باب :بارش مانگنے کابیان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہےحضرت عبد الله ابن زید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم لوگوں کو دعائے بارش کےلیئےعیدگاہ لے گئے تو انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جن میں آواز سے قرأت کی اور دعا مانگتے ہوئے قبلہ رو ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور جب قبلہ کو منہ کیا تو اپنی چادر الٹی ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ إِلَى المُصَلّٰى يَسْتَسْقِي فَصَلّٰى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهٗ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1497 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم استسقاء کے سواکسی دعا میں بہت اونچے ہاتھ نہ اٹھاتے ۱∞؎استسقاءمیں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهٖ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهٗ يَرْفَعُ حَتّٰى يُرٰى بَيَاضُ إِبطَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1498 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی تو اپنے ہاتھوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْہُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقٰى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1499 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تو عرض کرتے الہی بہت اور نافع بارش ہو۱∞؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى المَطَرَ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا” . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1500 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش برسی فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنا کپڑا شریف ہٹادیا تا آنکہ آپ پر کچھ بارش پڑگئی ہم نے عرض کیا یارسول الله آپ نے یہ کیوں کیا فرمایا کہ یہ ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهٗ حَتّٰى أَصَابَهٗ مِنَ الْمَطَرِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ:”لِأَنَّهٗ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ”. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1501 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں دعائے بارش کی اور جب قبلہ رو ہوئے تو اپنی چادر پلٹی کہ اس کا دایاں کنارہ اپنے بائیں کندھے پر ڈال دیا اور بایاں کنارہ دائیں کندھے شریف پر پھر الله سے دعا کی ۱∞؎(ابوداؤد)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المُصَلّٰى فَاسْتَسْقٰى وَحَوَّلَ رِدَاءَهٗ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلیٰ عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلیٰ عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ دَعَا اللهَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1502 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے انہی سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کی آپ پر کالاکمبل تھا آپ نے چاہا کہ اس کا نچلا حصہ لےکر اوپرکرلیں جب یہ بھاری پڑا تو اسے اپنے کندھوں پرہی لیا ۱∞؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْہُ قَالَ: اسْتَسْقٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهٗ سَوْدَاءُ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْفَلَهَا فَيَجْعَلَهٗ أَعْلَاهَا فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَّبَهَا عَلیٰ عَاتِقَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1503 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت عمیر سے جو کہ آبی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱∞؎کہ انہوں نے زوراء کے قریب احجارالزیت کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دعائے بارش کرتے دیکھا ۲؎آپ کھڑے ہوئے دعائیں کررہے تھے،اپنے چہرہ مبارک کے سامنے ہاتھ اٹھائے بارش مانگ رہے تھے ان ہاتھوں کو سر سے اونچا نہ کرتے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلىٰ آبي اللَّحْمِ أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهٖ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهٗ .رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُ وَالنَّسَائِيُّ نَحوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1504 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1505 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب بارش کی دعا کرتےتو کہتے الٰہی اپنے بندوں اپنے جانوروں کو سیراب کر اپنی رحمت پھیلا دے اپنے مردہ شہرکو زندہ کردے ۱∞؎(مالک،ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَسْقٰى قَالَ: “اَللّٰهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهِيمَتَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1506 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھائے دیکھا ۱∞؎فرماتے تھے الٰہی ہمیں ایسے بادل سے سیراب کر جوسیرکرنے والا نقصان نہ دینے والا،فراخی پیداکرنے والا،نفع بخش غیر مضرہوفورًا آئے دیر نہ ہوفرمایا کہ فورًا ہی ان پر آسمان گھر گیا۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاكِئُ فَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مُرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ” . قَالَ: فَأُطْبِقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1507 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بارش رک جانے کی شکایت کی ۱∞؎تو منبر کا حکم دیا جوعیدگاہ میں بچھادیا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جب لوگ نکلیں ۲؎ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب سورج کا کنارہ چمکا تو تشریف لے گئے منبر پر بیٹھے الله کی تکبیر و حمد کی پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے شہر کے قحط کی بارش کے وقت سے ہٹ جانے کی شکایت کی الله نے تمہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور تم سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ۳؎یعنی فرمایا تمام تعریفیں الله رب العلمین کی ہیں جو مہربان رحم والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے الله کے سواءکوئی معبودنہیں جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے الہی تو الله ہے تیرے سواءکوئی معبودنہیں تو بے پروا ہے ہم فقیر ہیں ہم پر بارش برسا اور جو تو اتارے اسے ہمارےلیئے قوۃ اور مطلوب تک پہنچنےکا ذریعہ بنا ۴؎پھر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اٹھاتے رہے حتی کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہرہوگئی پھرلوگوں کی طرف اپنی پشت کی اور اپنی چادرپلٹی حالانکہ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے پھرلوگوں پرمتوجہ ہوئے منبرسے اترے دو رکعتیں پڑھیں ۵؎الله نے ایک بادل پیدا کیا جو الله کے حکم سےگرجاچمکا پھر برسا آپ مسجد تک نہ آنے پائے تھے کہ سیلاب بہہ گئے جب حضور نے لوگوں کو پناہ کی طرف دوڑتے دیکھا تو ہنسے حتی کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۶؎پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ الله ہر چیز پرقادر ہے اور میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۷؎(ابوداؤد)

عَن عَائِشَة قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهٗ فِي الْمُصَلّٰى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَی المِنْبَرِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ أَبَّانِ زَمَانِهٖ عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ” . ثُمَّ قَالَ: “الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ. أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلٰى حِينٍ” ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتّٰى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهٗ وَقَلَّبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهٗ وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهٗ حَتّٰى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأٰى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الكَنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى بَدَت نَوَاجِذُهٗ فَقَالَ: “أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1508 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر ابن خطاب جناب عباس ابن عبدالمطلب کے توسل سے دعائے بارش کرتے ۱∞؎اور عرض کرتے الٰہی ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کا وسیلہ پکڑتے تھے تو بارش بھیجتا تھا اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ پکڑتے ہیں ۲؎ہم پر بارش بھیج تو لوگ سیراب کیئے جاتے تھے۳؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا. قَالَ: فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1509 ، باب :بارش مانگنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا جماعت انبیاء میں ایک نبی دعائے بارش کےلیئے لوگوں کو باہر لے گئے ایک چیونٹی پرگزرے جو اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئےتھی آپ نے فرمایا لوٹ چلو اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول ہوگئی ۱∞؎(دارقطنی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَرَجَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي فَإِذا هُوَ بِنَمْلَةٍ رَافِعَةٍ بَعْضَ قَوَائِمِہا إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ارْجِعُوا فَقَدِ اسْتُجِيبَ لَكُمْ من أجل هٰذِه النَّمْلَةِ ". رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1510 ، باب :بارش مانگنے کابیان