- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت کعب ابن عجرہ ملے ۲؎تو بولے کہ کیا میں تمہیں وہ ہدیہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے کہا ہاں وہ ہدیہ مجھے ضرور دیں ۳؎تو فرمایا کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا عرض کیا یارسول الله آپ کے اہل بیت پر دورد کیا ہے الله نے یہ تو ہمیں سکھا دیا کہ آپ پر سلام کیسے عرض کریں ۴؎فرمایا یوں کہو اے الله محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج ۵؎جیسے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں کیں بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۶؎اے الله حضور محمد و آل محمد پر ایسی ہی برکتیں بھیج جیسی برکتیں حضرت ابراہیم و آل ابراہیم پر اتاریں ۷؎بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۸؎(مسلم و بخاری) مگر مسلم نے دونوں جگہعلیٰ ابراھیمکا ذکر نہ کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلٰی فَأَهْدِهَا لِي فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ قَالَ: «قُولُوا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلَی ال مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی ال إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَوْضِعِيْنِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 919 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حصرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ۱؎تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہو اے الله حضور محمد اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد پر ویسی ہی رحمتیں بھیج جیسی آل ابراہیم پر بھیجیں اور حضور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر یوں ہی برکتیں نازل کر جیسے آل ابراہیم پر اتاریں تو حمد و بزرگی والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولُوا: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 920 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اس پر الله دس رحمتیں کرے گا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ عَشْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 921 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مجھ پر ایک درود پڑھے گا الله اس پر دس رحمتیں کرے گا اور اس کے دس گناہ معاف کیئے جائیں گے اور اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے ۱؎(نسائی)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِياتٍ وَرُفِعَتْ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 922 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت میں مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 923 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله کے کچھ فرشتے زمین میں سیر و سیاحت کرتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۱؎(نسائی، دارمی)
وَعَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ لِلّٰهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 924 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر کوئی شخص سلام نہیں بھیجتا مگر الله مجھ پر میری روح لوٹاتا ہے حتی کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں ۱؎(ابوداؤد، بیہقی ، دعوات کبیر )
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتّٰى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 925 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اپنے گھر قبور نہ بناؤ ۱؎اور میری قبر کو عید نہ بناؤ۲؎اور مجھ پر درود بھیجا کرو کہ تمہارا درود مجھے پہنچتا ہے تم جہاں بھی ہو۳؎(نسائی)
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ » . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 926 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود نہ پڑھے ۱؎اس کی ناک گرد آلود ہو جس پر رمضان آئے پھر اس کی بخشش سے پہلے گزر جائے اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک بڑھاپا پائے اور اسے جنت میں نہ پہنچائیں ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهٗ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهٗ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهٗ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ أَوْ أَحَدُهُمَا فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 927 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور خوشی آپ کے چہرے انور میں تھی فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل آئے عرض کیا کہ آپ کا رب فرماتا ہے اے محمد کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی امتی تم پر ایک بار درود نہ بھیجے مگر میں اس پر دس رحمتیں کروں اور آپ کا کوئی امتی آپ پر سلام نہ بھیجے مگر میں اس پر دس سلام بھیجوں ۲؎(نسائی،دارمی)۳؎
وَعَنْ أَبِيْ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرُ فِي وَجْهِهٖ فَقَالَ: إِنَّهٗ جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 928 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ پر بہت درود پڑھتا ہوں تو درود کتنا مقررکروں ۱؎فرمایا جتنا چاہو، میں نے کہا چہارم فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا آدھا فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا دو تہائی تو فرمایا جتنا چاہو لیکن اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے۲؎میں نے کہا میں سارا درود ہی پڑھوں گا۳؎فرمایا تب تو تمہارے غموں کو کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۴؎(ترمذی)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ: «مَا شِئْتَ» قُلْتُ: الرُّبُعَ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قُلْتُ: النِّصْفَ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا قَالَ: «إِذًا يَكْفِىْ هَمَّكَ وَيُكَفِّرُ لَك ذَنْبَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 929 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی پھر کہا الٰہی مجھے بخش دے اور رحم کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی تو نے جلدی کی جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو الله کی حمد کر جس کے وہ لائق ہے اور مجھ پر درود بھیج پھر دعا کر۲؎فرماتے ہیں اس کے بعد دوسرے شخص نے نماز پڑھی پھر الله کی حمد اور نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجا تو فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی مانگ قبول ہوگی ۳؎ترمذی،ابوداؤد،نسائی نے اس کی مثل روایت کی ۴؎
وَعَنْ فُضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهٗ وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ» . قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی رَجُلٌ اٰخَرُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَحَمِدَ اللهَ وَ صَلّٰى عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوٰى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 930 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلی الله علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر آپ کے ساتھ تھے ۱؎جب میں بیٹھا تو الله کی حمد سے ابتداء کی پھر نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف پھر میں نے اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مانگ لے دیا جائے گا مانگ لے دیا جائے گا ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مَعَهٗ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَی اللهِ تَعَالٰى ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 931 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جسے پسند ہو کہ اس کو پوری ناپ ملے ۱؎تو جب ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو کہے الٰہی اُمی نبی حضور محمد پر ۲؎اور مسلمانوں کی ماؤں یعنی حضور کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر اور اہل بیت پر۳؎رحمت بھیج جیسے آل ابراہیم پر تو نے رحمت بھیجی ۴؎تو حمد و بزرگی والا ہے۔(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفٰى إِذَا صَلّٰى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ النَّبِيِِّ الْاُمِّیِّ وَأَزْوَاجِهٖ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِہٖ وَأَهْلِ بَيْتِهٖ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اٰلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيدٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 932 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی الله علیہ وسلم نے بڑا کنجوس وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۱؎(ترمذی) احمد نے حسین ابن علی سے روایت کی اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۲؎
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْبَخِيلُ الَّذِي ذُكِرْتُ عِنْدَهٗ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 933 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھے گا میں سنوں گا اور جو دور سے مجھ پر درود پڑھے گا مجھے پہنچایا جائے گا ۱؎(بیہقی نے شعب الایمان میں)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهٗ وَمَنْ صَلّٰى عَلَيَّ نَائِيًا أُبْلِغْتُهُ» .رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 934 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ جو نبی صلی الله علیہ وسلم پر ایک بار درود پڑھے گا تو اس پر الله اور فرشتے ستر بار درود بھیجیں گے (احمد)۱؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَنْ صَلّٰى عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهٗ سَبْعِينَ صَلَاةً. رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 935 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حصرت رویفع سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو حضور محمد پر درود پڑھے اور کہے الٰہی انہیں قیامت کے دن اپنے قریب ٹھکانے میں اتار ۲؎تو اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہوگئی (احمد)
وَعَنْ رُوَيْفِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلّٰی عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَقَالَ: اَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِي . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 936 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ایک باغ میں پہنچے تو بہت دراز سجدہ کیا ۱؎حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ الله تعالٰی نے آپ کو وفات دے دی ہو فرماتے ہیں میں آکر دیکھنے لگا تو آ پ نے سر اٹھایا فرمایا کیا ہے تو میں نے یہ عرض کیا۲؎تب فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ الله آپ سے فرماتا ہے جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت کروں گا اور جو آپ پر سلام کہے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا۳؎(احمد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتّٰى خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ تَعَالٰى قَدْ تَوَفَّاهُ. قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «مَا لَكَ» فَذَكَرْتُ لَهٗ ذٰلِكَ . قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي: أَلا أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلّٰی عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 937 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اس سے کوئی چیز نہیں چڑھتی حتی کہ تم اپنے نبی پر درود بھیجو ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْہا شَيْءٌ حَتّٰى تُصَلِّيَ عَلٰی نَبِيِّكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 938 ، باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت