- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب : نمازکے فضائل کاباب
باب : نمازکے فضائل کاباب
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت عمارہ ابن رويبہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص آگ میں ہرگز داخل نہ ہوگا جو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجراورعصر ۱؎(مسلم)
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلّٰى قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا". يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 624 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جودوٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے گا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَلَّى الْبَرْدينِ دَخَلَ الْجَنَّةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 625 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں رات اور دن کےفرشتے باری باری سے آتے ہیں اورفجراور عصرکی نماز وں میں جمع ہوجاتے ہیں ۱؎پھرجوتم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں ۲؎ان سے ان کا رب پوچھتاہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتاہے کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا ۳؎وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نمازپڑھتے چھوڑا اورجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نمازپڑھ رہے تھے۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوْا فِيْكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ-: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِيْ؟ فيَقُوْلُوْنَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 626 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت جندب قسری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوفجر کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کی امان میں ہے ۱؎لہذا تم سےاللہ اپنی امان کے بارے میں کچھ مواخذہ نہ کرے۲؎کیونکہ اللہ تعالٰی جب کسی سے اپنے عہد کا مواخذہ کرے گا تو اسے پکڑلے گا پھر اسے اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا(مسلم)اورمصابیح کے بعض نسخوں میں بجائے قسری کے قشیری ہے۔
وَعَنْ جُنْدُبٍ الْقَسْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِيْ ذِمَّةِ اللّٰهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللّٰهُ مِنْ ذِمَّتِهٖ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهٗ مِنْ ذِمَّتِهٖ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهٗ، ثُمَّ يَكُبُّهٗ عَلٰى وَجْهِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ "الْمَصَابِيْحِ" الْقُشَيْرِي بَدَلُ الْقَسْرِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 627 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرلوگ جان لیں کہ اذان اورپہلی صف میں کیا ثواب ہے ۱؎پھربغیر قرعہ ڈالے اسے نہ پاسکیں تو قرعہ ہی ڈالیں ۲؎اوراگر جانتے کہ دوپہری کی نمازمیں کیاثواب ہے تو اس کی طر ف دوڑکر آتے ۳؎اوراگرجانتے کہ عشاءاورفجر میں کیا ثواب ہے تو ان میں گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِيْ النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْ التَّهْجيْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْ الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 628 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ منافقوں پرفجراورعشاءسے زیادہ کوئی نمازبھاری نہیں ۱؎ا ور اگرجانتے کہ ان دونوں میں کیا ثواب ہے تو گھسٹ کربھی ان میں پہنچتے۔(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقین مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 629 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازعشاء جماعت سے پڑھے توگویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اور جو فجرجماعت میں پڑھے تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 630 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی لوگ تمہاری مغرب کی نمازکے نام پرغلبہ نہ پاجائیں۔راوی نے فرمایا کہ دیہاتی اسے عشاء کہتے تھے ۱؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتكُمُ الْمَغْرِبِ". قَالَ: "وَتَقُولُ الأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 631 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
اورفرمایا کہ دیہاتی لوگ تمہاری نمازِعشاء کے نام پر غالب نہ آجائیں کیونکہ وہ اللہ کی کتاب میں عشاء ہے ۱؎اور دیہاتی اونٹ کا دودھ دوھنے کی وجہ سے دیر لگاتے ہیں ۲؎(مسلم)
وَقَالَ: "لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلٰى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ الْعِشَاءُ فَإِنَّهَا تُعْتَمُ بِحِلَابِ الإْبِلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 632 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا ۱؎انہوں نے ہمیں بیچ کی نماز یعنی نمازعصرسے روک دیا خدا ان کے گھراورقبریں آگ سے بھر دے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "حَبَسُوْنَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطٰى: صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللّٰهُ بُيُوْتَهُمْ وَقُبُوْرَهُمْ نَارًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 633 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابن مسعود اورسمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچ کی نماز نمازِعصر ہے ۱؎(ترمذی)
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَلَاةُ الْوُسْطٰى صَلَاةُ الْعَصْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 634 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں راوی کہ فجرکی نماز حاضری کا وقت ہے فرمایا اس میں رات اوردن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيْ قَوْلِهٖ تَعَالٰى: {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} قَالَ: "تَشْهَدُهٗ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 635 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت زیدبن ثابت سے اورعائشہ صدیقہ سے فرماتے ہیں کہ بیچ والی نمازظہر ہے ۱؎مالک نے زیدسے اور ترمذی نے ان دونوں سے تعلیقًا روایت کی۲؎
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَة قَالَا: الصَّلَاةُ الْوُسْطٰى صَلَاةُ الظُّهْرِ. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ زَيْدٍ، وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْهُمَا تَعْلِيقًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 636 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
ر وایت ہے زیدابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازظہردوپہری میں پڑھتے تھے ۱؎اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پہ کوئی نماز اس سے زیادہ دشوار نہ تھی تب یہ آیت اتری کہ ساری نمازوں پرخصوصًادرمیانی نماز پرپابندی کرو فرمایا اس سے پہلے دو نمازیں ہیں اوراس کے بعد بھی دو نمازیں ۲؎(احمدوابوداؤد)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّيْ صَلَاةً أَشَدَّ عَلٰى أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْهَا، فَنَزَلَتْ حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰى وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 637 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت علی ابن ابن طالب اورعبداللہ ابن عباس فرماتے تھے کہ درمیانی نمازفجر کی نمازہے ۱؎(مؤطا)
وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُوْلَانِ: اَلصَّلَاةُ الْوُسْطٰى صَلَاةُ الصُّبْح. رَوَاهُ فِيْ "الْمُوَطَّأِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 638 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
اور ترمذی نے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے تعلیقًا روایت کی۔
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ تَعْلِيْقًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 639 ، باب : نمازکے فضائل کاباب
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ جو فجرکی نمازکی طرف گیا وہ ایمان کا جھنڈالے گیا اورجو سویرے ہی بازارکی طرف گیا وہ شیطان کاجھنڈالے گیا ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ غَدَا إِلٰى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 640 ، باب : نمازکے فضائل کاباب