با ب : چاشت کی نماز

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں تشریف لائے آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱∞؎میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کوئی نہ دیکھی بجز اس کے کہ آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے ۲؎اور دوسری روایت میں فرمایا یہ چاشت کا وقت تھا۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَ صَلّٰى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهٗ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. وَقَالَتْ فِيْ رِوَايَةٍ أُخْرٰىٰ: وَذٰلِكَ ضُحًى ( مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1309 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت معاذہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نماز چاشت کتنی پڑھتے تھے فرمایا چار رکعتیں اور جو الله چاہتا وہ پڑھتے تھے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحٰى؟ قَالَتْ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1310 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے پس ہر تسبیحہ صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور ہرتکبیر صدقہ ہے ۱∞؎اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يُصْبِحُ عَلیٰ كُلِّ سُلَامٰى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذٰلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا من الضُّحٰى» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1311 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ انہوں نے ایک قوم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۱∞؎توفرمایا کہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسری گھڑی(ساعت)میں یہ نماز افضل ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقربین کی نماز جب ہے جب کہ اونٹنی کا بچہ گرم ہوجاتا ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهٗ رَأٰى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحٰى فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هٰذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمِضُ الْفِصَالُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1312 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت ابودرداء اور ابوذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے رب تعالٰی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دن میں میرےلیئے چار رکعتیں پڑھ لے ۱∞؎میں آخر دن تک تیرےلیئے کافی ہوں گا۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَنَّهٗ قَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِيْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ: أَكْفِكَ آخِرَهٗ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1313 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت ابودرداء اور ابوذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے رب تعالٰی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دن میں میرےلیئے چار رکعتیں پڑھ لے ۱∞؎میں آخر دن تک تیرےلیئے کافی ہوں گا۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَنَّهٗ قَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِيْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ: أَكْفِكَ آخِرَهٗ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1314 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ انسان میں تین سو ساٹھ جوڑہیں ۲؎اس پر لازم ہے کہ ہرجوڑ کی طرف سے ایک صدقہ دے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ طاقت کس میں ہے۳؎فرمایا مسجد کا تھوک دفن کردو،تکلیف دہ چیز رستے سے ہٹاد و۴؎اگر یہ نہ پاؤ تو چاشت کی دو رکعتیں تمہیں کافی ہیں ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذٰلِكَ يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ: «النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفَنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنْ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحٰى تُجْزِئُكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1315 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھ لے تو الله اس کےلیئے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف اس اسناد سے پہنچانتے ہیں ۲؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى الضُّحٰى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1316 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت معاذ ابن انس جہنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو شخص جب نماز فجر سے فارغ ہو تو اپنے مصلےٰ میں بیٹھا رہے حتی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے ۱∞؎تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهٗ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتّٰى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحٰى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا غُفِرَ لَهٗ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زُبْدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1317 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اشراق کی دو رکعتوں پر پابندی کرے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر جھاگ جتنے ہوں ۱∞؎(احمد، ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ حَافَظَ عَلیٰ شُفْعَةِ الضُّحٰى غُفِرَتْ لَهٗ ذنُوبُهٗ وَإِن كَانَت مِثْلَ زُبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1318 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ آپ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتی تھیں پھر فرماتیں کہ اگر میرے ماں باپ اٹھا بھی دیئے جائیں تو میں یہ رکعتیں نہ چھوڑوں ۱∞؎(مالک)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحٰى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ: «لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَكْتُهُمَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1319 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم چاشت پڑھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور چھوڑے ر ہتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ پڑھیں گے ہی نہیں ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحٰى حَتّٰى نَقُولَ: لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتّٰى نَقُولَ: لَا يُصَلِّيْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1320 ، با ب : چاشت کی نماز

روایت ہے حضرت مورق عجلی سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ کیا آپ چاشت پڑھتے ہیں فرمایا نہیں میں نے عرض کیا عمر فاروق فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اچھا ابوبکر صدیق فرمایا نہیں ۱∞؎میں نے کہا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرمایا مجھے آپ کا خیال نہیں ۲؎(بخاری)

وَعَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: تُصَلِّي الضُّحٰى؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَا أُخَالُهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1321 ، با ب : چاشت کی نماز