- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
باب : پانیوں کے احکام کا باب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل کرے گا ۱؎(مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا تم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ٹھہرے پانی میں غسل نہ کرے لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ پھر کیا کرے فرمایا اس میں سے لے لے۲؎
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِيْ لَا يجْرِيْ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "لَا يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ.وَهُوَ جُنُبٌ". قَالُوا: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهٗ تَنَاوُلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 474 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں منع فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ٹھہرے پانی میں پیشاب کیا جائے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 475 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے ۱؎فرمایامجھے میری خالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں عرض کیایارسول الله میرا بھانجا بیمار ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیئے دعائے برکت کی ۲؎پھر وضو فرمایا میں نے وضو کا پانی پیا۳؎پھر میں آپ کے پس پشت کھڑا ہوا تو میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ کے کندھوں کے درمیان مسہری کی گھنڈی کی طرح تھی۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدٍ قَالَ: ذَهَبَتْ بِيْ خَالَتِيْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنَ أُخْتِيْ وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِيْ، وَدَعَا لِيْ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ،فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهٖ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 476 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو میدانی زمین میں ہو اور اس پر چو پائے اور درندےآتے ہوں فرمایا جب پانی دوقلے ہوتو گندگی کو نہیں اٹھاتا(احمد،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ نجس نہیں ہوتا ۱؎
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنُوْبُهٗ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِيْ أُخْرٰى لِأَبِيْ دَاوُدَ: فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 477 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں عرض کیا گیایارسول اللہ کیا ہم بضاعہ کنویں سے وضو کریں ۱؎وہ ایساکنواں تھا جس میں حیض کے لتے کتوں کے گوشت اورگندگیاں ڈالے جاتے تھے ۲؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پانی پاک ہے اسے کوئی چیزناپاک نہیں کرتی ۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد، و نسائی)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقٰى فِيْهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ؟فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمَاءَ طَهُوْرٌ لَا يُنَجِّسُهٗ شَيْءٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 478 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا ایک شخص نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاعرض کیا یارسول الله ہم سمندر میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کیا کریں ۱؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندرکاپانی پاک ہے۲؎اور اس کا مردارحلال۳؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيْلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهٖ عَطِشْنَا، أَفَنتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهٗ، وَالْحِلُّ مَيْتَتُهٗ". رَوَاهُ مَالكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 479 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے ابو زیدسے وہ عبد الله ابن مسعود سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کی رات ۱؎ان سے فرمایا کہ تمہارے برتن میں کیا ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نبیذ ہے۲؎فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا۳؎ابوداؤد، احمد، ترمذی نے زیادہ کیا کہ پھر اس سے وضو فرمایا۔ترمذی کہتے ہیں کہ ابو زید مجہول ہے۴؎
وَعَنْ أَبِيْ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهٗ لَيْلَةَ الْجِنِّ: "مَا فِيْ إِدَاوَتِكَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَبِيْذٌ. قَالَ: "تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو زَيْدٍ مَجْهُولٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 480 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
حضرت علقمہ بروایت صحیح حضرت عبد الله ابن مسعود سے نقل ہے فرماتے ہیں میں جنات کی رات حضور کے ساتھ تھا ہی نہیں٥؎(مسلم)
وَصَحَّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 481 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت کبشہ بنت کعب ابن مالک سے ۱؎آپ ابوقتادہ کے فرزند کی بیوی تھیں۔ابو قتادہ ان کے پاس آئے ۲؎تو انہوں نے ابوقتادہ کے لیئے وضو کا پانی انڈیلا بلی آکر اس سے پینے لگی آپ نے اس کے لیئے برتن جھکادیاحتی کہ اس نے پی لیاکبشہ فرماتی ہیں کہ مجھے ابوقتادہ نے اپنی طرف دیکھتے ہوئے ملاحظہ کیا تو بولے بھتیجی کیا تم تعجب کرتی ہو بولیں ہاں تو فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر پھرنے والے یا پھرنے والیوں میں سے ہے۳؎(مالک،احمد،ترمذی،ابو داؤد، نسائی، ا بن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِيْ قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهٗ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغٰى لَهَا الْإِنَاءَ حَتّٰى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِيْ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِيْنَ يَا ابْنَةَ أَخِيْ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-قَالَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِيْنَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 482 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ابوداؤد ابن صالح ابن دینار سے وہ اپنی والدہ سے راوی کہ ان کی مالکہ نے انہیں ہریسہ دے کر حضرت عائشہ کے پاس بھیجا ۱؎میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا مجھے اشارہ کیا کہ رکھ دو۲؎ایک بلی آئی جو اس میں سے کھاگئی جب حضرت عائشہ نماز سے فارغ ہوئیں تو آپ نے وہاں سے ہی کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا۔فرمانے لگیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر گھومنے والوں سے ہے۳؎اور میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۴؎(ابوداؤد)
وَعَن دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِيْنَارٍ عَنْ أُمِّهٖ أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيْسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّيْ فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيْهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ مِنْ صَلَاتِهَا أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّها مِنَ الطَّوَّافِيْنَ عَلَيْكُمْ". وَإِنِّيْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 483 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے جوٹھے سے وضو کرلیں فرمایا ہاں اور اس سے بھی جنہیں تمامی درندوں نے بھی جوٹھا کیا ۱؎(شرح سنہ)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ كُلُّهَا". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 484 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ام ہانی سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ نے اس لگن سے وضو کیا جس میں گندھے آٹے کا اثر تھا۲؎(نسائی و ابن ماجہ)
وَعَنْ أُمِّ هَانِئ قَالَتْ: اغْتَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَمَيْمُونَةُ فِيْ قَصْعَةٍ فِيْهَا أَثَرُ الْعَجِيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 485 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت یحیی ابن عبدالرحمان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس قافلہ میں تشریف لے گئے جن میں حضرت عمرو ابن عاص تھے حتی کہ ایک حوض پر پہنچے تو عمرو نے کہا اے حوض والے کیا تیرے حوض پر درندے ہوتے ہیں؟۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا اے حوض والے نہ بتانا کیونکہ ہم درندوں پر اور درندے ہم پر آتے ہیں ۲؎(مالک)
عَن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ خَرَجَ فِيْ رَكْبٍ فِيْهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتّٰى وَرَدُوْا حَوْضًا، فَقَالَ عَمْرٌو: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا، فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا. رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 486 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
اور رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ کہا کہ بعض راویوں نے حضرت عمر کے فرمان میں یہ بڑھایا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو درندے اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا اور جو بچ رہا وہ ہماراپانی بھی ہے اورطہارت بھی۱؎
وَزَادَ رَزِيْنٌ قَالَ: زَادَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِيْ قَوْلِ عُمَرَ: وَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَهَا مَا أَخَذَتْ فِيْ بُطُوْنِهَا، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَنَا طَهُوْرٌ وَشَرَابٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 487 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حوضوں کےمتعلق پوچھا گیاجو مکہ اورمدینہ کے درمیان ہیں جن پر درندے کتے اور گدھے سب آتے ہیں ان سے وضو کرنا کیسا فرمایا کہ وہ جو اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا جو بچا وہ ہمارا وہ ہمارے لئے پاک کن ہے ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِيْ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلَابُ وَالْحُمُرُ عَنِ الطُّهْرِ مِنْهَا،فَقَالَ: "لَهَا مَا حَمَلَتْ فِيْ بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 488 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے آپ نے فرمایا کہ دھوپ کے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو اس لئے کہ وہ کوڑھ پیداکرتا ہے ۱؎(دارقطنی)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: لَا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ فَإِنَّهُ يُوْرِثُ البَرْصَ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 489 ، باب : پانیوں کے احکام کا باب