نہیں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1058 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد آنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى المَسْجِدِ فَلَا يمْنَعهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1059 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے زینب زوجہ عبد الله ابن مسعود سے فرماتی ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو خوشبو نہ لگائے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمُسُّ طِيْباً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1060 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو عورت دھونی کی خوشبو لے وہ ہمارے ساتھ دوسری عشاء میں حاضر نہ ہوئے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعشَاءَ الْآخِرَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1061 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنی بیویوں کو مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۱؎(ابوداؤد)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1062 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عورت کی نماز اپنے گھر میں صحن میں نماز سے افضل ہے ۱؎اور اس کی نماز کوٹھڑی میں،گھر میں نماز سے افضل ہے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1063 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس عورت کی نماز قبول نہیں جو مسجد کے لیئے خوشبو لگائے ۱؎جب کہ جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے ۲؎(ابوداؤد)احمد و نسائی نے ا سکی مثل۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتّٰى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوٰى أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1064 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہر آنکھ زنا کار ہے ۱؎اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس پرگزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے ۲؎(ترمذی) ابوداؤد اور نسائی کی روایت اسی طرح ہے۔
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ وَإِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا» . يَعْنِي زَانِيَةً.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1065 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں ایک دن ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں ۱؎فرمایا یہ دونوں نمازیں منافقوں پر دوسری نمازوں سے بھاری ہیں ۲؎اور اگر تم جانتے کہ ان میں کیا ثواب ہے تو گھٹنوں پر گھسٹتے ہوئے بھی ان میں پہنچتے ۳؎اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے ۴؎اور اگر جانتے کہ اس کی بزرگی کیا ہے تو اس میں جلدی کرتے اور مرد کی نماز ایک مرد کے ساتھ اکیلے نماز سے بہتر ہے اور دو مردوں کے ساتھ نماز ایک مرد کے ساتھ کی نماز سے بہتر ہے جس قدر لوگ زیادہ ہوں اسی قدر خدا کو پیارے ہیں ۵؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ:«إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَی المُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيهمَا لَأَتَيْتُمُوهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلیٰ مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهٗ لَابْتَدَرْتُمُوه وَإِنَّ صَلَاةَ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكٰى مِنْ صَلَاتِهٖ وَحْدَهٗ وَصَلَاتَهٗ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكٰى مِنْ صَلَاتِهٖ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَأَحَبُّ إِلَى اللهِ ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ َوَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1066 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی جماعت نہ کی جائے تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے ۱؎تم پر جماعت لازم ہے بھیڑیا دور والے جانور ہی کو کھاتا ہے۲؎(احمد، ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ».رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1067 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مؤذن کی اذان سنے اور اس کی اطاعت سے کوئی عذر منع نہ کرے لوگوں نے کہا عذر کیا ہے فرمایا ڈریا بیماری تو اس کی وہ نماز قبول نہ ہوگی جو گھر میں پڑھے ۱؎(ابوداؤد)اور دارقطنی۔
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهٖ عُذْرٌ» قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلّٰى » . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1068 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبد الله ابن ارقم سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب نماز کی تکبیر ہو اورتم میں سے کوئی پاخانے کی حاجت پائے تو پہلے پاخانے جائے ۲؎(ترمذی) مالک اور ابوداؤ ود نسائی نے اس کی مثل)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوٰى مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحوَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1069 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین کام وہ ہیں جو کسی کو کرنا جائز نہیں ایسا شخص قوم کی امامت ہرگز نہ کرے کہ دعا میں اپنے آپ کو خاص کرے انہیں چھوڑ کر ۱؎اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی اور اجازت سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی ۲؎اور پیشاب پاخانے سے بھاری آدمی نماز نہ پڑھے حتی کہ ہلکا ہوجائے۔ (ابوداؤد)ترمذی نے اس کی مثل ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهٗ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ. وَلَا يَنْظُرْ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتّٰى يَتَخَفَّفَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَلِلتِّرْمِذِي نَحوَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1070 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز کو کھانے وغیرہ کی وجہ سے دیر نہ لگاؤ ۱؎ (شرح سنہ)∞
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لغيره» . رَوَاهُ فِي شَرحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1071 ، باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- 1
- 2